امریکہ کی معروف مصنفہ مارجری ولیمس کی شہرہ آفاق کہانی’’دی ویلویٹین ریبٹ‘‘ The Velveteen Rabbit کا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 3:28 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
امریکہ کی معروف مصنفہ مارجری ولیمس کی شہرہ آفاق کہانی’’دی ویلویٹین ریبٹ‘‘ The Velveteen Rabbit کا اردو ترجمہ۔
کرسمس کی صبح بچوں کیلئے جادو لے کر آتی ہے مگر بعض اوقات یہ جادو، کھلونوں کیلئے بھی ایک نئی زندگی کا آغاز بن جاتا ہے۔
وہ ایک سرد صبح تھی۔ باہر ہلکی برف باری ہورہی تھی۔ پورے گھر میں تہوار کا جشن تھا۔ اوپری کمرے میں بچے رنگ برنگے تحفے کھول رہے تھے۔ انہی تحفوں میں ایک چھوٹا سا مخملی خرگوش بھی تھا۔ اس کے جسم پر نرم بھورا مخمل چڑھا ہوا تھا، کانوں کے اندر گلابی کپڑا تھا، اور اس کی آنکھیں چمکدار سیاہ موتیوں سے بنی ہوئی تھیں۔ اس کی ناک دھاگے سے سلی گئی تھی، اور اس کے پنجوں کے اندر نرم بھوسا بھرا ہوا تھا تاکہ وہ گود میں لینے پر آرام دہ محسوس ہو۔ وہ خوبصورت تھا۔ کم از کم شروع میں۔ جب اسے پہلی بار ڈبے سے نکالا گیا تو چند لمحوں کیلئے سب نے اسے پسند کیا۔
بچے نے بھی اسے ہاتھ میں لیکر دیکھا، اس کے نرم کان دبائے، اور پھر اسے دوسرے تحفوں کے درمیان رکھ دیا۔ مگر کرسمس کے دن بچوں کے پاس کھلونوں کی کمی نہیں ہوتی۔ جلد ہی چمکتی ہوئی مشینی ٹرین، ڈھول بجاتا بندر، اور پہیوں والی نئی گاڑیاں زیادہ دلچسپ لگنے لگیں۔ وہ سب شور کرتے تھے، حرکت کرتے تھے، چمکتے تھے۔ ان کے مقابلے میں وہ چھوٹا مخملی خرگوش خاموش اور سادہ تھا اس لئے چند دنوں کے اندر وہ بچوں کے کمرے کے ایک کونے میں جا پڑا۔
پہلے پہل اسے اس بات کا زیادہ احساس نہیں ہوا کیونکہ کھلونوں کی دنیا میں وقت انسانوں کی دنیا جیسا نہیں ہوتا مگر آہستہ آہستہ اسے سمجھ آنے لگا کہ کچھ کھلونے دوسروں سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ رات کے وقت، جب کمرے کی بتیاں بجھ جاتیں اور صرف رات والی ہلکی نیلی روشنی باقی رہتی، کھلونے آپس میں باتیں کرتے تھے۔ ٹین کے سپاہی اپنی بہادری کے قصے سناتے۔ مشینی ٹرین اپنے چمکتے پہیوں پر فخر کرتی۔ اور لکڑی کے گھوڑے ہمیشہ اپنی مضبوطی کے بارے میں بات کرتے رہتے۔ مخملی خرگوش خاموشی سے ایک طرف پڑا ان سب کو سنتا رہتا۔ وہ زیادہ بات نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ ابھی دنیا کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ اور سچ یہ تھا کہ دوسرے کھلونے بھی اسے زیادہ اہم نہیں سمجھتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ایک گھنٹے کی کہانی
اسی کمرے میں ایک اور کھلونا بھی تھا۔ چمڑے کا پرانا گھوڑا۔ وہ کئی برسوں سے اس کمرے میں تھا۔ اس کی کھال کئی جگہوں سے گھس چکی تھی، رنگ ماند پڑ گیا تھا، اور اس کی دُم کے دھاگے آدھے ٹوٹ چکے تھے۔ نئے کھلونے اسے پرانا سمجھ کر زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سی نرمی تھی، جیسے اس نے وقت کے ساتھ کچھ ایسی باتیں سیکھ لی ہوں جو باقی کھلونوں کو ابھی معلوم نہ ہوں۔ ایک رات مخملی خرگوش اس کے قریب آیا۔ ’’حقیقی ہونے کا کیا مطلب ہے؟‘‘
پرانے گھوڑے نے دھیمی آواز میں کہا، ’’حقیقی ہونا وہ نہیں جو تمہارے اندر لگا ہو۔ یہ وہ چیز ہے جو تمہارے ساتھ ہوتی ہے۔ ‘‘ مخملی خرگوش الجھ گیا۔ ’’میں سمجھا نہیں۔ ‘‘
گھوڑے نے مسکرا کر کہا کہ’’جب کوئی بچہ تمہیں بہت عرصے تک محبت سے اپنے ساتھ رکھتا ہے، جب وہ تمہارے ساتھ کھیلتا ہے، تمہیں اپنے قریب رکھتا ہے، تمہیں واقعی چاہنے لگتا ہےتب تم حقیقی ہو جاتے ہو۔ ‘‘
خرگوش نے حیرت سے پوچھا، ’’کیا اس میں دکھ ہوتا ہے؟‘‘ ’’کبھی کبھی‘‘ گھوڑے نے جواب دیا، ’’مگر جب انسان واقعی حقیقی ہو جاتا ہے تو پھر وہ درد سے ڈرتا نہیں۔ ‘‘
پھر اس نے پوچھا، ’’اور جب کوئی حقیقی ہو جائےتو کیا وہ ہمیشہ خوبصورت رہتا ہے؟‘‘ پرانا گھوڑا ہنس دیا۔ ’’نہیں۔ عموماً اس وقت تک تمہارے بال گھس چکے ہوتے ہیں، رنگ اتر جاتا ہے اور تم پہلے جیسے خوبصورت نہیں رہتے۔ مگر اس سے فرق نہیں پڑتاکیونکہ جو لوگ واقعی تم سے محبت کرتے ہیں، ان کیلئے تم تب سب سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہو۔ ‘‘
مخملی خرگوش کے ذہن میں ایک نئی تمنا جاگ چکی تھی۔ وہ حقیقی ہونا چاہتا تھا۔
بچوں کی محبت عجیب ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ شور سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی وہ خاموشی سے پیدا ہوتی ہے، اتنی آہستہ کہ شروع میں کسی کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ مگر پھر ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ ایک کھلونا، جو کبھی کمرے کے کسی کونے میں بھلا دیا گیا تھا، اب بچے کی پوری دنیا بن چکا ہے۔ مخملی خرگوش کی زندگی میں یہ تبدیلی بھی اسی طرح آئی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انوکھی شہزادی
کرسمس گزر چکا تھا۔ نئے کھلونوں کی چمک اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ مشینی ٹرین کا ایک پہیہ ڈھیلا ہو گیا تھا، ڈھول بجاتا بندر کئی بار گرنے کے بعد خاموش ہو چکا تھا، اور چمکدار کھلونوں میں سے اکثر اب الماریوں یا صندوقوں میں ڈال دیے گئے تھے۔ مگر مخملی خرگوش اب بھی وہیں تھا۔ ایک رات بچے کی خادمہ جلدی میں تھی۔ سونے کا وقت ہو چکا تھا مگر بچے کو اپنا پسندیدہ کھلونا نہیں مل رہا تھا۔ وہ ضد کرنے لگا۔ خادمہ نے کمرے میں اِدھر اُدھر دیکھا۔ جو پہلی چیز اس کے ہاتھ لگی، اس نے اٹھا کر بچے کی طرف بڑھا دی۔
وہ مخملی خرگوش تھا۔ ’’یہ لے لو‘‘ خادمہ نے بے دلی سے کہا، ’’آج رات اسی کے ساتھ سو جاؤ۔ ‘‘ بچے نے خرگوش کو ہاتھ میں لیا۔ چند لمحوں تک اسے دیکھا۔ پھر خاموشی سے اپنے سینے سے لگا لیا۔ یہ ایک بہت چھوٹا سا لمحہ تھا لیکن مخملی خرگوش کیلئے پوری دنیا بدل گئی۔ اس نے پہلی بار کسی دل کی دھڑکن اپنے قریب محسوس کی۔ بچے کا جسم گرم تھا، نرم تھا، زندہ تھا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی انگلیاں خرگوش کے کانوں کو پکڑے ہوئے تھیں، اور جب وہ نیند میں آہستہ آہستہ سانس لے رہا تھا تو خرگوش اس حرکت کو بھی محسوس کر سکتا تھا۔ اس رات مخملی خرگوش کو پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید حقیقی ہونے کا سفر شروع ہو چکا ہے۔
