بھارت وکاس اگھاڑی سےبی جےپی نے علاحدگی اختیار کرلی ،بی جےپی کو ساتھ لینے پر کانگریس کے صدر اعجاز بیگ کو پارٹی نے معطل کردیا
EPAPER
Updated: February 04, 2026, 8:26 AM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon
بھارت وکاس اگھاڑی سےبی جےپی نے علاحدگی اختیار کرلی ،بی جےپی کو ساتھ لینے پر کانگریس کے صدر اعجاز بیگ کو پارٹی نے معطل کردیا
وہ ہوگیاجس کی توقع بالکل بھی نہیں تھی۔مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن پر اقتدار سازی کیلئے مضبوط دعویدار انڈین سیکولر لارجسٹ پارٹی اور سماج وادی پارٹی کے ’سیکولر فرنٹ‘کے ساتھ بی جے پی اور کانگریس کی ’بھارت وِکاس اگھاڑی‘تھی۔بھارت وکاس اگھاڑی سے بی جے پی نے علاحدگی اختیار کی اور اگھاڑی ٹوٹ گئی۔ اقتدار کے دعوے داروں نے کیمرے کے سامنے دعوے تو بلند بانگ کردئے لیکن اندرونِ خانہ جو چل رہا ہے اس کے اثرات کیمرے کے سامنے بولنے چہکنے والوں کے ماتھے پر صاف دیکھے گئے۔
مہاراشٹرپردیش کانگریس کا خط
کانگریس کے مقامی صدر اور نومنتخب رکن بلدیہ اعجاز بیگ کو ایک خط ایڈوکیٹ گنیش پاٹل (سینئر نائب صدر پردیش کانگریس)کے نام سے بھیجا گیا ہے۔اس میں لکھا ہے کہ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے آپ (اعجاز بیگ) کو میونسپل کارپوریشن الیکشن میں منتخب اراکین بلدیہ کا ڈیویژنل کمشنر آفس میں گروپ کا رجسٹریشن کانگریس پارٹی کی جانب سے ملنے والی ہدایات کے عین مطابق کروانا تھا ۔ اس کی خلاف ورزی کی گئی۔کانگریس کے احکامات کی پاسداری نہ کرتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ گروپ رجسٹریشن کروایا۔اس کی پاداش میں فوری طور سے کانگریس کی صدارت سے معطل کیا جاتا ہے۔اس خط کے ملنے کے اندرون سات دن تشفی بخش جواب آپ (اعجاز بیگ) کی جانب سے موصول نہ ہونے پر مزید تادیبی کارروائی یقینی ہے۔اسے وجہ بتاؤ (شو کاز ) نوٹس سمجھا جائے۔
ایک الیکشن کے کئی نتیجے!
نمائندہ انقلاب کے تجزیے کے مطابق میونسپل الیکشن ۲۰۲۶ء، اس کے نتائج اور اَب میئر وڈپٹی میئر انتخاب کے منظرنامے سے کئی نتیجے نکلتے ہیں ۔ اول : تیس سال پرانے حریف شیخ آصف اور محمد مستقیم ایک دوسرے سے بغل گیر ہیں ۔ دوم : اعجاز بیگ کے ساتھ پیش آئی صورتحال نے اُن کا سیاسی کریئر داؤ پر لگادیا نیز اُن کے شان دار ماضی کو بھی داغدار کر دیا۔سوم : شہ اور مات کے کھیل میں رُکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی اور یونس عیسیٰ خانوادہ کے درمیان سیاسی ناچاقیاں زبان زد عام ہیں۔
میئر کیلئے ۳؍ اور ڈپٹی میئر کیلئے ۵؍ امیدوار میدان میں
شہری بلدیہ پر اقتدار کی جنگ میں شدت آرہی ہے۔میئر و ڈپٹی میئر الیکشن کیلئے کل تک سیکولر فرنٹ میدان میں حاوی نظر آرہا تھا لیکن ۳؍فروری کی سہ پہر تک مقامی سیاست میں بڑی تبدیلیاں آئیں ۔ اول : شیوسینا (شندے) کی جانب سے میئر و ڈپٹی میئر کے عہدے کیلئے دعویداری کی گئی ۔ سینا نے دونوں عہدوں کیلئے امیدوار بھی نامزد کردیئے۔ دوم : آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے صرف ڈپٹی میئر عہدے کیلئے امیدوارنامزدگی کا عریضہ جمع کروایا گیا ہے۔میئرشپ کیلئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے امیدوار نامزد نہیں ہے ۔
اس صورتحال میں یہ سمجھنا بھی مشکل ہے کہ کون کس کے ساتھ اور کب اقتدار میں شریک ہوجائے ۔ یہ بھی ایک اہم زاویہ ہےکہ کم نشستیں حاصل کرنے والی سیاسی پارٹیوں کے نومنتخب کارپوریٹرحاضر یا غیر حاضر رہیں گے۔ میئروڈپٹی میئرکے انتخاب میں غیر جانبدار تو نہیں رہ جائیں گے ۔ واضح رہے کہ۳ ؍ فروری کی دوپہر۲؍بجے تک میئروڈپٹی میئرالیکشن کیلئے عریضے حاصل کرنے اور نامزدگی پرچے جمع کروانے کا وقت متعین تھا۔
میئر کیلئے نامزد امیدوار
۱- شیخ نسرین بانو محمد خالد(انڈین سیکولر پارٹی)،۲- طاہرہ شیخ رشید(انڈین سیکولر پارٹی)۳- گھوڑکے لتا سکھارام۔ (شیوسینا (شندے))
ڈپٹی میئر کیلئے امیدوار
۱-حافظ عبداللہ مفتی محمد اسماعیل( ایم آئی ایم)۲- نریندر جگن ناتھ سوناؤنے (شیوسینا شندے)،۳-ایڈوکیٹ کاکڑے نلیش ایکناتھ(شیوسینا شندے) ۴- محمد مستقیم محمد مصطفیٰ(سماج وادی پارٹی)،۵- شانِ ہند نہال احمد (سماج وادی پارٹی )۔ واضح رہےکہ مالیگاؤ ں کارپوریشن میں انڈین سیکولر لارجسٹ اسمبلی آف مہاراشٹرکو سب سے زیادہ ۳۵؍ سیٹیں ملی ہیںجبکہ دوسرے نمبر پر۲۱؍ سیٹوں کے ساتھ ایم آئی ایم دوسرے نمبر پر ہے۔شیوسینا (شندے) کے پاس ۱۸؍ سیٹیں ہیں۔سماجوادی پارٹی کے ۵؍ کارپوریٹر ہیںجبکہ کانگریس کے ۳؍ اور بی جے پی کے ۲؍ ہیں۔