مہاراشٹر میں دو ہزار سے زیادہ میوکورمائیکوسس کے معاملات ہوسکتے ہے: راجیش ٹوپے

Updated: May 12, 2021, 4:55 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر حکومت نے میڈیکل کالجوں سے وابستہ اسپتالوں کو میوکورمائیکوسس کے علاج کے مراکز کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے

Representational Picture (INN)
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

مہاراشٹر حکومت نے میڈیکل کالجوں سے وابستہ اسپتالوں کو میوکورمائیکوسس کے علاج کے مراکز کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے- ڈاکٹروں کے مطابق میوکورمائیکوسس ایک فنگل انفیکشن ہے جو مر یض میں تیزی سے پھیلتا ہے۔ کورونا سے ٹھیک ہونے والے ذیا بیطس کے مر یض اس بیمار ی میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ بروقت علاج ملنے پر مریض جلد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ میوکورمائیکوسس جسے سیاہ فنگس بھی کہا جاتا ہے، کی علامات میں ، سر درد ، بخار ، آنکھوں کے نیچے درد ،اور بینائی کا جزوی نقصان شامل ہے۔وزیر صحت راجیش ٹوپے کے مطابق "ریاست میں ابھی تک ٢ ہزار سے زیادہ میوکورمائیکوسس کے مریض ہوسکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ کووڈ-١٩کے کیس سامنے آنے سے ان کی تعداد یقینی طور پر بڑھے گی۔ "اب تک مہاراشٹر کے دیہی علاقوں میں میوکورمائیکوسس کے مر یض پائے گئے تھے تاہم، اب یہ بیماری شہری علاقوں میں بھی پھیل رہی ہے۔ حال ہی میں تھانے میں ایک خاتون کے اس مر ض میں مبتلا ہو نے کی اطلاح ملی تھی۔ تھانے اور ڈومبیولی میںمیوکومائیکوسس کے ایک ایک مر یض پائے گئے تھے جن کی موت واقع ہوگئی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ مہاراشٹر میں میوکورمائیکوسس سے یہ پہلی ا موات ہیں۔ " ایک میوکورمائیکوسس کے مریض کو مختلف ماہرین جیسے ای این ٹی، ماہرین نفسیات اور نیورولوجسٹس سے مشورہ کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK