Inquilab Logo Happiest Places to Work

پہلے وزیر اعظم اور ان کے وزراء قربانی دیں اس کے بعد عوام کو نصیحت کریں: اپوزیشن کی تنقید

Updated: May 12, 2026, 10:36 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ہرش وردھن سپکال نے مودی کی اپیلوں کو ان کی ناکامی کا ثبوت قرار دیا ، امبا داس دانوے نے پوچھا ’’ سونے کی صنعت سے وابستہ مزدوروں کیلئے کیا انتظام کیا گیا ؟‘‘ روہنی کھڑسے نے وزراء کے قافلے پر سوال اٹھایا ۔

Narendra Modi.Photo:INN
نریندر مودی۔ تصویر:آئی این این
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک روز قبل عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تیل کم استعمال کر یں، سونا نہ خریدیں، ذاتی گاڑیوں کی جگہ عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال کر یں  اور ورک فرام ہوم کریں وغیرہ ۔ ان کی اس اپیل پر ملک بھر میں تنقیدیں ہو رہی ہیں ۔ ریاست کی اپوزیشن پارٹیوں نے بھی وزیر اعظم کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی اور ان کے وزیر پہلے خود اس پر عمل کریں پھر عوام سے اپیل کریں۔
مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ پیٹرول ڈیزل کے استعمال، سونا کی خرید اری اور کھاد حاصل کرنے پر قدغن لگانے والی  وزیر اعظم کی اپیل اس بات کا ثبوت ہے کہ’ سمجھوتہ کرنے والے وزیر اعظم‘ ملک چلانے میں پوری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ عوام کو قربانی دینے کا مشورہ دینے والے مودی اور ان کے ساتھی خود کروڑوں روپے اڑا رہے ہیں۔ کیا عوام اکیلے ہی ساری قربانیاں دیں گے جبکہ نریندر مودی صرف کیمروں کے سامنے تقریریں کرتے رہیں گے؟  انہوںنے کہا کہ’’۱۴۰؍ کروڑ عوام کا یہ جذبہ ہے کہ نریندر مودی قومی مفاد میں اپنے مفاد کی قربانی دیں اور مذہبی یاتراپر روانہ ہو جائیں‘‘۔
 
 
’’ گاڑیوں کے قافلے ترک کریں‘‘
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ملک کے عوام نریندر مودی کی لاپروائی اور من مانی کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ ملک میں ایندھن اور ایل پی جی گیس کی شدید قلت ہے، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، سونا چاندی ان کی پہنچ سے باہر ہے۔ معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، اور وزیر اعظم اشتہارات، فوٹو شوٹ اور ایونٹ مینجمنٹ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے الیکشن جیتنے کیلئے ملک کی معیشت کو تباہ کیا اور اب عوام سے اپیل کر رہے ہیں، جب کہ وہ خود ۴۰؍ تا ۵۰؍ گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ گھومتے پھرتے ہیں اورعوام سے ذاتی گاڑیوں کو چھوڑ کر عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
’’ اپنے بیرون ملک دورے  بند کریں ‘‘
این سی پی ( شرد) کی خواتین ونگ کی ریاستی صدر روہنی کھڑسے نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر کہا کہ وزیر اعظم نے ملک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک سال کیلئے بیرون ملک سفر بند کریں، ایک سال تک سونا نہ خریدیں، پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال کم کریں، میٹرو کا استعمال کریں، الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال کریں، گھر سے کام کریں، آن لائن کانفرنسنگ، ورچوئل میٹنگ شروع کریں۔اگر آپ پابندی لگانا چاہتے ہیں تو اپنے غیر ملکی دوروں پر لگائیں، تمام وزراء کیلئے استعمال ہونے والے وی آئی پی قافلوں پر لگائیں، انہیں پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے کو کہیں، الیکشن کے دوران منی لانڈرنگ بند کریں، لاکھوں روپے کے کپڑے پہننا بند کریں، پرائیویٹ جیٹ اور ہیلی کاپٹر کا استعمال بند کریں، اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان کو خریدنے کیلئے استعمال ہونے والی رقم پر پابندی لگائیں۔ ہزاروں کروڑ روپوں کے اشتہارات پر پابندی لگائیں۔ 
 
 
سونے کے کاروبار کے مزدوروں کا کیا ہوگا؟
شیو سینا (ادھو) کے رکن کونسل امباداس دانوے نے کہا ہے کہ’’ وزیراعظم مودی نے سونا خریدنے سے گریز کرنے کی عوام سے اپیل کی ہے لیکن حکومت نے سونے کی کانوں سے لے کر سونے کی دکانوں تک کام کرنے والے مزدوروں کی زنجیر اور ان کے ذریعہ معاش کو بچانے کیلئے کیا منصوبہ بنایا ہے؟ اس کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ اس وقت ملک بھر میں زرعی کام تیزی سے جاری ہے۔ ایسے وقت میں کیا حکومت زراعت کیلئے استعمال ہونے والے ایندھن پر کوئی پابندی نہیں لگائے گی، اس کی وضاحت بھی ضروری ہے۔‘‘انہوںنے مزید کہا کہ گھر سے کام (ورک فرام ہوم)دفاتر کیلئے موزوں ہے، لیکن اسکولوں کا کیا ہوگا جو  ۱۵؍دن بعد شروع ہوں گے؟ طلبہ اسکول کیسے جائیں گے اور ان کے سفری منصوبے کیا ہوں گے؟ کیمیائی کھادوں کی بجائے قدرتی کھادوں کا استعمال کرنا اچھی بات ہے لیکن کیا ہم اس وقت اتنی مقدار میں قدرتی کھاد پیدا کرنے کے قابل ہیں جن کی ملک کو ضرورت ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جس کے جواب وزیراعظم کو دینا چاہئے۔
یاد رہے کہ ایران اورامریکہ درمیان جنگ کے بعد سے ملک میں گیس اور پیٹرول کی قلت ہے جبکہ سونے اور چاندی کے داموں میں لگاتار اتار چڑھائو جاری ہے جسے وزیر اعظم کی پالیسیوں کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK