• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’یونیفارم سول کوڈ سے مسلمانوں کے ہی نہیں تمام مذاہب کے پرسنل لاز متاثر ہوں گے‘‘

Updated: September 14, 2026, 5:07 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

اسلام جمخانہ میں مشاورتی میٹنگ میں یو سی سی اور تبدیلیٔ مذہب قانون پر ذمہ دار شخصیات نے حکومت کی نیت پر سوال قائم کرتے ہوئے اسے آئین مخالف قرار دیا۔

A view of the Maharashtra Muslims Federation meeting regarding the UCC. Photo: Inquilab
یو سی سی سے متعلق مہاراشٹر مسلمس فیڈریشن کی میٹنگ کا ایک منظر۔ تصویر:انقلاب

یکساں سول کوڈ کے تعلق سے مہاراشٹر میں صورتحال کا جائزہ لینے اور مختلف مذاہب کی شخصیات کے مابین باہمی تبادلۂ خیال کی غرض سے اسلام جمخانہ میں ایک مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ میٹنگ سنیچر کی شب میں اسلام جمخانہ میں مہاراشٹر مسلمس فیڈریشن کی جانب سے کی گئی۔ اس اہم مسئلے  پر حاضرین نے اتفاق کیا کہ یو سی سی کے تعلق سے حکومت کی نیت ٹھیک نہیں، حکومت ایک مذہبی گروہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اتنا ہی نہیں اس تعلق سے حکومت کا رویہ دستور مخالف بھی ہے ۔

میٹنگ کی سربراہی کرتے  ملک معتصم (جماعت اسلامی کے نائب امیر) نے یہ اعتراف کیا کہ مسلمانوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہمیں اس کا احساس ہے کہ ہم اپنا احتساب کریں لیکن قرآن اور حدیث میں ہمیں جو احکامات دیئے گئے ہیں وہ ناقابلِ تنسیخ ہے، اس میں کسی بھی قسم تبدیلی نہیں کی جا سکتی، ان پر عمل  ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ادب نیا پرانا نہیں ہوتا، اس میں عجائب خانے نہیں ہوتے!

مولانا محمود خان دریابادی نے کہا کہ آرٹیکل ۲۵؍ہمیں اپنے  مذہب پر اور آرٹیکل۲۶؍ہمیں مسلک پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس سے وہ متاثر ہوگا ۔ انہوں نے زور دے کر یہ بھی کہا کہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے دیگر مذاہب کے پرسنل لاز بھی متاثر ہوں گے۔ اسی طرح آرٹیکل۴۴؍میں رہنمائی کی گئی ہے مگر وہ بنیادی دفعہ نہیں ہے، غیر ضروری طور پر آرٹیکل۴۴؍کا حکومت کے ذریعے سہارا لیا جارہا ہے جبکہ جن ہدایات کا اس سے تعلق ہے حکومت اس سے صرف نظر کررہی ہے۔

مفتی حذیفہ قاسمی (جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے کہا کہ یو سی سی سے متعلق یہ کہا جارہا ہے کہ اس سے سب یکساں ہوجائیں گے، میں پوچھتا ہوں کہ کیا ایک گھر میں سب ایک طرح سے ہوجائیں گے۔ اس لئے آنکھ میں دھول نہ جھونکی جائے، ہندوستان میں اس پر عمل ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح وکلاء حضرات خاص طور پر اسے اجاگر کریں کہ  آرٹیکل۴۴؍ محض مشورہ ہے وہ بنیادی دفعہ کے مقابلے ٹک نہیں سکتا۔  

کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق 
میٹنگ کے دوران پندرہ بیس افراد پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق ہوا ۔ تشکیل دی جانے والی کمیٹی پوری طرح یو سی سی پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے حکومت کے غلط فیصلوں پر اسے متنبہ کرے گی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK