گوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔امید ہےکہ مئی کے آخر تک اسے ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔
مذکورہ لنک روڈ پر ۴؍ مراحل میں کا م ہورہا ہے ۔تصویر:آئی این این
گوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔امید ہےکہ مئی کے آخر تک اسے ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ گوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ پر۱ء۲؍ کلو میٹر طویل فلائی اوور کی تعمیر جو کئی سال سے جاری تھی، اب اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ یہ فلائی اووَردنڈوشی کورٹ سے گوریگاؤں میں فلم سٹی تک ہے۔بی ایم سی کا مقصد مانسون کے آغاز سے پہلے اس راستے کا افتتاح کرنا ہے۔
یہ راستہ کہاں واقع ہوگا؟
نوبھارت ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق گوریگاؤںملنڈ لنک روڈ(جی ایم ایل آر) ۱۲ء۲؍کلومیٹر طویل ہے۔ ممبئی کے مشرقی اور مغربی مضافات کو جوڑنے کیلئے تعمیر کی گئی اس راہداری میں زیر زمین سرنگیں، فلائی اووَر اور کئی انٹرچینج شامل ہیں۔ ایک بار شروع ہونے کے بعد، یہ ممبئی کے مشرقی اور مغربی مضافات علاقوں کے درمیان براہ راست رابطہ کا ذریعہ ہوگا۔ یہ فلائی اوور اس منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے جو مغربی مضافات میں دنڈوشی کورٹ کے قریب شروع ہوتا ہے ۔ یہ فلائی اووَر سنجے گاندھی نیشنل پارک کے قریب ختم ہوتا ہے اور گاڑی چلانے والوں کو ان سڑکوں تک لے جاتا ہےجو مشرقی مضافاتی علاقوں سے جڑتی ہیں ۔ توقع ہے کہ اس راستے کے کھلنے سے ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے پر ٹریفک کی بھیڑ میں نمایاں کمی آئے گی۔
جڑواں سرنگ کب مکمل ہوگی؟
لنک روڈ پر جڑواں سرنگ کی تعمیر۲۰۲۷ء تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس سے ڈرائیور فلائی اووَر سے ٹنل تک براہ راست رسائی حاصل کر سکیں گے جس سے سفر بہت آسان ہو جائے گا۔ فلائی اووَر ۶؍ لین پر مشتمل ہوگا۔ مزید برآں، سڑک کے کنارے ایک اونچا پلیٹ فارم بنایا جا رہا ہے جس میں ایک ایلیویٹڈ روٹری ہے۔ فلائی اووَر کے دونوں اطراف ڈیک سلیب اور پیدل چلنے کے راستے بھی بنائے جا رہے ہیں۔
کام آخری مراحل میں
فی الحال اس فلائی اوور کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔ اسفالٹ بچھانے، پینٹنگ، ٹریفک سگنل کی تنصیب اور نشانات کا کام اس وقت جاری ہے ۔ توقع ہے کہ فلائی اووَر مئی کے آخر یا جون کے پہلے ہفتے تک ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ فی الحال، ممبئی میں تین اہم سڑکیں ہیں: سانتا کروز-چمبور لنک روڈ(ایس سی ایل آر)، اندھیری-گھاٹکوپر لنک روڈ(اے جی ایل آر) اور جوگیشوری-وکھرولی لنک روڈ(جے وی ایل آر) ۔ تاہم ان تینوں سڑکوں پر ٹریفک کی بھیڑ ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ سےگوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پروجیکٹ پر کل۱۴؍ ہزارکروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ اس رقم میں سے۳۰۰؍کروڑ روپے صرف پہلے مرحلے میں بنائے جانے والے فلائی اووَرز پر خرچ کئے گئے ہیں ۔ میونسپل کارپوریشن کامقصد۲۰۲۸ءتک پوری سڑک کو مکمل کرنا ہے۔
چار مرحلوں میں تعمیر
گوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ پر کام چار اہم مراحل میں کیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں ۲؍ فلائی اووَر بنائے جا رہے ہیں: ایک گوریگاؤں کی طرف اور دوسرا ملنڈ کی طرف۔ گوریگاؤں کی طرف کا فلائی اووَر۱ء۳؍ کلومیٹر لمبا ہے جو دنڈوشی کورٹ سے فلم سٹی تک جاتا ہے۔ ملنڈ کی طرف۱ء۹؍ کلومیٹر طویل فلائی اووَر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ تانسا پائپ لائن سے ناہور تک پھیلا ہوا ہے۔ اگلے مرحلے میں، فی الحال سنجے گاندھی نیشنل پارک کے نیچے سے گزرنے والی دو جڑواں سرنگوں پر کام جاری ہے۔ ناہور پر ریلوے پل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔
کچھ حصوں میں سڑک کی توسیع کا کام باقی ہے
اس کے علاوہ روٹ کے کچھ حصوں کے ساتھ سڑک کو چوڑا کرنے کا کام بھی جاری ہے۔ آخر میں، چوتھے اور آخری مرحلے میں، ملنڈ کے قریب ایک انٹرچینج بنایا جائے گا تاکہ اسے ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے سے ملایا جا سکے۔ ایرولی پل کی طرف جانے والا ایک کیبل اسٹیڈ پل بھی تعمیر کیا جائے گا۔ ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے پر گوریگاؤں کی طرف ایک انڈر پاس بنایا جائے گا تاکہ سگنل فری سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