ہندی فلموں کے ایک بہترین نغمہ نگار اور ’چودھویں کا چاند ہو‘ جیسے گیتوں کے خالق شکیل بدایونی یعنی شکیل احمد، ۳؍ اگست ۱۹۱۶ء کو اترپردیش کے بدایوں قصبے میں پیدا ہوئے۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 1:30 PM IST | Mumbai
ہندی فلموں کے ایک بہترین نغمہ نگار اور ’چودھویں کا چاند ہو‘ جیسے گیتوں کے خالق شکیل بدایونی یعنی شکیل احمد، ۳؍ اگست ۱۹۱۶ء کو اترپردیش کے بدایوں قصبے میں پیدا ہوئے۔
ہندی فلموں کے ایک بہترین نغمہ نگار اور ’چودھویں کا چاند ہو‘ جیسے گیتوں کے خالق شکیل بدایونی یعنی شکیل احمد، ۳؍اگست ۱۹۱۶ء کواتر پردیش کے بدایوں قصبےمیں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ والد جمیل احمد سوختہ قادری بدایونی ممبئی کی مسجد میں خطیب او رپیش امام تھے اس لیے شکیل کی ابتدائی تعلیم اسلامی مکتب میں ہوئی۔اردو، فارسی اورعربی کی تعلیم کے بعد مسٹن اسلامیہ ہائی اسکول بدایوں سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیےشکیل ۱۹۳۲ءمیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔شکیل نے علی مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو انہوں نے انٹر کالج، انٹر یونیورسٹی کے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کیا اور مسلسل ان مشاعروں کو اپنے نام کیا۔ فروری ۱۹۴۶ء میں ایک مشاعرےکے سلسلے میں بمبئی آئےجہاں ان کی ملاقات مشہور فلمساز اے آرکاردار سے ہوئی۔ اس دوران انہوں نے مختلف مشاعروں میں حصہ لیا جہاں ان کے کلام کی عزت افزائی کی گئی۔ اے آر کاردار کے اصرارپرشکیل نےمستقل طور پر بمبئی کو ہی اپنی رہائش گاہ بنالیا۔شکیل نے ۱۰۰؍سےزیادہ فلموں کے اردو، ہندی اورپوربی زبانوں میں گیت لکھےعلی گڑھ میں قیام کے دوران جگر مراد آبادی سے ملاقات ہوئی۔ ان کی وساطت سے فلمی دنیا میں داخل ہوئے اور سو سے زائد فلموں کےلیےگیت لکھے، جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
۱۹۴۷ءمیں اپنی پہلی ہی فلم ’درد‘کےگیت ’افسانہ لکھ رہی ہوں‘ کی بے پناہ کامیابی سے شکیل بدایونی کامیابی کی چوٹی پر جا بیٹھے۔ شکیل بدایونی نے نوشاد، روی، ہیمنت کمار، ایس ڈی برمن اور سی رام چندر جیسے ممتاز موسیقاروں کی دھُنوں پر دو سو سے زائد نغمے لکھے۔ ان کے گیتوں کو محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، مکیش، شمشاد بیگم، ثریا، مہندرکپور، طلعت محمود، روی شنکر شرما، گیتا دت اور ہردئے ناتھ منگیشکر جیسے صفِ اول کے گلوکاروں نے اپنی آواز میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ورون دھون نے سلمان خان کو ’’ملک کا سب سے بڑا کنوارا‘‘ قرار دیا
شکیل بدایونی نےدلاری(۱۹۴۹ء، دیدار (۱۹۵۱ء)، مدر انڈیا (۱۹۵۷ء)، چودہویں کا چاند (۱۹۶۰ء)، مغلِ اعظم (۱۹۶۰ء)، گنگا جمنا (۱۹۶۱ء)، صاحب بی بی اور غلام (۱۹۶۲ء)، میرے محبوب (۱۹۶۳ء)، دو بدن(۱۹۶۶ء)جیسی سپر ہٹ فلموں میں اپنے نغموں سے دھوم مچا دی۔شکیل بدایوں کو ۱۹۶۱ءمیں ریلیز ہوئی فلم چودھویں کا چاند کے نغمے’چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو‘ کیلئےفلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے بعد ۱۹۶۲ءمیں فلم گھرانہ کے گانے’حسن والے تیرا جوا ب نہیں ‘کے لئے پھر بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ دیا گیا۔ ۱۹۶۳ء میں سسپینس سے بھرپور فلم بیس سال بعد کے نغمہ ’کہیں دیپ جلے کہیں دل‘کے لئے انہیں ایک مرتبہ پھربہترین نغمہ نگار کے طور پر منتخب کیا گیا۔ شکیل کو شاعری کےعلاوہ بیڈمنٹن کھیلنا بہت پسند تھا۔ وہ اپنے دوست احباب کےساتھ جب بھی پکنک پر جاتے تو وہ بیڈمنٹن کےساتھ ساتھ پتنگ بازی بھی کرتے تھے۔ نوشاد، محمد رفیع اورکبھی کبھار جانی واکر بھی ان کے ساتھ پتنگ بازی کے مقابلے میں حصہ لیا کرتے تھے۔ شکیل بدایونی کامحض ۵۳؍برس کی عمر میں ۲۰؍اپریل ۱۹۷۱ءکوممبئی میں انتقال ہوا، اوریہیں دفن ہوئے۔ مگر قبرستان کی انتظامیہ نےاور دوسری بہت سی مشہور شخصیات کی طرح۲۰۱۰ء میں ان کی قبر کا نام و نشان تک مٹا دیا۔