اس بار بنگال کے تقریباًایک کروڑ ۴۰؍ لاکھ ہندی بولنے والے ووٹر فیصلہ کریں گے کہ ریاست میں اقتدار کی کنجی کس کے پاس ہو گی،ٹی ایم سی اور بی جے پی دونوں کی ہندی ووٹروں پر نظر۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 12:27 PM IST | Mumbai
اس بار بنگال کے تقریباًایک کروڑ ۴۰؍ لاکھ ہندی بولنے والے ووٹر فیصلہ کریں گے کہ ریاست میں اقتدار کی کنجی کس کے پاس ہو گی،ٹی ایم سی اور بی جے پی دونوں کی ہندی ووٹروں پر نظر۔
کولکاتا (ایجنسی):مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں اب لسانی مساوات کو کافی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اس بار بنگال کے تقریباً۱۴؍ ملین(ایک کروڑ ۴۰؍ لاکھ) ہندی بولنے والے ووٹر فیصلہ کریں گے کہ ریاست میں اقتدار کی کنجی کس کے پاس ہو گی ۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، ریاست کی تقریباً۵۰؍ سے ۵۵؍ اسمبلی سیٹوں پر ہندی بولنے والے ووٹروں کا فیصلہ کن کردار ہے۔
بی جے پی اور ٹی ایم سی دونوں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں
ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی )اور بی جے پی دونوںان ووٹروں کو راغب کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت دونوں پارٹیوں نے بڑی تعداد میں ہندی امیدوار بھی کھڑے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس نے ہرے زہریلے سانپ پال رکھے ہیں: نونیت رانا
ہندی بولنے والوں کی طاقت کہاں اور کتنی ہے؟
پربھات خبر کی ایک رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال کی کل آبادی۱۰ء۵؍کروڑمیں سے ہندی بولنے والے تقریباً۱۴؍ ملین ہیں۔ یہ ووٹرز بنیادی طور پر شہری اور صنعتی علاقوں میں مرکوز ہیں۔
کلیدی علاقے: کولکاتا کا بڑا بازار ،بیہالا، دم دم ، اور ہاوڑہ۔
صنعتی پٹی: آسنسول، دُرگاپور، رانی گنج، کھڑگپور، سلی گڑی، مالدہ، اور ہگلی۔
۲۴؍پرگنہ: شمالی۲۴؍پرگنہ اور جنوبی۲۴؍پرگنہ کے شہری علاقوں میں بھی ہندی بولنے والی آبادی اچھی خاصی ہے۔
ممتا بنرجی کا ’ہندی کارڈ‘ بمقابلہ بی جے پی کا’ بزنس کلاس‘
ہندی بولنے والے لوگوں کو راغب کرنے کے لیے دونوں پارٹیاں مختلف حکمت عملی رکھتی ہیں۔مثال کے طورپر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہندی اکیڈمی قائم کی اور چھٹھ پوجا جیسے اہم تہواروں پر ۲؍ دن کی عام تعطیل کا اعلان کرکے اپنا موقف مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔جبکہ بی جے پی نے ہندی بولنے والی کمیونٹی میں مقامی تاجروں اور بااثر شخصیات سے براہ راست رابطہ قائم کیا ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ ہندی بولنے والے اس کےپختہ ووٹر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی سی ایس کیس ملزم کےرشتہ داروں کا ہراسانی معاملے کی آڑ میں دفتری سیاست کا الزام
ہندی بولنے والے امیدوار بھی میدان میں
دونوں پارٹیوں نے ہندی بولنے والے کئی مضبوط امید واروں پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔
بی جے پی کے سرکردہ لیڈر: نواپاڑہ سے ارجن سنگھ، بھاٹ پاڑہ سے پون سنگھ، چورنگی سے سنتوش پاٹھک، کولکاتا پورٹ سے راکیش سنگھ، شمالی ہاوڑہ سے امیش رائے اور پانڈویشور سے جتیندر تیواری جیسے لیڈر میدان میں ہیں۔
ٹی ایم سی کے ہندی چہرے: بالی سے کیلاش مشرا، جاموڑیا سے ہرے رام سنگھ، بارابنی سے ودھان اپادھیائے اور جوراسانکو سے وجے اپادھیائے ٹی ایم سی کو فتح کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
۵۰؍ سیٹوں پر قریبی مقابلہ
ماہرین کا خیال ہے کہ ہندی اکثریتی۵۰؍اسمبلی حلقوں میں مقابلہ بہت دلچسپ ہوگا۔ بی جے پی کو امید ہے کہ ہندی بولنے والے رائے دہندگان لسانی اور ثقافتی وابستگی کی وجہ سے اس کا ساتھ دیں گے جب کہ ٹی ایم سی ہندی اکیڈمی جیسے فلاحی اقدامات کی بنیاد پر پُراعتماد ہے۔۲۳؍ اور۲۹؍ اپریل کو ہونے والی ووٹنگ اور۴؍مئی کو آنے والے نتائج فیصلہ کریں گے کہ `ہندی بولنے والوں کا دل کس کے لیے دھڑکتا ہے۔