Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاض میں صوفہ فیکٹری میں بھیانک آتشزدگی،۱۶؍ بنگلہ دیشی مزدور ہلاک

Updated: August 11, 2026, 12:30 PM IST | Agency | Riyadh/Dhaka

مہلوکین میں سے۱۰؍ کا تعلق بنگلہ دیش کے شمالی ضلع ناؤگاؤں سے تھا، جبکہ باقی افراد کا تعلق شمالی اور مغربی علاقوں کے اضلاع سے تھا، اہل خانہ پرغموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

Moina Begum and Ghaffar Pramanik are in shock over the sudden death of their son, Mohan. Picture: INN
معینہ بیگم اور غفارپرمانک اپنے بیٹے موہن کی ناگہانی موت سے صدمےمیں ہیں۔ تصویر: آئی این این

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع ایک صوفہ ساز فیکٹری میں بھیانک آتشزدگی کے حادثے میں ۱۶؍ ملازمین جاں  بحق ہوئے ہیں  جبکہ کچھ زخمی ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں  بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ مذکورہ سانحے میں کم از کم۱۶؍ بنگلہ دیشی تارکین وطن مزدوروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مہلوکین میں  ۱۰؍ کا تعلق بنگلہ دیش کے شمالی ضلع ناؤگاؤں سے تھا، جبکہ باقی افراد کا تعلق شمالی اور مغربی علاقوں کے اضلاع ناتوَر اور راج شاہی سے تھا۔ بنگلہ دیش کے وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کیلئے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:این سی پی (شرد) کے اراکین پارلیمان کی نریندر مودی سے ملاقات

وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ۲۴؍ گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔ دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کےمسترد کرنےکےباوجود غزہ منصوبہ ہی ”آگے بڑھنے کا واحد راستہ“: غزہ کیلئےہائی کمشنر ملادینوف

ایک مزدور کا آخری پیغام’’اب میں آپ سے مزید بات نہیں کر سکوں گا‘‘

ڈیلی اسٹار کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاض آتشزدگی سانحے میں  جاں  بحق موہن پرمانک نے اپنے گھر پر آخری وائس نوٹ بھیجا تھا۔ آئیمو پر اس کے الفاظ تھے’’آپ سب کہاں ہیں ؟ کوئی فون کیوں نہیں اٹھا رہا؟ کیا گھر میں سب لوگ مر گئے ہیں ؟ اب میں آپ سے مزید بات نہیں کر سکوں گا۔ ‘‘ یہ ۲۸؍ سالہ موہن پرمانک کے اپنے خاندان سے کہے گئے آخری الفاظ تھے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ریاض میں واقع اس فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی جہاں وہ صوفے بنانے کا کام کرتا تھا۔ موہن کی والدہ معینہ بیگم اس کی فون کال کا جواب نہیں دے سکیں، کیونکہ گھر میں بجلی نہیں تھی اور اسی وجہ سے انٹرنیٹ بھی دستیاب نہیں تھا۔ بعد میں موہن نے انہیں ایک وائس میسج بھیجا۔ ناؤگاؤں کے اترائی اپازیلا کے گاندگاہالی گاؤں میں جب معینہ بیگم، ان کے چھوٹے بیٹے سمن اوران کے شوہر غفار پرمانک کو جب بیٹے موہن پرمانک کی حادثاتی موت کی اطلاع ملی تو وہ یہ سن کر بے ہوش ہوگئے تھے۔ معینہ نے آنسوؤں کے درمیان اپنے بیٹے کے آخری الفاظ بیان کیے۔ موہن گزشتہ سات سال سے گھر واپس نہیں آیا تھا۔ متوفین میں شامل روبیل میاں کا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا اور وہ گزشتہ آٹھ سال سے سعودی عرب میں کام کررہا تھا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK