شب برأت بم دھماکوں کی ۲۰؍ویں برسی کی مناسبت سے مالیگاؤں کے بڑے قبرستان میں کُل جماعتی تنظیم کے زیر اہتمام علامتی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے کے اختتام پر ایک مطالباتی خط اربابِ اقتدار اور سرکاری انتظامیہ کے نام ارسال کیا گیا۔
EPAPER
Updated: February 04, 2026, 9:45 AM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon
شب برأت بم دھماکوں کی ۲۰؍ویں برسی کی مناسبت سے مالیگاؤں کے بڑے قبرستان میں کُل جماعتی تنظیم کے زیر اہتمام علامتی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے کے اختتام پر ایک مطالباتی خط اربابِ اقتدار اور سرکاری انتظامیہ کے نام ارسال کیا گیا۔
شب برأت بم دھماکوں کی ۲۰؍ویں برسی کی مناسبت سے مالیگاؤں کے بڑے قبرستان میں کُل جماعتی تنظیم کے زیر اہتمام علامتی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے کے اختتام پر ایک مطالباتی خط اربابِ اقتدار اور سرکاری انتظامیہ کے نام ارسال کیا گیا۔اس خط پر ۱۹؍ افراد کے دستخط ہیں۔ان میں نمایاں نام صوفی نورالعین صابری( سنّی جمعیت الاسلام )،شاہد رمضان (جماعت اسلامی)، اخلاق احمد (جمعیۃ علماء) بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ مالیگاؤں کے بڑے قبرستان میں ۸؍ستمبر ۲۰۰۶ء شب برأت کے موقع پر بم دھماکے ہوئے تھے۔ان بم دھماکوں میں ۳۹؍افرادجاں بحق اور ۲۰۰؍سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔بم دھماکوں کی ابتدائی تفتیش مہاراشٹر اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ نے کی۔اس کے بعد سی بی آئی اور اخیر میں این آئی اے کے ذمے تفتیش دی گئی تھی۔ اس موقع پر مظاہرہ میں شامل حافظ عبید الرحمٰن عبدالباری قاسمی (خطیب وامام حمیدیہ مسجد ،بڑا قبرستان) نے کہا کہ بیسویں برسی پر بم دھماکہ مہلوکین کے لواحقین اور زخمیوں کو انصاف کا انتظار ہے۔بم دھماکے کے واقعے کے بعد حصولِ انصاف کی جدوجہد کیلئے عمل میں آئی کل جماعتی تنظیم ابتداسے ہی سے یہ موقف اپنائے ہوئے ہےکہ بم دھماکہ کرنے والے اصل مجرمین کو گرفتار کیاجائے۔مالیگاؤں کے علاوہ پربھنی، جالنہ اور ناندیڑ میں بھی بم دھماکے ہوئے تھے ،ان سارے واقعات کی شفاف طریقے سے جانچ کروائی جائے۔
وہ اہم مطالبات جو اَب تک پورے نہیں ہوسکے
(۱) بم دھماکہ مہلوکین کے وارثین کو سرکاری ملازمت۔ (۲) مہلوکین کے لواحقین کو دی گئی معاوضے کی رقم میں اضافہ۔(۳) بم دھماکے میں اپنوں کو کھودینے والے یتیم بچوں اور بیواؤں اور بے سہارا اہل خانہ کی کفالت کیلئے انتظامات۔ (۴)زخمیوں کیلئے علاج ومعالجے کی مزید سہولیات کی فراہمی (۵) بم دھماکے کے الزام میں پکڑے گئے مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رِہائی کے بعد انہیں مقدمے سے باعزت بَری کرنا۔
کل جماعتی تنظیم کے وہ ذمہ داران جو انتقال کرگئے
(۱) مولانا عبدالحمید ازہری (۲) صوفی غلام رسول قادری (۳) مولانا عبدالباری قاسمی (۴) محمد حنیف صابر(۵)مولانا ابورضوان محمدی(۶) شیخ اکبر اشرفی۔یہ مرحومین لاک ڈاؤن اور کورونا وبائی مرض کی شدت کے ایام میں اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔انہوں نے ۲۰۰۶ء میں کل جماعتی تنظیم کے قیام اور اس کی تحریکی سرگرمیوں میں ہراول دستے کے طور پر کام کیا تھا۔