سونے کی خریداری روکنے کی تجویز پر تاجروں کا شدید احتجاج ،اپیل کومعیشت پرمنفی اثرڈالنے والا بتایا۔
پردیپ راکا پریس کانفرنس کے دوران ۔تصویر:آئی این این
وزیر ِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام کو ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز اور کفایت شعاری اپنانے کی اپیل کے بعد بھیونڈی کے صرافہ بازار میں بے چینی اور ناراضگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صرافہ تاجروں نے اس اپیل کو نہ صرف کاروبار کے لیے نقصان دہ قرار دیا بلکہ اسے ہزاروں سنار کاریگروں، چھوٹے تاجروں اور ملکی معیشت پر منفی اثر ڈالنے والا فیصلہ بھی بتایا ہے۔
شہر کے سرکردہ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر عوام سونے کی خریداری سے دور ہوگئے تو صرافہ صنعت شدید بحران سے دوچار ہوسکتی ہے۔بھیونڈی صرافہ اسوسی ایشن کے صدر اور ریاستی تنظیم کے نائب صدر پردیپ (پپو) راکا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سونا ہندوستانی سماج میں صرف زیور نہیں بلکہ محفوظ سرمایہ کاری اور مستقبل کی بچت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں وزیر ِ اعظم کی اپیل سے بازار میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے چھوٹے دکانداروں کے ساتھ ساتھ ہزاروں کاریگروں کا روزگار بھی متاثر ہوگا، کیونکہ صرافہ صنعت سے بڑی تعداد میں خاندانوں کی روزی روٹی وابستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود شہری آج بھی اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اگر خریداری مکمل طور پر متاثر ہوئی تو اس کے اثرات صرف صرافہ بازار تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ شیئر بازار اور دیگر تجارتی شعبوں پر بھی اس کا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
پردیپ راکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس اپیل کے پس منظر اور اس کے معاشی مقاصد کو واضح کیا جائے تاکہ عوام اور تاجر برادری میں پائی جانے والی تشویش کو دور کیا جاسکے۔انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ موجودہ شادیوں کے سیزن میں نئے سونے کی خریداری کم کرکے پرانے سونے کو ری سائیکل کرکے استعمال کیا جائے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ایک طرف سونے کی درآمد میں کمی آئے گی اور ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا، تو دوسری جانب صرافہ کاروبار بھی مکمل بحران سے محفوظ رہ سکے گا۔