Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکول میں’ لب پہ آتی ہے دُعا‘ پڑھانے پر ایف آئی آر، ۳؍ ٹیچر معطل

Updated: May 12, 2026, 10:10 AM IST | Agency | New Delhi

’ پی ایم شری اسکول‘ میں مذہبی سرگرمیوں، دیگر مذاہب پر توہین آمیز تبصروں اور اسلامی شعائر اپنانے کیلئے آمادہ کرنے کا الزام ۔

Iconic Photo Of The School. Photo: INN
اسکول کی علاماتی فوٹو۔ تصویر:آئی این این
 اتر پردیش کے ضلع سنبھل  میں ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں جالب سرائے  میں ’ پی ایم شری سرکاری اسکول‘ میں علامہ اقبال کی نظم ’ لب آتی ہے دعا‘  پڑھانے پر ۳؍اساتذہ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ان    کے خلاف طلبہ میں مذہبی سرگرمیوں کے فروغ کا الزام عائد کرتے ہوے پولیس میں شکایت کرکے  ایف آئی آر بھی  درج کرا دی گئی ہے۔
 
 
الزام ہے کہ ہیڈ ماسٹر انظار  احمداور اسسٹنٹ  ٹیچر محمد گل اعجاز نے ہندو طالبات کو حجاب اور طلبہ کو اسلامی ٹوپی پہن کر اسکول آنے کی ترغیب دی جبکہ کارگزار ہیڈ ماسٹربالیش کمار کو ان سرگرمیوں   سے اعلیٰ حکام کو آگاہ  نہ کرنے، خفیہ رکھنے اور لاپروائی برتنے کے الزام میں معطل کیاگیا ہے۔ 
 
 
انظار  احمداور  محمد گل اعجاز پر  یہ بھی الزام  ہے کہ انہوں نے بچوں کو سرکاری اسکول میں منظور شدہ دعا سے پہلے’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘گانے پر بھی مجبور کیا۔ یہ کارروائی انٹرنیٹ پر وائرل ہونے  والے ایک ویڈیوکی بنیاد پر کی گئی ہے۔  اس بات پر اعتراض کیاگیاہے کہ بچے دعا کے وقت ہاتھ جوڑنے کے بجائے ہاتھ باندھ کر علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم پڑھ رہے ہیں۔ الزام ہے کہ فروری کے مہینے سے اسکول میں مذہبی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا تھا اور دیگر مذاہب کے خلاف توہین آمیز تبصرے بھی کئے جارہے تھے جس  سے مذہبی عدم برداشت کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ضلع مجسٹریٹ انیکیت کھنڈیلوال نے کارروائی کا حکم دیا جس پر  پولیس نے مسلم اساتذہ کے خلاف  بی این ایس کی دفعات۳۵۳(۲) اور۶۱(۲) کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ضلع مجسٹریٹ نے پورے معاملہ کی تحقیقات کیلئے چیف ڈیولپمنٹ آفیسر کی سربراہی میں سہ رکنی کمیٹی تشکیل  دی ہے ۔ کمیٹی یہ  جانچ کریگی کہ اس سرگرمی  کے پس پشت کون ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK