امریکی فوج نے آنے والے دنوں میں ایران سے منسلک تیل بردار جہازوں پر چڑھ کر ان کا کنٹرول سنبھالنے اور بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو ضبط کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 5:05 PM IST | New York
امریکی فوج نے آنے والے دنوں میں ایران سے منسلک تیل بردار جہازوں پر چڑھ کر ان کا کنٹرول سنبھالنے اور بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو ضبط کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
امریکی فوج نے آنے والے دنوں میں ایران سے منسلک تیل بردار جہازوں پر چڑھ کر ان کا کنٹرول سنبھالنے اور بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو ضبط کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج آنے والے دنوں میں ایران سے منسلک تیل بردار جہازوں پر سوار ہونے اور بین الاقوامی پانی میں تجارتی جہازوں کو ضبط کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی اپنی بحری کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ بندی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایرانی فوج آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر رہی ہے، اور ہفتے کے روز کئی تجارتی جہازوں پر حملے کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ کو سخت کنٹرول میں ہونے کا اعلان کیا۔
ان پیش رفت کے باعث شپنگ کمپنیاں پریشانی میں مبتلا ہو گئی ہیں، یہ صورت حال ایران کے وزیر خارجہ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز تجارتی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے، اس اعلان کا صدر ٹرمپ نے بھی خیر مقدم کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی بحری جہاز قبضہ کرنے کی کارروائیاں بین الاقوامی پانیوں میں ہوں گی، ممکنہ طور پر مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی۔ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکہ کسی بھی ایرانی پرچم بردار جہاز یا ایران کو مادی مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کا فعال طور پر تعاقب کرے گا۔ اس میں وہ ڈارک فلیٹ جہاز بھی شامل ہیں جو ایرانی تیل لے جا رہے ہیں۔
انھوں نے مزید وضاحت کی کہ ڈارک فلیٹ سے مراد وہ غیر قانونی یا مشتبہ جہاز ہیں جو بین الاقوامی ضوابط، پابندیوں یا انشورنس کی شرائط سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کین کے مطابق یہ نئی مہم، جسے جزوی طور پر امریکی انڈو-پیسیفک کمانڈ چلائے گی، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایران کے خلاف ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہوگی جسے اکنامک فیوری کہا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ارشد وارثی نے مزاحیہ کرداروں سے لطف اندوز کیا
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ٹرمپ کوامید ہے کہ یہ نئے اقدامات ایک امن معاہدے تک پہنچنے میں مدد دیں گے۔ رپورٹ میں سینٹکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ پہلے ہی ۲۳؍ جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے سے روک چکا ہے، جب سے اس نے آبنائے پر ناکہ بندی شروع کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آر ایس ایس دفتر کی سیکوریٹی کیخلاف عرضداشت
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے باہر بحری کارروائیوں کے پھیلاؤ سے امریکہ کو ایران کے خلاف مزید دباؤ ڈالنے کا موقع ملے گا، کیوں کہ وہ ایران جانے والے تیل یا ہتھیاروں سے لدے مزید جہازوں پر کنٹرول حاصل کر سکے گا۔ ادھر ایران نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز پر دوبارہ فوجی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہ اسے اس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک امریکہ ایران آنے جانے والے جہازوں کی مکمل آزادی کی ضمانت نہیں دیتا۔