اگلی صبح بچے نے سب سے پہلے اسے ہی ڈھونڈا۔ آہستہ آہستہ خرگوش بچے کے ہر دن کا حصہ بننے لگا۔ صبح اٹھتے وقت۔ دوپہر کے کھیل میں۔ شام کی کہانیوں کے دوران۔ اور رات کو سوتے وقت۔ وہ اسے اپنے ساتھ باغ میں لے جاتا، گھاس پر بٹھاتا، اس سے باتیں کرتا، اور کبھی کبھی یوں پیش آتا جیسے خرگوش واقعی سب کچھ سمجھ رہا ہو اور شاید وہ سمجھنے بھی لگا تھاکیونکہ محبت چیزوں کو بدل دیتی ہے۔
ایک دن بچہ باغ میں بیٹھا اصلی خرگوشوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ نرم گھاس پر دوڑ رہے تھے، ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے، اور دھوپ میں ان کے کان چمک رہے تھے۔ مخملی خرگوش بچے کے ساتھ گھاس پر پڑا تھا۔ اس نے اصلی خرگوشوں کو دیکھا اور اچانک اپنے اندر اداسی محسوس کی۔ وہ ان جیسا نہیں تھا۔ وہ دوڑ نہیں سکتا تھا۔ وہ چھلانگ نہیں لگا سکتا تھا۔ وہ صرف ایک کھلونا تھا۔
وقت کے ساتھ مخملی خرگوش بدلنے لگا تھا۔ اس کے نرم مخمل پر اب ہلکی سی گھسائی آنے لگی تھی۔ بچے کے بار بار پکڑنے سے اس کے کان ایک طرف سے مڑ گئے تھے، اور اس کی چمکدار ناک کا دھاگہ بھی کچھ اکھڑنے لگا تھا۔ اگر دوسرے کھلونے اسے دیکھتے تو شاید کہتے کہ وہ خراب ہو رہا ہے۔ مگر مخملی خرگوش کو اب اس سے فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ ہر دن کے ساتھ بچہ اسے پہلے سے زیادہ قریب رکھنے لگا تھا۔ اور یہی قربت اس کیلئے دنیا کی سب سے بڑی خوشی بن گئی تھی۔
دن گزرتے گئے۔ موسم بدلنے لگا۔ بہار آنے لگی۔ باغ میں پھول کھلنے لگے، اور بچہ پہلے سے زیادہ وقت باہر گزارنے لگا لیکن جہاں بھی جاتا، خرگوش اس کے ساتھ ہوتا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خرگوش کی حالت مزید بدلنے لگی۔ اس کے جسم کی سلائیاں کئی جگہوں سے ڈھیلی ہو گئیں۔ ایک کان مستقل جھک گیا۔ اس کے سفید پنجے اب مٹیالے ہو چکے تھے۔ لیکن بچے کیلئے وہ اب پہلے سے زیادہ قیمتی تھا کیونکہ انسان اکثر ان چیزوں سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگتا ہے جن پر وقت کے نشان واضح ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکے پتھر
پھر ایک دن سب کچھ بدلنے لگا۔ بچہ باغ میں کھیلتے کھیلتے جلدی تھک گیا۔ شام تک اس کے چہرے پر غیر معمولی سرخی آگئی، اور رات کو اس کی سانس کچھ تیز محسوس ہونے لگی۔ خادمہ نے اس کی پیشانی چھوئی تو فوراً پریشان ہو گئی۔ اگلی صبح ڈاکٹر آیا۔ اس دن پہلی بار مخملی خرگوش نے کمرے کی فضا میں خوف محسوس کیا۔ ڈاکٹر کی آواز دھیمی تھی، ماں کی آنکھوں میں بے چینی تھی، اور خادمہ بار بار کھڑکی کے پردے درست کر رہی تھی جیسے مصروف رہنے سے فکر کم ہو جائے گی۔ بچہ بستر پر لیٹا تھا۔ اس کے گال گرم تھے۔ اور اس کے ہاتھ ہمیشہ کی طرح خرگوش کو پکڑے ہوئے تھے۔
’’اسے آرام کی ضرورت ہے، ‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔ اس کے بعد دن بدل گئے۔ پہلے کمرہ ہنسی سے بھرا رہتا تھا، اب وہاں سرگوشیاں تھیں۔ پہلے کھڑکی کھلی رہتی تھی، اب زیادہ تر بند رہتی۔ پہلے بچہ دوڑتا تھا، اب خاموش لیٹا رہتا تھا۔ اور ان تمام دنوں میں صرف ایک چیز نہیں بدلی۔ مخملی خرگوش ہمیشہ اس کے ساتھ رہا۔ دن ہو یا رات، بچہ اسے قریب رکھتا۔
ایک صبح ڈاکٹر نے کہا، ’’اب خطرہ ختم ہو گیا ہے۔ ‘‘ یہ سنتے ہی گھر کی فضا بدلنے لگی۔ بچہ آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگا۔ مگر بیماری اپنے پیچھے خوف چھوڑ جاتی ہے اور کبھی کبھی کچھ چیزیں بھی ساتھ لے جاتی ہے۔
ایک دوپہر خادمہ کمرے کی صفائی کر رہی تھی۔ اس نے بستر، چادریں، اور بچے کے استعمال کی چیزیں الگ کرنا شروع کیں تاکہ بیماری کے جراثیم باقی نہ رہیں۔ اسی دوران اس کی نظر مخملی خرگوش پر پڑی۔ بخار میں بچے کے ساتھ مسلسل رہنے کی وجہ سے اس پر دوا اور پسینے کی بو آ گئی تھی۔ خادمہ نے اسے ضائع کرنے والی چیزوں کے تھیلے میں ڈال دیا۔
بچوں کی دنیا میں بعض جدائیاں اچانک آتی ہیں۔ ایک دن کوئی چیز ان کی پوری دنیا ہوتی ہے، اور اگلے دن وہی چیز خاموشی سے ان سے دور کر دی جاتی ہے، اس امید کے ساتھ کہ بچہ جلد بھول جائے گا۔
رات کے قریب مالی نے تھیلا اٹھایا اور اس میں پڑا سامان جلانے کیلئے گھر کے پیچھے آگیا۔ پرانے کپڑے، چادریں اور کھلونے نکالنے کے بعد آخر میں مخملی خرگوش نکالا گیا اور اسے سرد زمین پر پھینک دیا گیا۔ وہ خاموش پڑا رہا۔ اسے محبت ملی تھی، اور جو چیز واقعی محبت پا لے وہ ختم ہونے سے ڈرنے لگتی ہے۔ اسے بچے کی یاد آنے لگی۔ اس کی آنکھ سے ایک چھوٹا سا گرم آنسو نکل کر گھاس پر گرا۔
پھر کچھ عجیب ہوا۔ جہاں آنسو گرا تھا، وہاں ہلکی سی روشنی ابھری۔ پہلے بہت مدھم، پھر آہستہ آہستہ روشن۔ مالی کو کچھ نظر نہ آیا کیونکہ وہ دوسری طرف مصروف تھا مگر مخملی خرگوش نے دیکھا کہ اس روشنی کے اندر ایک نرم سی شکل بن رہی ہے۔ وہ ایک پری تھی۔ بہت چھوٹی اور روشن۔ پری اس کے قریب آئی، ’’تم رو رہے ہو۔ ‘‘ خرگوش کچھ نہ بولا۔ ’’تمہیں لگتا ہے سب ختم ہو گیا؟‘‘
’’تم بچے کیلئے بہت خاص تھے‘‘ پری نے کہا، ’’اسی لئے مجھے بھیجا گیا ہے۔ ‘‘ مخملی خرگوش خاموش رہا۔ پری اس کے قریب جھکی۔ ’’میں ان کھلونوں کی پری ہوں جنہیں بچے واقعی محبت کرتے ہیں۔ جب کوئی کھلونا کسی بچے کیلئے سچا دوست بن جاتا ہے، تب وہ صرف کھلونا نہیں رہتا۔ جب بچے کسی کھلونے سے سچی محبت کرتے ہیں تو وہ محبت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ اور جب وہ محبت بہت گہری ہو جائے، تب کھلونے صرف کھلونے نہیں رہتے۔ ‘‘ مخملی خرگوش خاموشی سے سنتا رہا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: راشومون
’’تم نے درد برداشت کیا‘‘ پری نے کہا، ’’تم نے انتظار کیا، تنہائی دیکھی، اور محبت کو کھونے کا خوف بھی محسوس کیا۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی کو حقیقی بناتی ہیں۔ ‘‘ مخملی خرگوش نے محسوس کیا کہ اس کے جسم میں ہلکی سی حرارت دوڑ رہی ہے۔
پہلے اس کے پنجوں میں، پھر کانوں میں، پھر پورے وجود میں۔
یہ وہ حرارت نہیں تھی جو بچے کے سینے سے لگ کر محسوس ہوتی تھی، یہ کچھ اور تھی۔ کچھ زندہ۔ اس نے اچانک اپنے جسم میں حرکت محسوس کی۔ حقیقی حرکت۔ اس کے پنجے خودبخود ہلے۔ وہ چونک گیا۔ پھر اس کے اندر ایک دھڑکن سی پیدا ہوئی، بہت نرم، مگر واضح۔
پری مسکرا رہی تھی۔ ’’اب وقت آ گیا ہے، ‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔
اگلے ہی لمحے روشنی تیز ہو گئی۔ ہوا گھومنے لگی۔ اور مخملی خرگوش نے محسوس کیا کہ جیسے اس کا پرانا وجود آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ اس کے گھسے ہوئے مخمل کی جگہ نرم اصلی بال محسوس ہونے لگے، اس کے سخت بھرے ہوئے جسم کی جگہ زندہ جسم نے لے لی، اور اس کی ساکت شیشے جیسی آنکھوں میں پہلی بار دنیا واقعی روشن ہو گئی۔
پھر اچانک سب خاموش ہو گیا۔
پری غائب ہوگئی۔
اور سرد گھاس پر اب کھلونا نہیں ایک اصلی خرگوش بیٹھا تھا۔ چھوٹا سا۔ نرم بھورے بالوں والا۔ اس کے کان ہل رہے تھے، ناک حرکت کر رہی تھی، اور اس کے اندر زندگی کی گرم دھڑکن موجود تھی۔ وہ حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ پھر پہلی بار اس نے واقعی چھلانگ لگائی۔
اسے ایسا محسوس ہوا جیسے پوری دنیا اچانک بہت وسیع، بہت خوبصورت ہو گئی ہے۔ اسے ابھی بھی سب کچھ خواب جیسا لگ رہا تھا۔ مگر پھر اس نے اپنے دل کے اندر ایک پرانا احساس محسوس کیا۔ بچے کی یاد۔ اور اسے معلوم ہو گیا کہ چاہے وہ اب حقیقی ہو چکا ہے، مگر وہ اس بچے کو کبھی نہیں بھول سکے گا جس نے اسے یہ حقیقت دی تھی۔
موسم بدل گیا۔ بہار مکمل طور پر آ گئی۔ گھر کے باغ میں پھول کھلنے لگے، اور بچہ اب بیماری کے بعد پہلے سے زیادہ صحت مند محسوس کرتا تھا۔
وہ اکثر دوپہر کو باغ میں کھیلنے آ جاتا، کبھی گیند کے ساتھ، کبھی اپنی کتابوں کے ساتھ لیکن بعض اوقات وہ خاموش ہو جاتا کیونکہ اسے اپنا پرانا مخملی خرگوش یاد آتا تھا جو اس کی بیماری میں چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ تھا۔ نئے کھلونے موجود تھے، خوبصورت اور چمکدار، مگر ان میں وہ سکون نہیں تھا جو اسے اپنے پرانے مخملی دوست کے ساتھ محسوس ہوتا تھا۔
ایک دوپہر وہ باغ میں اکیلا بیٹھا تھا کہ جھاڑیوں کے قریب حرکت ہوئی۔ ایک خرگوش باہر آیا۔ چھوٹا سا بھورا خرگوش۔ وہ چند قدم دور رک گیا۔ بچہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس خرگوش کے کانوں میں ایک عجیب سا مانوس جھکاؤ تھا۔ خرگوش خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
بچے نے آہستہ سے ہاتھ آگے بڑھایا، مگر خرگوش قریب نہیں آیا۔ وہ صرف بچے کو تکتا رہا، جیسے کسی بہت پرانی دوستی کو خاموشی سے یاد کر رہا ہو۔ پھر اس نے ایک نرم سی چھلانگ لگائی اور پھولوں کے درمیان دوڑتا ہوا دور چلا گیا۔ بچہ اسے دیکھتا رہا۔ اور اچانک، بغیر کسی واضح وجہ کے، اس کے دل میں گرمی سی بھر گئی۔ جیسے کسی کھوئی ہوئی چیز نے ایک لمحے کیلئے واپس آ کر اسے چھو لیا ہو۔ شاید بعض محبتیں کبھی واقعی ختم نہیں ہوتیں۔ وہ صرف اپنی شکل بدل لیتی ہیں۔
اور یہی حقیقی ہونے کا سب سے خوبصورت راز ہے۔