• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سُمِت سرکار: تاریخ کو عوام کی نظر سے دیکھنے والا مؤرخ

Updated: September 14, 2026, 5:33 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai

سمت سرکار کی تاریخ نویسی کا اہم سبق یہی ہے کہ تاریخ کو صرف فاتحین کی نظر سے نہیں بلکہ معاشرہ کی مختلف سطحوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستانی تاریخ نویسی میں اگر ان مؤرخین کی فہرست تیار کی جائے جنہوں نے جدید ہندوستان کی تاریخ کو ایک نئے زاویۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی، تو سمت سرکار (پیدائش: ۱۹۳۹ء-وصال: اگست ۲۰۲۶ء) کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کی علمی شناخت جدید ہندوستان کی تاریخ، قوم پرستی، نوآبادیاتی نظام، عوامی تحریکوں اور تاریخ نویسی کے مباحث سے وابستہ ہے۔ واضح ہو کہ سمت سرکار کلکتہ (موجودہ کولکاتا) میں ۱۹۳۹ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کلکتہ کے پریسیڈنسی کالج اور کلکتہ یونیورسٹی سے تاریخ کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں تدریس کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر کی حیثیت سے طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔ ان کا علمی سفر اس دور سے تعلق رکھتا ہے جب ہندوستان میں تاریخ نویسی کے روایتی قومی بیانیے کے ساتھ ساتھ مارکسی تاریخ نویسی، سماجی تاریخ اور بعد میں سب آلٹرن اسٹڈیز جیسے نئے رجحانات سامنے آ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ’ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت‘

سمت سرکار کی شہرت کا بنیادی سبب ان کی کتاب (دی سودیشی مومنٹ اِن بنگال: ۱۹۰۳ء-۱۹۰۸ء) ہے، جو پہلی مرتبہ ۱۹۷۳ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب بنگال کی سودیشی تحریک کے ان پانچ اہم برسوں کا گہرا مطالعہ ہے جو تقسیم ِ بنگال کے منصوبے سے لے کر علی پور بم کیس تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں سمت سرکار کی تاریخ نویسی کا ایک اہم امتیاز سامنے آتا ہے۔ وہ تحریک ِ آزادی کو صرف چند عظیم رہنماؤں کی سرگرمیوں تک محدود نہیں کرتے۔ ان کی دلچسپی اس بات میں بھی ہے کہ قوم پرستی کس طرح متوسط طبقے، طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور عام لوگوں تک پہنچی، اس کے سماجی اثرات کیا ہوئے اور مختلف طبقات نے قومی تحریک کو کس طرح محسوس کیا۔ یہ کتاب محض ایک سیاسی تحریک کی تاریخ نہیں رہتی بلکہ ایک پورے عہد کی سماجی تاریخ بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دفتر ِ ایس آئی آرکے اہلکار کا بُلاوا اَور میری حاضری

سمت سرکار کی دوسری انتہائی معروف کتاب ماڈرن انڈیا ہے۔ یہ کتاب ہندوستان کی جدید تاریخ پڑھنے والے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان طویل عرصے سے اہم مقام رکھتی ہے۔ اس میں ۱۸۸۵ء سے ۱۹۴۷ء تک کے ہندوستان کو سیاسی واقعات کے ساتھ ساتھ سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کے موضوعات میں اعتدال پسند سیاست، انتہا پسند قوم پرستی، سودیشی تحریک، مزدور اور کسان تحریکیں، گاندھی کی سیاست، رولٹ ستیہ گرہ، عوامی تحریکیں، فرقہ واریت، ذات پات کی تحریکیں، لسانی شناخت اور آزادی کے آخری مرحلے تک کے واقعات شامل ہیں۔ اس کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ سمت سرکار ہندوستانی قوم پرستی کو ایک یکساں اور مسلسل عمل کے طور پر نہیں دیکھتے۔ ان کے نزدیک قوم پرستی کے اندر مختلف رجحانات، طبقات اور سیاسی مفادات موجود تھے۔ اعتدال پسندوں کی سیاست اپنی جگہ اہم تھی، مگر اس کے ساتھ ایسے نوجوان اور سیاسی کارکن بھی پیدا ہو رہے تھے جو برطانوی حکومت کے خلاف زیادہ جارحانہ اور براہِ راست جدوجہد کے حامی تھے۔ اسی طرح گاندھی کی عوامی سیاست نے ہندوستانی قومی تحریک کو ایک نئی سماجی وسعت عطا کی۔ سمت سرکار ان تمام تبدیلیوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سمت سرکار کی تاریخ نویسی ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ تاریخ کسی ایک فرد کی بنائی ہوئی چیز نہیں ہوتی۔

سمت سرکار کا تعلق سب آلٹرن اسٹڈیز کے ابتدائی حلقے سے بھی رہا۔واضح ہو کہ سب آلٹرن تاریخ نویسی نے یہ سوال اٹھایا کہ ہندوستان کی تاریخ میں ان طبقات کو کتنی جگہ ملی جو اقتدار کے مراکز میں موجود نہیں تھے۔ کسان، قبائلی، مزدور اور عام لوگ تاریخی عمل میں شریک ہونے کے باوجود اکثر روایتی تاریخ کی کتابوں میں حاشیے پر چلے جاتے ہیں۔ سمت سرکار نے ابتدا میں اس رجحان سے قربت رکھی، لیکن بعد کے زمانے میں انہوں نے سب آلٹرن اسٹڈیز کے بعض بنیادی مفروضوں پر تنقید بھی کی۔ ان کا خیال تھا کہ اشرافیہ اور عوام کے درمیان ایک مطلق تقسیم قائم کر دینا تاریخ کے پیچیدہ عمل کو سمجھنے میں رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے۔ یہ علمی اختلاف سمت سرکار کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ہے۔

سمت سرکار کی ایک اور اہم کتاب رائٹنگ سوشل ہسٹری ۱۹۹۸ء ہے۔ اس کتاب اور ان کے دیگر مضامین سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ صرف تاریخ کے واقعات پر گفتگو نہیں کرتے بلکہ اس بات پر بھی غور کرتے ہیں کہ تاریخ لکھی کیسے جاتی ہے۔ مورخ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اپنے ذرائع کا انتخاب کیسے کرے، ان کی تعبیر کس طرح کرے اور مختلف سماجی طبقات کی آوازوں کو تاریخ کے متن میں کس طرح شامل کرے۔ یہی وجہ ہے کہ سمت سرکار کے ہاں تاریخ نویسی ایک سنجیدہ علمی اور فکری سرگرمی بن جاتی ہے۔ ان کی علمی دلچسپی صرف قوم پرستی تک محدود نہیں۔ خواتین، ذات پات، سماجی اصلاح، مذہب، فرقہ واریت اور جدید ہندوستان کے پیچیدہ سماجی ڈھانچے بھی ان کی تحقیق کا حصہ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سرزنش نہیں، اعتماد سازی حل ہے

ایک مورخ کا کمال یہ ہے کہ وہ ان بظاہر چھوٹے واقعات میں بڑے تاریخی امکانات کو دیکھ سکے۔ سمت سرکار کی علمی شخصیت اسی صلاحیت کی نمائندگی کرتی ہے۔ آج جب تاریخ کے میدان میں ایک طرف روایتی قوم پرستانہ بیانیے ہیں، دوسری طرف نئی شناختی سیاست ہے، اور تیسری طرف سوشل میڈیا کے مختصر اور اکثر غیر مستند تاریخی دعوے ہیں، ایسے وقت میں سمت سرکار جیسے مورخوں کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ان کی کتابیں ہمیں ماضی کے بارے میں معلومات دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سکھاتی ہیں کہ کسی تاریخی دعوے کو کس طرح پرکھا جائے۔ تاریخ کا مقصد ماضی کو مقدس بنا دینا نہیں، بلکہ ماضی کو سمجھنا ہے۔ اور سمجھنے کیلئے سوال کرنا ضروری ہے۔ سمت سرکار کی علمی زندگی اسی سوال کرنے کی روایت کی ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے ہندوستانی تاریخ کو سیاسی واقعات کے محدود دائرے سے نکال کر سماج، طبقے، عوامی تحریکوں، قوم پرستی، خواتین، ذات پات اور نظریاتی کشمکش کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی۔ ان کی بعض تعبیرات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے نظریاتی زاویوں پر بحث کی جا سکتی ہے، لیکن ان کی علمی اہمیت سے انکار مشکل ہے۔ ایک زندہ علمی روایت وہی ہوتی ہے جس میں اختلاف کی گنجائش ہو۔ سمت سرکار کی تاریخ نویسی ہمیں یہی درس دیتی ہے کہ مورخ کا کام کسی پہلے سے طے شدہ فیصلے کی تصدیق کرنا نہیں بلکہ شواہد کی روشنی میں سوال اٹھانا، مفروضوں کو پرکھنا اور ماضی کی پیچیدگیوں کو سامنے لانا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK