Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز: ہندوستان کی طرف آنے والے ۸؍ جہازوں کو لوٹنا پڑا

Updated: April 20, 2026, 1:04 PM IST | Mumbai

فائرنگ کی زد میں آنے والے سَنمار ہیرالڈکو ابتدائی طور پر گزرنے کی اجازت دی گئی تھی مگر بعد میں  موقف تبدیل ہوگیا، جہاز کے عملہ کی آڈیو ریکارڈنگ سے انکشاف، کہا: ’’آپ نے ہمیں اجازت دی تھی اوراب فائرنگ کررہے ہیں؟‘‘

Indian flagged ship was fired upon in Hormuz on Saturday. Photo: INN
ہرمز پر ہندوستانی پرچم بردار جہاز پر سنیچر کو فائرنگ کی گئی۔ تصویر: آئی این این

سنیچر کو آبنائے ہرمز پار کرنے کی کوشش میں ہندوستان  کے جن دو جہازوں پر ایران کی جانب سے فائرنگ کی گئی  وہ  اُن ۸؍ ہندوستانی پرچم بردار جہازوں  میں شامل ہیں جنہیں ۱۷؍ اور ۱۸؍ اپریل کو آبنائے ہرمز پارکرنے کی ناکام کوشش کے بعد   لوٹنا پڑا۔  یہ تفصیل   marinetraffic.com   نے فراہم کی ہے۔   البتہ شپنگ کارپوریشن آف انڈیا(ا یس سی آئی ) کا خام تیل بردار ٹینکر ’’دیش گریما‘‘ جو ڈرائی ڈاک  کی مرمت کیلئے خلیج فارس گیا تھاآبنائے کو عبور کرنے میں کامیاب رہا۔ سنمار ہیرالڈ اُن دو جہازوں میں سے ایک ہے جس پر فائرنگ کی گئی۔ یہ  سنمار شپنگ کمپنی کی ملکیت ہے اور انڈین آئل کارپوریشن کے چارٹر پر  ہے، تقریباً۲۰؍ لاکھ بیرل خام تیل لارہا تھا۔ یہ آبنائے سے گزرتے وقت  سب سے آگےتھا اور جزیرہ لارک کو بھی عبور کر گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم میٹنگ

’دی ہندو ‘ اخبار میں ایم کلیان رمن اور دیبیان تیواری کی رپورٹ  کے مطابق سَنمار گروپ نے  بتایا کہ  جہازکو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ایک اور خام تیل بردار جہاز سنمار سپرنا، جو ڈرائی ڈاک کیلئے گیا تھا، اب بھی خلیج فارس میں  ہے اور محفوظ ہونے کی اطلاع دی ہے۔ ’’دیش وِبھور‘‘ نامی جہاز جو ایس سی آئی کی ملکیت ہے اور ریلائنس کے چارٹر پر تھا،  وہ  ۲۰؍ لاکھ  بیرل فیول آئل اور کویتی خام تیل لا رہا تھا۔اسے بھی لوٹنا پڑا۔ اس نے جزیرہ ہنگام کے جنوب سے اپنا راستہ تبدیل کیا۔ کنٹینر جہاز سی ایم اے سی جی ایم ڈائمنڈ اور سی ایم اے سی جی ایم ماناؤس نے جزیرہ لارک عبور کیا تھامگر انہیں بھی خلیج فارس کی طرف لوٹنا پڑا۔ آئل ٹینکر دیش سرکشا،  بلک کیریئر ’جگ اَرنَو ‘، ایل پی جی ٹینکر ڈی وی سرو شکتی بھی ان جہازوں میں شامل ہیں جنہیں  جزیرہ لارک کے قریب سے واپس لوٹنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں ایل پی جی کے استعمال میں مارچ میں تقریباً۱۳؍ فیصد کمی

ایندھن سے بھرے ۲۲؍ جہازوں کو ایرانی اداروں کے ساتھ رابطے  کے بعد ہندوستان واپس لانے کیلئے مختص کیا گیا  تھا۔   اس کی تصدیق فائرنگ کا سامنا کرنےوالے سنمار ہیرالڈ کے عملے کی بات چیت کی ریکارڈنگ سے بھی ہوتی ہے جس میں  ایرانی فائرنگ پر عملہ کی جانب سے کہاگیا  کہ ’’آپ نےہمیں اجازت دی تھی، آپ کی فہرست میں ہم دوسرے نمبر پر  ہیں، اب آپ فائرنگ کررہے ہیں، ٹھیک ہے ہم واپس لوٹ رہے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK