Inquilab Logo Happiest Places to Work

شادیوں کے سیزن کا آغاز، ملک میں ۳؍ لاکھ کروڑ روپے کے ممکنہ کار و بار کی اُمید

Updated: April 20, 2026, 1:15 PM IST | Mumbai

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگ کی وجہ سے تقریباً ۲؍ ماہ سے ملک کے بازار میں ماتم کا ماحول ہے۔ تاجروں کے کاروبار متاثر ہوئے اور فروخت میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی۔ ان حالات میں اب امید کی کرن نظر آرہی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگ کی وجہ سے تقریباً ۲؍ ماہ سے ملک کے بازار میں ماتم کا ماحول ہے۔ تاجروں کے کاروبار متاثر ہوئے اور فروخت میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی۔ ان حالات میں اب امید کی کرن نظر آرہی ہے۔ اتوار کو ’اکشے تریتیا‘ کے ساتھ شادی کا سیزن شروع ہو رہا ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو خاصی راحت ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔ این سی آر اور ملک بھر میں ۱۹؍ اپریل سے۱۳؍جولائی تک شادیوں کی ۲۸؍ تاریخیں نیک (شُبھ) مانی گئی ہیں۔ اس عرصے کے دوران لاکھوں جوڑے شادی کے بندھن میں بندھیں گے جس کی وجہ سے متعلقہ کاروبار سے وابستہ لوگوں کے چہروں پر خوشیاں صاف جھلک رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز: ہندوستان کی طرف آنے والے ۸؍ جہازوں کو لوٹنا پڑا

چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) کے چیئرمین برجیش گوئل کے مطابق اس سال ملک بھر میں تقریباً ۳۵؍ لاکھ شادیاں ہوں گی جس سے تقریباً ۳؍ لاکھ کروڑ روپے کا کاروبار ہوسکتا ہے۔ وہیں دہلی میں تقریباً ۳؍ لاکھ شادیوں سے ۵۰؍ ہزار کروڑ روپے کے کاروبار کا اندازہ ہے۔شادی سیزن کے سلسلے میں بازاروں میں ابھی سے رونق اور امیدیں پروان چڑھنے لگی ہیں۔ راجدھانی دہلی کے چاندنی چوک، صدر بازار، قرول باغ، لاجپت نگر، سروجنی نگر اور راجوری گارڈن جیسے علاقوں میں کپڑے، زیورات، مٹھائی، تحائف اور آرائشی سامان فروخت کرنے والی دکانوں پر لوگوں کی بھیڑ بڑھنے کی امید کی جارہی ہے اور لوگ شادی کی خریداری کے لیے گھروں سے نکلنا شروع ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم میٹنگ

سی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر دیپک گرگ اور نائب صدر راہل ادالکھا کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جی ایس ٹی میں تبدیلی کے بعد لوگوں کی خریداری کی عادات بدل گئی ہیں۔ اب لوگ غیر ملکی اشیاء کے بجائے ہندوستانی مصنوعات زیادہ خرید رہے ہیں۔ اس سے ملک میں کاریگروں، جیولرس اور چھوٹے کاروباروں کو اچھا روزگار مل رہا تھا لیکن جنگ نے کاروبار کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے اور کئی شعبے کساد بازاری کا سامنا کررہے ہیں۔اندازہ کے مطابق شادی کے اس سیزن میں ۵۰؍ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK