شرانگیزی اور وارننگ کے تعلق سے دہلی پولیس خاموش تماشائی، اے پی سی آر ہائی کورٹ سے رجوع، ممکنہ تشدد کو روکنے کیلئےہدایات جاری کرنے کی اپیل ۔
ہندوستانی مسلمان۔ تصویر:آئی این این
ہولی کے موقع پر تنازع میں ۲۶؍ سالہ ترون کی موت کےبعد اتم نگر کے ہستسال گاؤں میں یکطرفہ گرفتاریوں اور ایم سی ڈی کی انہدامی کارروائی نےجہاں مسلمانوں کیلئے زمین تنگ کردی ہے وہیں فرقہ وارانہ ماحول مسلسل بگاڑا جارہا ہے۔ بھگوا عناصر یہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ترون کی موت کا بدلہ عید کے دن ’’خون کی ہولی‘‘ کھیل کر لیا جائےگا۔ان دھمکیوں کی وجہ سے مقامی مسلمان علاقہ چھوڑ جانے پر مجبور ہیں جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کے رویہ کو دیکھتے ہوئے اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے بدھ کو دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور بتایا کہ قومی دارالحکومت کے اتم نگر میں اس ماہ کے اوائل میں ہولی سے متعلق ایک جھگڑے کے دوران ترون کمار کے قتل کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
عدالت نے عید سے قبل کشیدہ صورتحال والے علاقے میں ممکنہ فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کیلئے ہدایات جاری کرنے کی اس درخواست پر فوری سماعت پر اتفاق کیا۔یہ معاملہ چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے اس پر سماعت پر رضامندی ظاہر کی۔درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل نیتیہ رام کرشنن نے عدالت کو بتایا کہ سنگین دھمکیاں دی جارہی ہیں اور عید کے دن ’’خون کی ہولی‘‘ کی باتیں ہور ہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ’’ سوشل میڈیا پر میٹنگیں ہورہی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ’ہم عید پر خون کی ہولی کھیلیں گے۔‘ اس پر پولیس سے رجوع کیاگیا لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ‘‘ عرضی گزار نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ’’ہمیں شدید تشدد کا خدشہ ہے۔‘‘ انہوں نے عدالت سے فوری ہدایات جاری کرنے کی اپیل کی۔
اے پی سی آر، جو۲۰۰۶ء میں قائم کی گئی تھی، وکلا، سماجی کارکنوں اور نچلی سطح کے پیرا لیگل رضاکاروں کی ایک ٹیم ہے جو قانون اور انصاف کے درمیان خلا کو کم کر کے ایک مساوی اور منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ تنظیم مفت قانونی مدد، مالی معاونت فراہم کرتی ہے اور سیمینار، ورکشاپس اور مشترکہ اجتماعات کے ذریعے قانونی آگاہی بھی پھیلاتی ہے۔ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ علاقے میں اشتعال انگیز تقاریر اور پوسٹر گردش کر رہے ہیں جن میں مبینہ طور پر مسلمانوں کو عید منانے سے خبردار کیا جا رہا ہے۔ بعض پیغامات میں عید کے دن ہولی کھیلنے کی بات کی گئی ہے اور نماز سے پہلے تشدد کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔درخواست کے مطابق ترون کمار کا قتل دراصل دو خاندانوں کے درمیان ذاتی جھگڑے کا نتیجہ تھا، لیکن بعد میں اسے فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا جس سے علاقے میں خوف بڑھ گیا۔