خواتین کے ریزرویشن ترمیمی بل کو منظور کرانے میں ناکام رہنے کے بعد بنگال میں وزیر اعظم کی پہلی ریلی۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 12:21 PM IST | Mumbai
خواتین کے ریزرویشن ترمیمی بل کو منظور کرانے میں ناکام رہنے کے بعد بنگال میں وزیر اعظم کی پہلی ریلی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن ترمیمی بل کو منظور کرانے میں ناکام رہنے کے بعد بنگال میں اپنی پہلی ریلی میں ترنمول کانگریس پر جم کر تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال کی برسراقتدار پارٹی خواتین کو خود کفیل بنانے کے خلاف ہے۔اتو ار کو بانکورہ کے برجورہ-بشنو پور علاقے میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ یہ موجود بھیڑ ظالم حکومت کے خلاف غصے کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھیڑ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اس ریلی میں شرکت کے لیے گھنٹوں انتظار کر رہے ہیں۔ یہ لوگوں کے غصے کا اظہار ہے۔ ترنمول کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی دورِ حکومت میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہم ملک کی ترقی میں خواتین کی شرکت چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ خواتین اور بیٹیاں سیاست میں آئیں۔ بی جے پی خواتین کیلئے۳۳؍ فیصد ریزرویشن چاہتی تھی لیکن ترنمول ایسا نہیں چاہتی تھی کیونکہ خواتین ان کے `مہا جنگل راج کو چیلنج کر رہی ہیں۔ انہوں نے برسراقتدار جماعت پر خواتین کے ساتھ خیانت کرنے اور تفرقہ انگیز پالیسیوں کو فروغ دینے کا بھی الزام لگایا۔مودی نے کہا کہ یہ وہی ترنمول ہے جو دراندازوں کو ملک میں داخل ہونے دیتی ہے اور مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن چاہتی ہے۔ وہ دراندازوں کی بات سن رہے ہیں، کرمی سماج کی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے مشاہدات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مودی نے کہا کہ خاتون ریزرویشن بل نافذ ہونا چاہیے، لیکن ترنمول ایسا نہیں چاہتی۔ وہ نہیں چاہتے کہ ریاست کی خواتین خود کفیل بنیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ سیاست میں خواتین کی شرکت بڑھے۔ انہیں اس کی سزا ملنی چاہئے۔