• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ تخلیقی دیوالیہ پن ہے: جاوید اختر نے فلم ’’بارڈر ۲‘‘ کے گانے دوبارہ کیوں نہیں لکھے

Updated: January 20, 2026, 7:12 PM IST | Mumbai

فلم ’’بارڈر ۲‘‘کے گانوں کے ریلیز ہونے کے بعد، مداحوں کے ردعمل میں واضح تقسیم دیکھی گئی۔ کچھ ٹریکس ۱۹۹۷ء کی اصل فلم کے موسیقی کے نئے انداز میں دوبارہ پیش کیے گئے ہیں۔

Border Movie.Photo:INN
بارڈر فلم۔تصویر:آئی این این

 فلم ’’بارڈر ۲‘‘کے گانوں کے ریلیز ہونے کے بعد، مداحوں کے ردعمل میں واضح تقسیم دیکھی گئی۔ کچھ ٹریکس ۱۹۹۷ء کی اصل فلم کے موسیقی کے نئے انداز میں دوبارہ پیش کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ سامعین جو پہلی فلم کے ساؤنڈ ٹریک کو بہت پسند کرتے تھے، مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
فلم ’’بارڈر ۲‘‘ کے گرد تعریف اور تنقید کے اس ملا جلا ماحول میں، نغمہ نگار جاوید اختر نے وضاحت کی کہ انہوں نے فلم کے گانوں پر دوبارہ کام کیوں نہیں کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اختر۱۹۹۷ءکی کلاسک فلم ’بارڈر‘کے مشہور ساؤنڈ ٹریک کے اصل شاعر تھے، جس کی وجہ سے ان کا یہ فیصلہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو میں جاوید اختر نے بتایا کہ واقعی انہیں فلم کے لیے گانے لکھنے کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے رد کر دیا اور اس اپروچ کو ’’ایک قسم کا فکری اور تخلیقی دیوالیہ پن ‘‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے:اعلیٰ ہندوستانی سی ای اوز ڈبلیو ای ایف میں ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے

آن لائن بحثوں اور تنقید کے حوالے سے، جہاں کچھ مداحوں نے کہا کہ گانوں میں جذباتی گہرائی کی کمی ہے، جاوید اختر نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس پروجیکٹ سے دور رہنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’ انہوں نے مجھے فلم کے لیے لکھنے کو کہا، لیکن میں نے انکار کر دیا۔ مجھے واقعی لگتا ہے کہ یہ ایک قسم کا فکری اور تخلیقی دیوالیہ پن ہے۔ آپ کے پاس ایک پرانا گانا ہے، جو کامیاب ہوا، اور آپ چاہتے ہیں کہ اسے کچھ اضافے کے ساتھ دوبارہ پیش کریں؟ نئے گانے بنائیں یا پھر یہ قبول کریں کہ آپ اسی معیار کا کام دوبارہ نہیں کر سکتے۔‘‘
معروف شاعر نے کلاسک گانوں کو دوبارہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ہر فلم کی اپنی منفرد روح ہوتی ہے اور اصل کا جادو آسانی سے دوبارہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی۲۰؍ سیریز: ناگپور میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا معرکہ

جاوید نے مزید کہاکہ ’’ جو گزر گیا، اسے گزرنے دیں۔ اسے دوبارہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے سامنے پہلے بھی ایک فلم تھی،’حقیقت‘(۱۹۶۴ء) اور اس کے گانے معمولی نہیں تھے۔ چاہے وہ ’’کر چلے ہم فدا  ‘ ہویا’میں یہ سوچ کر اُس کے در سے اٹھا تھا‘۔ یہ سب شاندار گانے تھے، لیکن ہم نے انہیں استعمال نہیں کیا۔ ہم نے نئے گانے لکھے، بالکل مختلف گانے بنائے  اور لوگوں کو وہ بھی پسند آئے۔ آپ دوبارہ فلم بنا رہے ہیں، تو نئے گانے بنائیں۔ کیوں ماضی پر انحصار کر رہے ہیں؟ آپ نے خود قبول کیا کہ ہم وہ نہیں کر سکتے۔ ہم ماضی کی عظمت کے ساتھ جئیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK