Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’۹؍ میں سے کسی ایک ایف آئی آر میں بھی ’تبدیلیٔ مذہب‘ کا کہیں تذکرہ نہیں ہے‘‘

Updated: April 19, 2026, 9:23 AM IST | Nashik

ناسک ٹی سی ایس معاملے کی ملزمہ نداخان کے وکیل نے بتایا کہ معاملہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا درج ہے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا ناسک دورہ۔

Various allegations were made against Muslim employees of Tata Consultancy Jahan. Image: INN
ٹاٹا کنسلٹنسی جہاں کے مسلم ملازمین پر مختلف طرح کے الزام لگائے گئے۔ تصوہر: آئی این این

مہاراشٹر بھر میں ہنگامہ مچانے والے ناسک ٹی سی ایس گرفتاری معاملے میں میڈیا چینلوں پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ گرفتار کئے گئے ملازمین اپنے دفتر کے غیر مسلم ساتھیوں پر مذہب تبدیل کرنے کا دبائو بنا رہے تھے اور انہیں جبراً گوشت کھانے پر مجبور کر رہے تھے۔اسی کی بنیاد پر ہندوتوا وادی تنظیمیںشور بھی مچا رہی ہیں لیکن پولیس نے اس معاملے میں جو ایف آئی آر درج کی ہے اس میں کہیں بھی تبدیلی مذہب کا الزام نہیں ہے بلکہ صرف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور جنسی استحصال کا الزام ہے ۔ یہ کہنا ہے اس معاملے میں ملزمہ بنائی گئی کمپنی کی نداخان نامی ملازمہ کے وکیل بابا سید کا۔ ساتھ ہی ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول سوسائٹی نامی تنظیم کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا بھی کہنا ہے کہ میڈیا میں کچھ اور دکھایا جا رہا ہے جبکہ پولیس نے جو معاملہ درج کیا ہے وہ کچھ اور ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بنگال میں تعینات سی آر پی ایف جوانوں کے رول پر سوال

 ندا خان کے وکیل ایڈوکیٹ بابا سید سے ایک ٹی وی چینل نے جب یہ پوچھا کہ ندا خان کہاں ہیں تو انہوں نے کہا کہ مجھے خود نہیں معلوم ہے کہ وہ کہاں ہیں ۔ ان کے گھر والے بھی صدمے میں ہیں جو کچھ بھی ان کی بیٹی کے بارے میں ٹی وی پر بتایا جا رہا ہے اس سے۔ کبھی ان کا تعلق ملیشیا سے جوڑا جا رہا ہے تو کبھی دہلی سے۔ ان سب باتوں سے ان کے گھر والے پریشان ہیں۔یہ پوچھنے پر کہ ندا خان اور ان کے ساتھیوں پر یہ الزام ہے کہ وہ کمپنی میں تبدیلیٔ مذہب کا ریکیٹ چلا رہے تھے تو بابا سید نے کہا’’اس کیس میں کل ۹؍ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ان میں سے ایک جو دیولالی کیمپ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے اس میں ایک سی آڑ ۱۵۶؍ ۲۶؍ میں یہ لکھا ہے کہ ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام ہے۔ ان ۹؍ ایف آئی آر میں ایک میںبھی کہیں تبدیلیٔ مذہب کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جلد ہی نداخان کی قبل از گرفتاری ضمانت کیلئےدرخواست داخل کریں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: حکومت اور اپوزیشن باہم متصادم ،لفظی جھڑپیں

ادھر ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی مہاراشٹر یونٹ نے اس معاملے کی جانچ کیلئےفیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی ہے جس نے ناسک کا دورہ کیا۔اس ٹیم میں ایڈوکیٹ شاکر شیخ (ممبئی)، ایڈوکیٹ شعیب انعام دار (اکولہ)، ایڈوکیٹ عمران (ممبئی) ، ایڈوکیٹ وسیم شیخ (ناسک) اور جمیل احمد (ناسک) شامل ہیں۔ ٹیم نے ملزمین کے اہل خانہ اور ان کے وکلاء سے ملاقات کی، تاکہ کیس کے مختلف پہلوؤں اور زمینی حقائق کو سمجھ سکے۔وفد نے ناسک کے کمشنر آف پولیس کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ معاملے کی تفتیش مکمل غیر جانبدار اور قانون کے مطابق انجام دی جائے ۔اے پی سی آر کے نمائندے ناسک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ریمانڈ کی کارروائی کے دوران بھی موجود رہے تاکہ عدالتی عمل کا براہ راست مشاہدہ کیا جا سکے۔اے پی سی آر ٹیم کے مطابق زمینی سطح پر جو صورتحال ہے وہ میڈیا رپورٹ سے بالکل مختلف ہے۔ کچھ بیرونی عناصر اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK