تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے پایا کہ فیز چینج مٹیریل میں صرف ایک فیصد اسپنل آکسائیڈ نینو ذرات (نینو پارٹیکلز) ملانے سے اس کی مخصوص حرارت کی گنجائش میں تقریباً ۴۵؍ فیصد تک اضافہ ہو گیا۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 5:14 PM IST | New Delhi
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے پایا کہ فیز چینج مٹیریل میں صرف ایک فیصد اسپنل آکسائیڈ نینو ذرات (نینو پارٹیکلز) ملانے سے اس کی مخصوص حرارت کی گنجائش میں تقریباً ۴۵؍ فیصد تک اضافہ ہو گیا۔
ہندوستانی سائنسدانوں نے ایسا سستا اور اعلیٰ کارکردگی والا تھرمل (حرارتی) انرجی اسٹوریج مٹیریل تیار کیا ہے جو مرتکز شمسی توانائی (کنسنٹریٹیڈ سولر پاور - سی ایس پی) پلانٹس اور صنعتی فضلے سے پیدا ہونے والی حرارت کو دوبارہ استعمال میں لانے والے سسٹمز (انڈسٹریل ویسٹ ہیٹ ریکوری سسٹمز) میں استعمال ہونے والی تھرمل بیٹریوں کی صلاحیت کو کافی حد تک بڑھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:حیدرآباد اور بنگلور کے درمیان ٹاپ پوزیشن کیلئے جنگ!
وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی نے آج بتایا کہ شعبہ سائنس اور ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے خودمختار ادارے `انٹرنیشنل ایڈوانسڈ ریسرچ سینٹر فار پاؤڈر میٹالرجی اینڈ نیو مٹیریلز (اے آر سی آئی) کے محققین نے تھرمل انرجی اسٹوریج کے استعمال کے لیے اسپنل نینو کمپوزٹ فیز چینج مٹیریل (پی سی ایم) تیار کرنے کا ایک کفایتی اور بڑے پیمانے پر اپنایا جانے والا طریقہ کار تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے پایا کہ فیز چینج مٹیریل میں صرف ایک فیصد اسپنل آکسائیڈ نینو ذرات (نینو پارٹیکلز) ملانے سے اس کی مخصوص حرارت کی گنجائش میں تقریباً ۴۵؍ فیصد تک اضافہ ہو گیا۔ مخصوص حرارت کی گنجائش کسی مادے کی حرارتی توانائی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ نینو ذرات کے بہتر پھیلاؤ سے مٹیریل کی سطحی توانائی بڑھتی ہے اور ایک مستحکم اسپنل آکسائیڈ تہہ بنتی ہے، جس سے توانائی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اقتدار میں رہوگے تو مذاق بھی بنے گا:ویر داس کا ناقدین کو جواب
سائنسدانوں کے مطابق، اس نئے مٹیریل کی مدد سے کم مینوفیکچرنگ مٹیریل والے چھوٹے اور زیادہ موثر انرجی اسٹوریج ٹینک بنائے جا سکیں گے، جس سے سرمایہ کاری اور آپریشنل لاگت دونوں میں کمی آئے گی۔ یہ ٹیکنالوجی اگلی نسل کے اعلیٰ کارکردگی والے تھرمل انرجی اسٹوریج سسٹمز کی ترقی کی راہ ہموار کرے گی۔