ملّی تنظیموں کے ذمہ داران نےمتوجہ کیا۔ ائمہ مساجد سے بھی درخواست کی کہ وہ خطابِ جمعہ میں مصلیان کو اس جانب توجہ دلائیں۔
ایس آئی آر مہاراشٹر۔ تصویر:آئی این این
’’ ایس آئی آر(اسپیشل انٹینسیو ریویژن) کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس میں حصہ لیں اور صحیح طریقے سے کاغذات جمع کرکے فارم بھریں تاکہ کسی ایک بھی شہری کا نام فائنل ووٹر لسٹ میںدرج ہونے سے رہنے نہ پائے۔‘‘ ملّی تنظیموں کے ذمہ داران نے اس جانب توجہ دلائی۔ اسی کے ساتھ ائمہ سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ خطاب ِجمعہ میں بھی اس جانب مصلیان کو متوجہ کرائیںتاکہ ہرسطح پرآواز پہنچے ۔
’’ایس آئی آرکے ذریعے حق رائے دہی کویقینی بنائیں‘‘
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کےصدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہاکہ’’ ایس آئی آر کی اہمیت کومحسوس کرتے ہوئے جمعیۃ کی جانب سے ۱۹؍ اپریل کو بلائی گئی ذمہ داران کی میٹنگ سےہی میپنگ کاکام شروع کیا گیا۔جون میں جمعیۃ کی تمام یونٹوں کے ذمہ داران کو خطوط لکھ کریاد دہانی کروائی گئی اور ۱۲؍ جولائی کومنتظمہ کے اجلاس میں ایس آئی آر کو اہم ایجنڈے کے طور پر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی جمعیۃکی جانب سے بھی مسلسل خط وکتابت اوریاددہانی کروائی جارہی ہے۔ اس لئے اہتمام سے یہ کام جاری ہے ۔‘‘
رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمدسعید نوری نے کہاکہ’’ ایس آئی آر کے جاری فائنل راؤنڈ کےتعلق سے ساتھیوں کے ہمراہ گفت وشنید کی جاچکی ہے۔ یہ بہت اہم کام ہے ، اس سے جمہوری عمل میں عملی طور پر شرکت اوربحیثیت ہندوستانی ہماری شناخت وابستہ ہے۔ اس لئے اسے محسوس کیاجائے اوریہ بھی ذہن میں رہے کہ جن ریاستوں میں یہ عمل پورا ہوچکا ہے ،وہاں کس طرح کے حالات پیدا کئے گئے اور کتنی بڑی تعداد میں لوگوں کوحق رائے دہی سے محروم کردیا گیا۔اس لئے ہرشخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی موجودگی درج کرائے ۔‘‘
’’حکومت تو الجھاتی ہے مگر غافل نہ رہیں‘‘
جمعیۃ اہل حدیث کے نائب صدر مولانا عبدالجلیل انصاری نے کہاکہ’’ موجودہ حکومت کا طرز عمل کسی نہ کسی مسئلے میںعوام کوالجھانا ہے، ایس آئی آر بھی اسی طرح کی ایک مشق ہےمگر ہمیںایک ذمہ دار ہندوستانی کے طور پر اس میں شامل ہوناہے، قطعاً غفلت نہ ہونے پائے ورنہ حکومت کا منشاء یہی ہےکہ شہریوں کوحق رائے دہی سے محروم کردیا جائے۔ اندازہ کیجئے کہ پہلے راشن کارڈ پھر پین کارڈ پھر آدھار کارڈ اور اب پاسپورٹ کو بھی شہریت کاثبوت ماننے سے انکار کردیا گیا۔ اس لئے ہمیں قطعاً غافل نہیں رہنا ہے۔‘‘
مولانا محمودخان دریابادری نے کہاکہ ’’ مساجد کی سطح پر اور دیگر طریقوں سے بیداری کا عمل جاری ہے۔ اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر ) کی جانب سے اس تعلق سے مسلسل کوشش کی جارہی ہے۔ امید ہے کہ خاطرخواہ بیداری لائی جاسکے گی اور ہر شہری ایس آئی آر میںاپنی صحیح معلومات درج کراسکے گا ۔‘‘
’’گھر گھر اورعلاقے کی سطح پرپہنچنے کی ضرورت ‘‘
جماعت اسلامی کےمقامی امیر ہمایوں شیخ نے کہا کہ ’’ ایس آئی آر مہم کے سلسلے میں مختلف جماعتی یونٹس کے ذریعے ہیلپ ڈیسک قائم کئے جا رہے ہیں۔ ۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی بیداری مہم جاری ہے۔ اس سےمتعلق رہنمائی پر مبنی ویڈیوز، مختصر اینیمیشن اور معلوماتی پیغامات نشر کئے جا رہے ہیں تاکہ لوگوں تک صحیح معلومات پہنچے اور وہ بروقت اپنا فارم جمع کرا سکیں۔‘‘
علماء بورڈکے صدر مولانا نوشاد احمد صدیقی نے کہا کہ ’’ ایس آئی آر کے تعلق سے توجہ دلائی جارہی ہے، اس پر دھیان دیں ،غفلت نہ ہونے پائے ورنہ بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔‘‘