امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شہزادہ ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جوڑے کے مداح نہیں تھے؛ ادھر سسیکس خاندان نے ۶؍ سال امریکہ میں رہنے کے بعد برطانیہ میں طویل قیام کا آغاز کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 7:02 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شہزادہ ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جوڑے کے مداح نہیں تھے؛ ادھر سسیکس خاندان نے ۶؍ سال امریکہ میں رہنے کے بعد برطانیہ میں طویل قیام کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن کے امریکہ چھوڑ کر برطانیہ واپس جانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے سسیکس خاندان کی واپسی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، ’’میں اس پر خوش ہوں، میں ان کا مداح نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ہیری اور میگھن نے شاہی خاندان کے ساتھ ’’بہت زیادہ بے ادبی‘‘ کا برتاؤ کیا۔ ٹرمپ نے خاص طور پر میگھن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کا رویہ پسند نہیں تھا اور وہ ملکہ ایلزبیتھ دوم اور بادشاہ چارلس کے ساتھ ’’انتہائی بدتمیز‘‘ تھیں۔ انہوں نے برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملکہ ایلزبیتھ سے ’’بہت اچھے تعلقات‘‘ تھے جبکہ وہ چارلس کو بھی طویل عرصے سے جانتے ہیں اور انہیں ’’بہت اچھا انسان‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: ۸؍ ویں جماعت تک اے آئی پر پابندی، ہائی اسکول طلبہ کو محدود اجازت
امریکی صدر نے یہاں تک کہا کہ اگر وہ شاہی خاندان کا حصہ ہوتے تو ہیری اور میگھن کو واپس قبول نہ کرتے۔ ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سسیکس کے ڈیوک اور ڈچس گزشتہ ہفتے اپنے دونوں بچوں، ۷؍ سالہ شہزادہ آرچی اور ۵؍ سالہ شہزادی للی بیٹ کے ساتھ برطانیہ واپس پہنچے ہیں۔ خاندان نے اگست کے آخر میں کیلیفورنیا سے برطانیہ کا سفر کیا تھا۔ ہیری اور میگھن نے ۲۰۲۰ء میں شاہی فرائض سے دستبرداری کے بعد امریکہ کا رخ کیا تھا اور کیلیفورنیا میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ اب ان کی واپسی کے باوجود دونوں کے سرکاری شاہی فرائض بحال ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ وہ بدستور غیر فعال شاہی ارکان کی حیثیت سے نجی شہری رہیں گے اور سرکاری شاہی سرگرمیوں میں نمائندگی نہیں کریں گے۔
سسیکس خاندان نے برطانیہ میں ایک نجی گھر میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور شاہی رہائش گاہ میں منتقل ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ رپورٹس کے مطابق خاندان کا نیا گھر لندن سے باہر، ممکنہ طور پر Cotswolds کے علاقے میں ہوگا۔ آرچی اور للی بیٹ کو برطانوی اسکول میں داخل کرایا جاچکا ہے اور دونوں ستمبر میں تعلیم کا آغاز کریں گے۔ خاندان کیلیفورنیا میں واقع اپنا گھر بھی برقرار رکھے گا، اس لیے واپسی کو مکمل طور پر امریکہ سے مستقل علیحدگی نہیں سمجھا جارہا۔ واپسی سے شاہی خاندان کے اندر تعلقات کی بحالی کی قیاس آرائیاں بھی تیز ہوئی ہیں۔ گزشتہ ماہ ہیری نے اپنے والد بادشاہ چارلس سے ملاقات کی تھی، جس کے دوران ملکہ کیملا بھی موجود تھیں۔ یہ ملاقات اہم سمجھی گئی کیونکہ طویل عرصے سے کشیدہ تعلقات کے دوران چارلس نے اپنے پوتے آرچی اور پوتی للی بیٹ کو ۴؍ سال سے زیادہ عرصے تک بالمشافہ نہیں دیکھا تھا۔ تاہم ہیری اور ان کے بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹائیگر ووڈس پر لاپرواہی سے گاڑی چلانے کا الزام، ۵؍ سال کیلئے لائسنس معطل
ہیری کی برطانیہ واپسی کا ایک اہم مسئلہ سیکوریٹی بھی ہے۔ شاہی فرائض چھوڑنے کے بعد انہیں سرکاری مسلح پولیس تحفظ خودکار طور پر حاصل نہیں رہا اور وہ اس معاملے میں حکومت کے خلاف قانونی جنگ بھی ہار چکے ہیں۔ خاندان کی واپسی کے بعد یہ سوال برقرار ہے کہ ان کی سیکوریٹی کا خرچ کون اٹھائے گا۔ برطانوی حکومت نے اس بارے میں کوئی تفصیلی فیصلہ ظاہر نہیں کیا اور وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اسے نجی معاملہ قرار دیا ہے۔ شاہی خاندان کی جانب سے بھی ہیری اور میگھن کے لیے ’’نصف شاہی، نصف نجی‘‘ کردار بحال کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔ ۲۰۲۰ء میں ملکہ ایلزبیتھ دوم نے اس نوعیت کے انتظام کو مسترد کردیا تھا، جبکہ موجودہ اطلاعات کے مطابق بادشاہ چارلس بھی دونوں کو سرکاری فرائض پر واپس لانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اس کے باوجود برطانیہ میں ان کی مستقل یا طویل موجودگی شاہی خاندان، میڈیا اور عوامی توجہ کے درمیان ایک نئی صورتحال پیدا کررہی ہے۔