Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت خاتون صحافیوں کے خلاف بدسلوکی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے: یو این کی رپورٹ میں انکشاف

Updated: May 02, 2026, 10:11 PM IST | New York

یو این ویمن کی رپورٹ ۱۱۹ ممالک سے تعلق رکھنے والے ۶۴۱ جواب دہندگان کے ۲۰۲۵ء میں کئے گئے عالمی سروے پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں ہراساں کرنے کے عمل کو شدید بنانے میں ڈیپ فیکس اور ہیرا پھیری پر مبنی مواد جیسے اے آئی ٹولز کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے خواتین، یو این ویمن (UN Women) کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حالیہ برسوں میں خاتون صحافیوں کے خلاف آن لائن تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا نمایاں کردار اس بدسلوکی کو مزید وسیع، جارحانہ اور نقصان دہ بنا رہا ہے۔

۳ مئی کو ’عالمی دن برائے آزادئ صحافت‘ سے قبل شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، ۲۰۲۰ء سے اب تک خاتون صحافیوں کو نشانہ بنانے والی آن لائن بدسلوکی کے رپورٹ شدہ معاملات دو گنا ہوچکے ہیں۔ یہ رپورٹ ۱۱۹ ممالک سے تعلق رکھنے والے ۶۴۱ جواب دہندگان کے ۲۰۲۵ء میں کئے گئے عالمی سروے پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں ہراساں کرنے کے عمل کو شدید بنانے میں ڈیپ فیکس اور ہیرا پھیری پر مبنی مواد جیسے اے آئی ٹولز کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

یو این ویمن کی سینئر عہدیدار کیلیوپی منگیرو نے کہا کہ ”اے آئی، خاتون صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کو آسان اور زیادہ نقصان دہ بنا رہا ہے۔“ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈجیٹل سطح پر بڑھتی ہوئی زن بیزاری، خاتون صحافیوں کے حقوق کی پامالی کا باعث بن رہی ہے۔ نتائج بتاتے ہیں کہ ۱۲ فیصد جواب دہندگان کو ذاتی یا نجی تصاویر کی غیر رضامندانہ تشہیر کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ۶ فیصد نے بتایا کہ انہیں اے آئی سے تیار کردہ ڈیپ فیک تصاویر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ہر تین میں سے ایک خاتون صحافی نے آن لائن غیر مطلوبہ جنسی پیش قدمی موصول ہونے کی بھی اطلاع دی۔

یہ بھی پڑھئے: گوگل کے ملازمین کا سندر پچائی سے منتخب کاموں کیلئے پنٹاگون کے اےآئی استعمال پر روک کا مطالبہ

صحافتی کام پر اس کے اثرات انتہائی نمایاں رہے ہیں۔ تقریباً ۴۵ فیصد خاتون صحافیوں نے کہا کہ وہ اب ہراساں کئے جانے سے بچنے کیلئے سوشل میڈیا پر ’سیلف سینسر شپ‘ (خود پر پابندی) کرتی ہیں جو ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۵۰ فیصد اضافہ ہے۔ مزید برآں، تقریباً ۲۲ فیصد نے کہا کہ وہ بدسلوکی کے خوف سے اپنی پیشہ ورانہ رپورٹنگ کو محدود کر دیتی ہیں۔

ہندوستان سے تعلق رکھنے والی ایک صحافی نے بتایا کہ کس طرح انہیں آن لائن پلیٹ فارمز پر ”غدار“ قرار دیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے الزامات بڑے پیمانے پر پھیلائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہراسانی ڈجیٹل پلیٹ فارمز سے نکل کر ان کے خاندان تک پہنچ گئی، جس کی وجہ سے انہیں تحقیقاتی رپورٹنگ سے دستبردار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

رپورٹ، آن لائن بدسلوکی کے باعث ذہنی صحت پر پڑنے والے سنگین اثرات پر بھی زور دیتی ہے۔ سروے میں شریک تقریباً ۲۵ فیصد خاتون صحافیوں نے اضطراب یا ڈپریشن کی تشخیص ہونے کی اطلاع دی، جبکہ تقریباً ۱۳ فیصد خواتین نے کہا کہ انہیں ’پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر‘ (پی ٹی ایس ڈی) کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ جواب دہندگان نے بتایا کہ اس دباؤ کی وجہ سے انہوں نے اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں، جس کے نتیجے میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مسئلے کی بڑھتی ہوئی سنگینی کے باوجود، قانونی تحفظات محدود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ۴۰ فیصد سے بھی کم ممالک میں سائبر ہراسانی یا پیچھا کرنے کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: گوگل اے آئی سے سرخیاں بدل رہا ہے؟ آر ایس ایف نے صحافتی آزادی پر حملہ قرار دیا

اگرچہ اب زیادہ خواتین حکام کو بدسلوکی کی اطلاع دے رہی ہیں اور قانونی کارروائی کا سہارا رہی ہیں، لیکن رپورٹ میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس میں مضبوط قانونی ڈھانچے، مجرموں کے احتساب اور آن لائن تشدد کو روکنے کیلئے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے زیادہ ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK