ریاستی حکومت مسلم مسائل پرسنجیدگی سے توجہ دے

Updated: June 27, 2020, 4:01 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

اسلام جمخانہ میں علماء اورملّی تنظیموں کے عہدیداران کے ہمراہ سماج وادی پارٹی کی میٹنگ میں مطالبہ۔

Meeting scene at Islam Gymkhana. Photo: Inquilab
اسلام جمخانہ میں میٹنگ کا منظر۔ تصویر: انقلاب

 ریاست میں بی جے پی کو زبردست جھٹکا لگنے کے بعد سے مہا وکاس اگھاڑی کی سرکارہے، اس کے باوجود ملی مسائل پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اسی سلسلے میں سماج وادی پارٹی کی جانب سے علماء اور ملّی تنظیموں کے ذمہ داران کی جمعہ کو اسلام جمخانہ میں میٹنگ بلائی گئی جس میں سی اے اے، این پی آر اور این آر سی جیسے آئین مخالف قوانین کی مخالفت کرنے والوں کی گرفتاری اور ان کو زبردستی نوٹس دیاجانا، ممبئی میں بھی کورونا وائرس پھیلنے کا الزام تبلیغی جماعت کے کارکنان پر عائد کرکے ان کے خلاف کارروائی اور تین دن قبل داخل کردہ چارج شیٹ میں خطرناک دفعات کا برقرار رکھنا، ریاست میں ایک ہزار تا ۱۲۰۰؍ مساجدمیں مائک پر اذان دینے پر پابندی لگانا، ان لاک ون میں ممبئی اور ریاست میں مسجدیں کھولنا اور عیدقرباں میں دیونار مذبح کھولنا اور جانوروں کی خریدوفروخت کی اجازت وغیرہ مسائل ہر بات چیت کی گئی۔ حاضرین نے ان مسائل پر فوری توجہ دے کر اسے حل کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔
  اس میٹنگ کی صدارت مولانا سید خالد اشرف نے کی۔ رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی سے یہ پوچھنے پر کہ اس میٹنگ کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی، آپ کو خود حکومت سے ان مسائل پر بات کرنی چاہئے تو انہوں نے کہا کہ بات چیت کی گئی ہے اور خاص طور پر وزیر داخلہ انل دیشمکھ کی توجہ دلائی گئی لیکن عملی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اس لئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے یہ میٹنگ بلائی گئی کہ حکومت سمجھے کہ سب ہی ان اہم مسائل جانب توجہ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میٹنگ میں جن مسائل پر بات چیت کی گئی ہے، اس کی بنیاد پر ایک میمورنڈم تیار کیا جائے اور جلد ہی نائب وزیر اعلی اجیت پوار سے ملاقات کرکے ان سے کہا جائے گا کہ وہ ان مسائل کے سلسلے میں متعلقہ افسران کو بلائیں اور ان سے یہ پوچھا جائے کہ اس سلسلے میں کیا ہورہا ہے اور مسائل پر کتنی توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مساجد میں اذان پر پابندی کے سلسلے میں لوگوں سے ریاست کے الگ الگ حصوں سے میٹنگ میں آن لائن بات چیت کی گئی تو انہوں نے اس کی وضاحت کی۔
  ابوعاصم اعظمی کے مطابق سوال یہ ہے کہ اب بھی یہ صورتحال کیوں ہے اس لئے حکومت ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے اور اس کے حل کے لئے عملی قدم اٹھائے۔ میٹنگ میں ڈاکٹر شیخ عبداللہ، مولانا اسعد قاسمی، مولانا انیس احمد، محمد اسلم غازی، ایڈوکیٹ مبین سولکر، محمد تفتیش، سلیم کوڈیا، مولانا ریاض احمد، مولانا عبدالسلام سلفی، سینئر صحافی سرفراز آرزو، سعید حمید، رکن اسمبلی رئیس شیخ اور کپل پاٹل وغیرہ موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK