۱۱؍ اگست ۲۰۲۵ء کو شرپسندوں نے سلیمان کو صرف اس لئے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا کہ وہ ایک غیر مسلم لڑکی کے ساتھ کیفے میں بیٹھا کافی پی رہا تھا ،گرفتار کئے گئے ملزمین کو بہ آسانی ضمانت بھی مل چکی ہے۔
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 11:30 AM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon
۱۱؍ اگست ۲۰۲۵ء کو شرپسندوں نے سلیمان کو صرف اس لئے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا کہ وہ ایک غیر مسلم لڑکی کے ساتھ کیفے میں بیٹھا کافی پی رہا تھا ،گرفتار کئے گئے ملزمین کو بہ آسانی ضمانت بھی مل چکی ہے۔
آج سے ٹھیک ایک سال پہلے یعنی ۱۱؍ اگست ۲۰۲۵ء کو جلگائوں ضلع کے جامنیر تعلقے میں واقع بناد خرد گائوں میں رہنے والے سلیمان رحیم خان نامی( ۲۱ ) کا ہجومی تشدد میں قتل ہو گیا تھا۔ واقعے کے ایک سال بعد بھی جلگائوں سیشن کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت چھوٹی چھوٹی قانونی پیچیدگیوں میں الجھی ہوئی ہے۔ اصل سماعت شروع نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا سلیمان کے والدین انصاف کے منتظر ہیں ۔ سلیمان خان قتل کے ایک سال مکمل پر اس مقدمے کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی خطرے کے پیش نظر ٹرمپ نے ترکی سے خفیہ فوجی طیارے میں سفر کیا
معاملہ کیا ہے؟
جلگائوں ضلع کے جامنیر تعلقے میں واقع قصبہ بناد خرد کا رہنے والا سلیمان پولیس بھرتی کی تیاری کر رہا تھا۔ ۱۱؍ اگست ۲۰۲۵ء کی صبح وہ اپنے کسی کام کی غرض سے جا منیر آیا تھا۔ یہاں وہ جامنیر پولیس اسٹیشن سے نزدیک دی برانڈ کیفے میں اندر اپنی ایک دوست کے ساتھ بیٹھا تھا۔ تبھی اس کے گاؤں کا ایک لڑکا اپنے ۸؍۔ ۱۰؍ساتھیوں کو لے کر کیفے میں آیا اور اس نے پہلے سلیمان کے ساتھ تکرار کی پھر انہوں نے سلیمان کے ساتھ مار پیٹ شروع کر دی۔ وہ سلیمان کو گاڑی میں ڈال کرجامنیر سے نزدیک ایک جگہ پر لے گئے اور وہاں بھی زدوکوب کیا۔ پھر اسے اس کے گائوں بناد خرد لے گئے اور وہاں بری طرح مارا پیٹا۔ سلیمان کے اہل خانہ اسے بچانے آئے تو انہیں بھی مارا گیا اور دھمکایا گیا۔ حملہ آوروں کا الزام تھا کہ سلیمان کے اس لڑکی ( جو کیفے میں اس کے ساتھ بیٹھی تھی) کے ساتھ تعلقات تھے حالانکہ وہ لڑکی اس کے مذہب سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ مارپیٹ سے نڈھال سلیمان جب اپنے گھر پہنچا تو اسے الٹی ہوئی۔ اہل خانہ اسے فورا جا منیر کے اسپتال لے گئے جہاں علاج سے شروع ہونے سے پہلے ہی اس نے دم تو ڑ دیا۔
اس معاملے میں جامنیر پولیس اسٹیشن میں سلیمان کے والد کی شکایت پر مجموعی طور پر۵؍ افراد کے خلاف بھارتیہ نیا ئے سہنتا کی دفعہ ۱۰۳(۱) (۲) ۱۸۹۰۱۴۰۰ (۲) ۱۹۱ (۲) (۳)، ۱۱۸، ۱۹۰ (۱) ۱۱۵ (۲) ۳۶۱۳۵۲ (۲) کے تحت معاملہ درج کیا جن میں سے ۴؍ لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ ایس آئی ٹی کو جانچ کے بعد ۱۰؍ نومبر ۲۰۲۵ تک عدالت میں چارج شیٹ داخل کرنی تھی۔ پولیس نے ۸؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو چارج شیٹ داخل کر دی لیکن عدالت کے سپرنٹنڈنٹ نے چارج شیٹ قبول نہیں کی اور اس پر ’ کمیاں ‘ لکھ کر واپس کر دی۔ اس طرح ۹۰؍ دنوں کے اندر چارج شیٹ داخل نہیں ہو سکی اور عدالت نے ملزمین ابھیشک راجپوت (۲۴ )، دیپک گھوساوی ( ۲۰ ) رنجن ما تاڑے (۲۸ ) اور سورج شرما (۲۵ ) کو ڈیفالٹ ضمانت دیدی۔
یہ چاروں اب باہر ہیں جبکہ پانچواں ملزم فرار ہے۔ جبکہ عدالت میں معاملے کی سماعت شروع ہی نہیں ہوسکی۔ سلیمان خان کے اہل خانہ کی پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ شریف سے جب اس معاملے میں نامہ نگار نے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ چھوٹی چھوٹی قانونی وقتوں کی وجہ سے سماعت شروع نہیں ہو رہی ہے۔ عدالت سماعت شروع کرنا چاہتی ہے۔ یہ مقدمہ جامنیر کی عدالت سے جلگائوں سیشن کورٹ منتقل ہو چکا ہے۔ یکم دسمبر ۲۰۲۵ ءکو یہ کیس سیشن کورٹ میں رجسٹرڈ ہو گیا ہے۔ سیشن کورٹ نے ملزمین کو عدالت میں حاضر کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن پولیس نے انہیں اب تک حاضر نہیں کیا ہے۔
اطلاع کے مطابق ایس آئی ٹی نے ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل جانچ رپورٹ ( چارج شیٹ ) عدالت میں پیش کی ہے۔ اس معاملے میں انصاف کیلئے تگ ودو کرنے والی تنظیم ایکتا سنگٹھن کے فاروق شیخ نے بتایا کہ چارج شیٹ میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ سلیمان کے کسی لڑکی کے ساتھ تعلقات تھے یا اس کے پاس لڑکی کے نازیبا فوٹو تھے، یا اس نے لڑکی کے ساتھ کوئی زیادتی کی تھی بلکہ صرف اتنا لکھا ہے کہ وہ لڑکی کے ساتھ کیفے میں کافی پی رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قتل کا جواز پیش کرنے کیلئے جو الزامات سلیمان پر لگائے جا رہے تھے وہ بے بنیاد ثابت ہوئے۔ ملزمین نے خود کو بچانے کیلئے سلیمان اور لڑکی کو بدنام کرنے کی کوشش کی تھی۔
اسی دوران سلیمان کے اہل خانہ نے ہائی کورٹ اورنگ آباد بینچ کے سامنے تحسین ہونہ والا کیس کا حوالہ دیتے ہوئےگھر کے ۵؍ افراد کو فی کس ۵؍ لاکھ روپے یعنی مجموعی طور پر ۲۵؍ لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کی اپیل دائر کی تھی۔ اس معاملے میں پولیس کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ نسیم الدین آر شیخ نے جرح کی تھی۔ یہ معاملہ ابھی زیر التواء ہے۔ اس نامہ نگار نے ملزمین کے وکلاء اور پولیس افسران سے بھی ان کا موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا تھا مگرانہوں نے یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ معاملہ کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اس پر بات نہیں کی جاسکتی ہے۔