Inquilab Logo

مرکزی بجٹ معاشی ترقی کا وژن ہوگا، مراعات کا نہیں

Updated: July 09, 2024, 12:45 PM IST | Agency | New Delhi

گولڈمین ساخس کے مطابق حکومت معمولی اقدامات کے بجائے وسیع تر مفادات پر توجہ مرکوز کریگی مدھیہ پردیش کابینہ میں ایک وزیر کی توسیع مگر حلف برداری دو بار ہوئی۔

Finance Minister Nirmala Sitharaman. Photo: INN
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن۔ تصویر : آئی این این

ہندوستان میں بجٹ کا انتظار تقریباً ختم ہونے والا ہے۔ صرف ۲؍ ہفتوں میں (۲۳؍ جولائی کو)، ہندوستان کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن پارلیمنٹ میں مکمل بجٹ پیش کرنے جا رہی ہیں۔ دریں اثنا، عالمی سرمایہ کاری بینکنگ فرم گولڈمین ساخس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔ فرم کے تجزیہ کاروں نے ایک حالیہ نوٹ میں کہا ہے کہ آنے والا بجٹ مالیاتی استحکام کی راہ پر گامزن ہو گا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا مودی۳ء۰؍ بجٹ معمولی اقدامات کے بجائے وسیع تر اقتصادی ایجنڈے پر توجہ مرکوز کرے گا۔گولڈمین ساخس کا کہنا ہے کہ عوامی قرض کے زیادہ بوجھ کو دیکھتے ہوئے، معیشت کو متحرک کرنے کیلئے محدود مالی رقم ہے۔ مزید برآں، ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے کے اپ گریڈ نے طویل مدتی مثبت نمو کو ہوا دی ہے، جسے پالیسی ساز گنوانا نہیں چاہیں گے۔
 گولڈمین ساخس کے ایشیا پیسیفک کے چیف اکانومسٹ اور ایمرجنگ مارکیٹس اکنامک ریسرچ کے سربراہ اینڈریو ٹلٹن، سانتنو سین گپتا اور ارجن ورما  نے ایک مشترکہ نوٹ میں کہاکہ `حکومت طویل مدتی اقتصادی پالیسی کو جاری رکھے گی۔  وہ بجٹ میں    ترقی کے بارے میں بات کرے گی، چھوٹے محرک اعلانات نہیں کرے گی۔ یہ حکومت کے۲۰۴۷ء کے ترقیاتی ایجنڈے سے منسلک ہونے کا امکان ہے (جو کہ ہندوستان کی آزادی کی سو سال کی مناسبت سے ہے)۔ 
 گولڈمین ساخس کا خیال ہے کہ حکومت مالیاتی خسارے کا ہدف مالی سال۲۵ءکیلئے  مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے ۵ء۱؍ فیصد (یا اس سے کم) برقرار رکھے گی اور مالی سال ۲۶ء تک جی ڈی پی کے  ۴ء۵؍فیصد خسارے کا اعلان کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش کابینہ میں ایک وزیر کی توسیع مگر حلف برداری دو بار ہوئی

انہوں نے کہاکہ `اگرچہ ہم فلاحی اسکیم کے لئے  کچھ اخراجات کو مختص دیکھتے ہیں، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) سے متوقع ڈیویڈنڈ کی منتقلی کی وجہ سے سرمایہ کے اخراجات (کیپیکس) میں کمی کی ضرورت نہیں ہو سکتی ہے۔ اگر حکومت ہمارے جائزے کی بنیاد پر انکم ٹیکس پالیسی میں تبدیلیاں کرنے کا انتخاب کرتی ہے، تو حکومت کا محصولاتی خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً۵۔۱۵؍ بیسس پوائنٹس ہونے کا امکان ہے، جب کہ مالیاتی تسلسل۲۔۲؍ کی بنیاد پر ہونے کا امکان ہے۔ مالی سال۲۰۲۵ء میں پوائنٹس تقریباً۷؍ بیس پوائنٹس ہوں گے۔ 
لیبر انٹینسیو مینوفیکچرنگ کے ذریعے روزگار پیدا کرنا،ایم ایس ایم ایزکو قرض، جی سی سی  کو وسعت دے کر خدمات کی برآمدات پر توجہ مرکوز کرنا اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کیلئے  گھریلو فوڈ سپلائی چین اور انوینٹری مینجمنٹ پر زور، کچھ ایسے شعبے ہیں جن پر نرملا سیتا رمن  کا بجٹ میں توجہ مرکوز کرنے کا امکان ہے۔گولڈمین ساخس کا کہنا ہے کہ بجٹ ہندوستان  میں عوامی مالیات کے مستقبل کیلئے  ایک راستہ بھی متعین کرے گا۔

نرملا سیتا رمن زرعی قرض کے ہدف کو بڑھا کر۲۵؍ لاکھ کروڑ روپے کرسکتی ہیں 
حکومت زرعی قرض کا ہدف بڑھانے کا سوچ رہی ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن۲۳؍ جولائی ۲۰۲۴ءکو مرکزی بجٹ میں اس کا اعلان کر سکتی ہیں۔ وہ زرعی قرض کے لئے ۲۵؍ لاکھ کروڑ روپے مختص کر سکتی ہیں۔ یہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں ۲۵؍ فیصد اضافہ ہوگا۔ ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات دی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار بلاک سطح پر نابارڈ کے ذریعہ بنائے گئے پوٹینشل لنکڈ کریڈٹ پلان (پی ایل سی پی ) پر ہوگا۔ پی  ایل سی پی دیہی اقتصادی سرگرمیوں کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK