اگر آپ تھک گئی ہیں تو ہر فکر کو کچھ دیر کے لئے سر سے اتار دیجئے، اپنے آپ کو اور اس دل کو سنبھالئے جسے دوسروں کے التفات کی خاطر نظرانداز کر رکھا ہے کیونکہ یہ جسم و جان بھی رب کی امانت ہے جسے بہترین حالت میں اس کے حقیقی مالک کو لوٹانا بھی ہے۔ آئیے اپنی خاطر اپنی بھی فکر کر لیجئے۔
کبھی کبھی ہم زندگی کو پرفیکٹ بنانے کے چکّر میں اُسے جینا بھول جاتے ہیں، ابھی بھی وقت ہے کچھ وقت اپنی ذات کو دیں۔ تصویر: آئی این این
متعدد گھروں کی خواتین کو اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان کا پورا دن بنا آرام کئے، پسینے میں شرابور، بس کام، کام اور بس کام کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ اگر ان سے کہا بھی جائے کہ خدارا تھوڑا آرام کرلیں یا کسی کی مدد لے لیں تو ان کا عموماً جواب یہ ہوتا کہ انہیں کام کرنے کی عادت ہے یا ادھورا کام انہیں بے چین رکھتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف کام پورا کرنے کی عادت نہیں بلکہ آرام کرنے کا احساسِ جرم ہے کیونکہ انہوں نے ایسے ماحول میں پرورش پائی اور زندگی گزاری ہے جہاں ان کی قدر ہی اس بات سے کی جاتی رہی ہے کہ وہ تھکن کی شکایت کئے بنا کتنا کام کرتی ہیں، جو کسی بیماری و آزاری میں بھی خود پر یہ لازم رکھے کہ سارے گھر کا کھانا بس اسی نے پکانا ہے تاکہ وہ ایک ذمہ دار عورت کہلائی جاسکے۔
چھوٹے بچّے کے ساتھ رات رات بھر جاگ کر بھی علی الصباح سب کیلئے ناشتہ بنا دے، سبھوں کے کام سنبھالے تو اچھی بہو، اچھی بہن، یا اچھی بیٹی۔ بچوں کو ناشتہ کھانا جگہ پر مہیا کرائے، ان کے بستر کپڑے بستے سارا دن سمیٹتی رہے وہ اچھی ماں! بنا شکایت کئے بنا کسی تھکن کا اظہار کئے کیونکہ جتنی کم تھکن کا اظہار اتنی مظبوط عورت۔ غرض جس کی جتنی زیادہ قربانی وہ اتنی عظیم! عظمت اور اچھائی کے اس نام نہاد معیار پر پورا اترنے کا دباؤ، کام پورا نہ ہونے پر کسی مزاج کی برہمی یا جوابدہی کا خوف انہیں مسلسل مصروف رکھتا ہے۔ مگر اکثر خواتین یہ بھول جاتی ہیں کہ جو عزت، پسندیدگی اور ستائش اپنی جسمانی و ذہنی صحت کو داؤ پر لگانے کے بعد حاصل ہوتی ہے وہ بڑا مہنگا سودا ثابت ہوتی ہے کیونکہ انسانی جسم کی کارکردگی اور استطاعت کی کچھ حدود ہیں جس کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے بصورت دیگر ہمارے جسم کی یہ مشین تھک کر جواب دے جائیگی اور وقت سے پہلے ہی کئی کمزوریاں اور صحت کے مسائل لاحق ہو جائینگے۔ اس وقت ہوسکتا ہے ہماری مدد کو کوئی دستیاب نہ ہو کیونکہ جن کیلئے ہم نے اپنی توانائیاں خرچ کر دی وہ اگر اتنے پرخلوص اور محبت کرنے والے ہوتے تو پہلے ہی وقت پر ہاتھ بٹاتے، زندگی کی مشقتوں میں ہر مرحلے پر مددگار ہوتے۔ رشتوں کی خود غرضی اور مفاد پرستی پر بعد میں افسوس کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ ہم اپنی ذات کی بہتری کیلئے خود سوچیں اور پہل کریں۔
یہ بھی پڑھئے: اچھی کتابیں پڑھنے سے نسلیں با شعور اور صاحبِ فکر بنتی ہیں
کبھی کبھی ہم زندگی کو پرفیکٹ بنانے کے چکّر میں اسے جینا بھول جاتے ہیں ہمیں بس اتنا یاد رہتا ہے کہ ہمارا گھر ہر دم چمکتا رہے، سارے کام ہماری مرضی کے مطابق اور بروقت پورے ہوں، زندگی ہمیشہ لگی بندھی ترتیب میں رہے تو ایسی سوچ معتدل نہیں اور نہ ہی ایسی خواہش ممکن ہے۔ کئی کام ایسے ہیں جو کسی کی مدد کے سہارے بہتر طور پر اور آسانی سے مکمل ہوسکتے ہیں تو کیا مضائقہ ہے جو ہم اپنوں سے مدد مانگ لیں، اپنی تھکن کا اظہار کرلیں! اپنی تھکن کو قبول کرنا یا اس کا اظہار کرنا معیوب نہیں ہے بلکہ یہ انسانی سچائی ہے کہ آپ کا جسم اور دماغ آرام مانگ رہے ہیں۔ مسلسل بھاگ دوڑ، ذمہ داریوں کے بوجھ اور کام ختم کرنے کا ذہنی دباؤ انسان کو اندر سے کمزور کردیتے ہیں، دیر یا بدیر اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اسے آرام کی ضرورت ہے لہٰذا یہ اعتراف جتنی جلد اور کسی ذہنی و جسمانی خسارے سے پہلے ہوسکے اتنا بہتر ہے۔ جب ربِ کریم بندہ کو اس کی استطاعت سے زیادہ مکلّف نہیں کرتے تو ہم کیوں اپنی تنہا ناتواں جان پر ایسے بوجھ لاد دیتے ہیں جو ٹالے جاسکتے ہیں۔ اگر آپ شدید جسمانی یا ذہنی تھکن و کمزوری محسوس کر رہے ہیں تو یہ کچھ ضروری اقدامات کرنے کا وقت ہے۔ کام بیشک کریں مگر اپنی استطاعت سے زیادہ ہرگز نہیں۔ ذہنی و جسمانی مشقت کے بعد کچھ دیر سکون کا سانس لیں۔ اپنی صحت و آرام کو اولین ترجیح دیں:
حدود مقرر کریں: ہر کام کیلئے ہاں کہنے کا مطلب اپنی توانائی کا بے دریغ استعمال کرنے پر راضی ہونا، جو ایک طرح سے اپنے آپ پر ہی ظلم ہے لہٰذا اپنی توانائی بچانے کی خاطر کبھی ’ناں‘ کہنا بھی ضروری ہے۔
ذمہ داریاں بانٹ لیں: ایسے گھرانے بلاشبہ مثالی ہیں جہاں سب ایک دوسرے کے مددگار ہوں، خیال رکھتے ہوں مگر وہ گھر اور خاندان بالکل بھی مثالی نہیں جہاں فردِ واحد سارے کام کرے اور باقی افراد بس تماشائی ہوں۔ ایسی جگہوں پر بے جا مروت اور غیر ضروری لحاظ کو بالائے طاق رکھ کر حسب مراتب سب میں ذمہ داریاں بانٹ دینا ضروری ہے۔
متوازن غذا لیں: توانائی حاصل کرنےکا بہتر ذریعہ وہ غذا ہے جو غذائیت سے بھرپور ہو، زیادہ محنت کرنیوالوں کو جن میں خواتین بھی شامل ہیں ایسی غذا کی بیحد ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا متوازن غذا لیں۔ اپنی صحت کے معاملے میں کوئی غفلت نہ برتیں۔
ذہنی سکون تلاش کریں: ذہنی تھکن سے راحت پانے کے لئے سوشل میڈیا کے لائک، شیئر، سبسکرائب اور فارورڈس کے گورکھ دھندے سے فاصلہ رکھیں، اپنے وقت اور توانائی کو کارآمد اور سکون آور مصروفیات کیلئے بچائیں، کتابیں پڑھیں یا فطرت کے قریب خاموشی کیساتھ کچھ وقت صرف اپنی معیت میں گزاریں۔ کچھ رونقیں خود سے بھی ہوتی ہیں۔ خود کو محسوس کریں۔