Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ملک میں آمریت تھوپنے کی کوشش ہو رہی ہے‘‘

Updated: June 18, 2026, 9:19 AM IST | Satara

سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے دعویٰ کیا کہ حلقہ بندی بل کو منظور کروانے کیلئے بی جے پی حکومت اپوزیشن پارٹیوں کو توڑ رہی ہے۔

Senior Congress leader Prithviraj Chavan (file photo)
کانگریس کے سینئر لیڈر پرتھوی راج چوہان( فائل فوٹو)

 شیوسینا( ادھو) میں محض ۴؍ سال کے عرصے میں دوسری بڑی پھوٹ پڑی ہے ، پارٹی کے ۹؍ میں سے ۶؍ اراکین پارلیمان اسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور پارلیمنٹ میںاپنا الگ گروپ بنا لیا ہے۔ امکان ہے کہ وہ شیوسینا (شندے) میں شامل ہو جائیں گے۔ اس سے قبل ممتا بنرجی کی پارٹی کے ۲۸؍ اراکین پارلیمان میں سے ۲۰؍ اراکین بھی پارٹی چھوڑ کر الگ گروپ بنا چکے ہیں۔ اسی کے پس منظر میں بات کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی حکومت پارلیمانی سیٹوں کی نئی حلقہ بندی کا بل منظور کروانے کیلئے اپوزیشن کی پارٹیوں توڑ رہی ہے۔ یاد رہے کہ یہ بل کچھ عرصہ پہلے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا لیکن ۲؍ تہائی سے زیادہ ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے خود بخود نا منظور ہو گیا تھا۔ 
 ستارا ضلع میں واقع اپنے حلقہ اسمبلی کراڈ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرتھوی راج چوہان نے کہا ’’ملک میں آمریت تھوپنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ آج کا دن ملک کی جمہوریت کیلئے یوم سیاہ ہے۔  بی جے پی لگاتار اپوزیشن پارٹیوں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا’’ لوٹس ، ٹائیگر ، لائن ‘ مجھے ان جانوروں کے نام نہیں معلوم لیکن میں نے سنا ہے کہ شیوسینا ( ادھو) میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور اس کے ۶؍ اراکین پارلیمان پارٹی چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ یہ مودی حکومت کی جانب سے اکثریت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے کیونکہ اس کے پاس پارلیمانی سیٹوں کی نئی حلقہ بندی سے متعلق بل کو منظور کروانے کیلئے تعداد کم ہے اور وہ اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح یہ تعداد پوری ہو جائے۔‘‘ 
 کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے بھی ادھو ٹھاکرے کو چھوڑ کر جانے والے ۶؍ اراکین پارلیمان کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے صرف ادھو ٹھاکرے کے ساتھ غداری نہیں کی ہے بلکہ مہا وکاس اگھاڑی اور عوام کو بھی دھوکہ دیا ہے۔ سپکال نے کہا کہ ان اراکین کو عوام نے بی جے پی کے خلاف ووٹ دے کر پارلیمنٹ بھیجا تھامگر انہوں نے بی جے پی سے لڑنے کے بجائے اس سے ہاتھ ملا لیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ یہ صرف پارٹی سے نہیں بلکہ عوام کے ووٹوں سے بھی خیانت ہے۔‘‘
 آپریشن ٹائیگر سے بی جے پی کا لینا دینا نہیں؟
 اس دوران بی جے پی سینئر لیڈر اور ریاستی وزیر چندر شیکھر باونکولے نے کہا ہے کہ ’ آپریشن ٹائیگر سے بی جے پی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ باونکولے نے کہا ’’ ایکناتھ شندے کی پارٹی کے تعلق سے فیصلہ ایکناتھ شندے کرتے ہیں اور ادھو ٹھاکرے کی پارٹی سے متعلق فیصلہ ادھوٹھاکرے کرتے ہیں۔ اس آپریشن ٹائیگر سے بی جے پی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘‘ انہوں نےکہا ’’ ا س آپریشن کے تعلق سے ہمارے لیڈران کے پاس بولنے کیلئے کچھ نہیں ہے کیونکہ جس معاملے سے ہمارا کوئی تعلق ہیں نہیں ہے اس پر ہم کیا بات کریں؟‘‘  یاد رہے کہ جب شیوسینا(شندے) کی پارٹی اپوزیشن کے لیڈران کو توڑ کر اپنے خیمے میں لے آتی ہے تو اسے ’ آپریشن ٹائیگر ‘ کہا جاتا ہے اور جب بی جے پی اپوزیشن پارٹی کے لیڈران کو اپنی طرف کرتی ہے تو اسے ’ آپریشن لوٹس‘ کہتے ہیں۔ کہا جا رہاہے کہ ابھی ملک کی کچھ اور پارٹیوں میں پھوٹ پڑ سکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK