ٹرمنس اور اہم ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کی تھرمل اسکریننگ

Updated: June 26, 2020, 6:06 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

کووِڈ۱۹؍ کے پیش نظر ۶۰؍ سال سے زائد عمر کے مسافروں کا آکسیجن لیول بھی چیک کیا جاتا ہے اور لیول کم ہونے یامسافروں کا ٹمپریچر بڑھنے پر انہیں ریلوے اسٹیشن پر موجود ایمبولینس میں طبی مدد پہنچا کر اسپتال لے جایا جاتا ہے۔ اس عمل میں بی ایم سی اور ریلوے ڈاکٹرز کی ٹیم مل جل کر کام کر رہی ہے

Kurla Terminal - Pic : Inquilab
کرلا ٹرمنس پربی ایم سی سیکوریٹی اہلکارکامیانی ایکسپریس سے آنیوالے مسافروں کی اسکریننگ کرتے ہوئے۔(تصویر:انقلاب)

کووِڈ۱۹؍ کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر  حکومت کی جانب سے ہر ممکن احتیاطی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں شہریوں کو مسلسل  مشورے اور ہدایات دی جارہی ہیں بلکہ بعض علاقوں میں سختی بھی کی جا رہی ہے۔ انہیں بھیڑ بھاڑ کرنے سے روکا بھی جارہا ہے اور گھر سے نکلنے کے وقت ماسک لگانے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ 
 اسی سلسلے میں ریلوے ٹرمنس ممبئی سینٹرل، چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس، لوکمانیہ تلک ٹرمنس، باندرہ ٹرمنس، تھانے اور کلیان ٹرمنس کے علاوہ خصوصی لوکل ٹرینوں میں سفر کرنیوالے ایمرجنسی خدمات پر مامور عملہ کی اہم ریلوے اسٹیشنوں پر  اسکریننگ کی جا رہی ہے اور ان کا ٹمپریچر ناپا جاتا ہے تاکہ اگر کسی کو بخار ہو یا کووِڈ ۱۹؍کی کوئی علامت پائی جاتی ہو تو ایسے مریض کو بلا تاخیر  طبی امداد پہنچائی جا سکے۔اس غرض سے ریلوے اسٹیشنوں اور ٹرمنس پر یہ کام بی ایم سی اور ریلوے کے ڈاکٹرز کی ٹیمیں مل کر کر رہی ہیں۔
بی ایم سی کی میڈیکل ٹیم کا طریقہ کار  
 بی ایم سی کی ڈپٹی چیف ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر دکشا شاہ نے نمائندہ انقلاب کو بتایا کہ’’ تمام ٹرمنس اور بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر بی ایم سی کی میڈیکل ٹیمیں اپنے کام میں مصروف ہیں  اور یہ کام وارڈ کی سطح پرہیلتھ آفیسر کی نگرانی میں کیا جا رہا ہے۔‘‘  ای وارڈ کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شیلیندر گجر نے انقلاب کو بتایا کی ممبئی سینٹرل ریلوے ٹرمنس پر۵؍ رکنی ٹیم کام کر رہی ہے اس میں ایک ڈاکٹر دو اسسٹنٹ ڈاکٹر اور دو ہیلپر ہوتے ہیں۔یہ ٹیم مسافروں کے باڈی ٹمپریچر کی پیمائش اور تھرمل اسکریننگ کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسی کیساتھ۶۰؍ سال سے زائد  عمر کے مسافروں کے آکسیجن لیول کی بھی جانچ کی جاتی ہے۔ اگر آکسیجن کم ہوتا ہے تو ریلوے اسٹیشن کے باہر کھڑی ایمبولینس میں آکسیجن سیلنڈر کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اور ایسے مسافر کو طبی مدد پہنچا کر جانچ سینٹر لے جایا جاتا ہے پھر ضرورت کے مطابق اور  ڈاکٹروں کے مشورے سے اسپتال  پہنچایا جا تا ہے۔ڈاکٹر گجر نے یہ بھی بتایا کہ  ہر روز الگ الگ وارڈ کی میڈیکل ٹیمیں ٹرمنس بھیجی جاتی ہیں۔
ریلوے کی میڈیکل ٹیم اس طرح کام کررہی ہے
 ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کووِڈ ۱۹؍سے پیدا شدہ حالات میں چونکہ مکمل طبی نگرانی ریاستی حکومت کی جانب سے کی جا رہی ہے ۔چنانچہ تمام احتیاطی تدابیر اپنانے کے ساتھ ریلوے کے ڈاکٹرز کی ٹیم بھی مسلسل  مسافروں کی جانچ پڑتال اور تشخیص کر رہی ہے۔ اگر کسی مسافر میں کووِڈ۱۹؍ کی علامت پائی جاتی ہے تو اسے شہری انتظامیہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ اس کا علاج کہاں ہوگا اور  اسے کونسے اسپتال میں داخل کروانا ہے یہ ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ریلوے انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسٹیشن پر سنیٹائزیشن صاف صفائی  اور دیگر احتیاط کے علاوہ ضرورت کے مطابق میڈیکل ٹیموں کو چیف میڈیکل آفیسر کی نگرانی میں الگ الگ مقامات پر مامور کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK