Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک میں ایل پی جی، تیل اور پیٹرولیم کی کوئی کمی نہیں: پوری

Updated: March 13, 2026, 11:13 AM IST | New Delhi

مرکزی وزیرپیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے لوک سبھا میں وضاحت دی کہ ہندوستان کی خام تیل کی سپلائی مکمل طور پر محفوظ ہے۔

Union Petroleum Minister Hardeep Singh Puri. Photo: INN
مرکزی وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری ۔ تصویر: آئی این این

ملک کے مختلف حصوں میں گھریلو گیس سلنڈروں کی قلت کے سبب عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ کئی ریاستوں سے ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ بکنگ کے باوجود صارفین کو وقت پر سلنڈر نہیں مل پا رہے، جس کے باعث گھریلو زندگی کے ساتھ ساتھ ہوٹل اور ریسٹورنٹ کا کاروبار بھی متاثر ہورہا ہے۔دریں اثناء مرکزی وزیر پیٹرولیم  ہردیپ سنگھ پوری نے جمعرات کو لوک سبھا میں کہا کہ ہندوستان میں گیس سلنڈر، تیل اور پیٹرول کی کوئی کمی نہیں ہے۔ پوری نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے ملک میں تیل اور گیس کے بحران کا معاملہ اٹھائے جانے پر کہا کہ دنیا کی توانائی کی تاریخ میں شاید ہی کبھی ایسا وقت آیا ہو جیسا ابھی مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے لئے انتہائی سنگین سمجھی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز سے ۲۰؍فیصد نقل و حمل متاثر ہوئی ہے، ۴۰؍فیصد خام تیل دوسرے ممالک سے آ رہا ہے۔ ہمارے پاس خام تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ ہندوستان کی خام تیل کی سپلائی مکمل طور پر محفوظ ہے اور ہندوستان میں پیٹرول و ڈیزل کی کسی بھی طرح کی کوئی دقت نہیں ہے، ملک میں ابھی وافر گیس موجود ہے جو کئی دن تک چل سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایل پی جی قلت کیخلاف اپوزیشن کا زبردست احتجاج

ہردیپ پوری جو شدید تنقیدوں کی زد پر ہیں ، نے کہا کہ سی این جی کی سپلائی بھی ۱۰۰؍فیصد جاری ہے، ہندوستان میں ایل پی جی کے کارگو روزانہ آ رہے ہیں۔ گیس سلنڈر کے تعلق سے کسی بھی طرح سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسی گھبراہٹ کی وجہ سے مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ہردیپ سنگھ پوری نے بتایا کہ ملک میں ایل پی جی کی پیداوار میں ۲۸؍فیصد اضافہ ہوا ہے اور ملک طویل عرصے تک اس بحران سے نپٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ہندوستان ابھی بھی کنیڈا، ناروے اور روس سے تیل لے رہا ہے۔ساتھ ہی ہم نے گیس کی کالا بازاری کو روکنے کیلئے بھی اقدامات کئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK