اقلیتی کمیشن اور مہاراشٹر مائناریٹی کمیشن میں بھی تحریری شکایت کی، کئی سوالات قائم کئے۔ پوچھا کیامتاثرین کو بے گھرکرنے سے قبل حقوق انسانی کو ملحوظ رکھا گیا۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 3:22 PM IST | Saeed Ahmad Khan | Mumbai
اقلیتی کمیشن اور مہاراشٹر مائناریٹی کمیشن میں بھی تحریری شکایت کی، کئی سوالات قائم کئے۔ پوچھا کیامتاثرین کو بے گھرکرنے سے قبل حقوق انسانی کو ملحوظ رکھا گیا۔
غریب نگر میں زبردست انہدامی کارروائی اور ۵۰۰؍ جھوپڑوں کو پوری طرح سے زمیں بوس کردینے کے خلاف قومی حقوق انسانی کمیشن، قومی اقلیتی کمیشن اور مہاراشٹر مائناریٹی کمیشن میں تحریری شکایت کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ کئی سوالات قائم کرتے ہوئے یہ پوچھا گیا ہے کہ کیا متاثرین کو بے گھرکرنے اور مساجد شہیدکرنے سے قبل حقوق انسانی کو ملحوظ رکھا گیا۔ مذکورہ تینوں اداروں میں بامبے ہائی کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ فیاض عالم شیخ نے شکایات کی ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے : ممنوع جانوروں کی اسمگلنگ اور خرید و فروخت پر ’مکوکا‘ کے تحت کارروائی کا فرمان
انہوں نےاپنی شکایات اور قائم کردہ۱۰؍ سوالات میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ کمیشن کے سامنے جو مسائل اٹھائے گئے ہیں وہ ریلوے کی ترقی یا عدالتی احکامات کی مخالفت نہیں بلکہ زمینی سطح پر عمل درآمد کے طریقہ ٔ کار کے حوالے سے سنگین تشویش کا سبب ہے۔
۱۹؍مئی سے شروع کردہ انہدامی کارروائی کے دوران غریب نگر جو مسلم اکثریتی بستی تھی اوراس میں سنیّ فیضان غریب نواز مسجد اور مسجد انعام کو بھی شہیدکر دیا گیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی پیدا ہوئی اور پولیس کی جانب سے کارروائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے : پہلے سستے گھروں کا خواب دکھایا پھر بلڈوزر چلا کر بےگھر کر دیا
شکایات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ زمین ریلوے کی ہو سکتی ہے اور قانونی کارروائی عدالت کے حکم پرکی جا سکتی ہے، مگر اس دوران اقلیتوں کے حقوق سے متعلق آئینی ذمہ داریوں کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ سنگین تشویش اس عمل کے انسانی اور آئینی پہلوؤں پر ہے جب اس عمل کے دوران مسلمانوں کی اکثریتی آبادی متاثر ہوتی ہے۔ حالانکہ بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر میں ’’بلڈوزر کلچر‘‘ کے خلاف حکام کوسختی سے خبردارکیا تھا اوریہ تک کہا تھا کہ یہ یوپی یا بہار نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے : دیونار منڈی میں ۹۲۲۱۳؍ بکروں کی آمد، ۱۴۶۳۵؍ فروخت ہوئے
کمیشن سے کی گئی شکایت اور مطالبات
قومی حقوق انسانی کمیشن اوردیگر کمیشنوں سے شکایت کے ساتھ چند مطالبات کئے گئے ہیں۔ (۱) کیا متاثرین کو مناسب نوٹس اور سماعت کا موقع دیاگیا (۲) کیا بحالی کے تحفظات کو صحیح طریقے سے نافذ کیا گیا (۳) کیا مساجد کے انہدام کے تئیں آئینی ذمہ داریوں اور ضابطوں کو ملحوظ رکھا گیا (۴) کیا غریب مسلم خاندان بہت زیادہ متاثر اورپریشان ہوئے (۵) کیا عین مانسون سے قبل انسانی ہمدردی کا خیال رکھا گیا۔ ان سوالات کےعلاوہ (۶) اس پورے واقعے کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے (۷) ریلوے، پولیس اور شہری حکام سے رپورٹس مانگی جائے (۸) متاثرہ خاندانوں کے لئے انسانی نقطۂ نظر سے امداد فراہم کی جائے (۹) اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے خدشات کا جائزہ لیاجائے اور(۱۰) اقلیتی علاقوں اور مذہبی ڈھانچے کو مسمار کرنے کے تئیں مستقبل کے تحفظات پرخصوصی توجہ اور ہدایات دی جائیں۔