وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدرایران پر معاشی پابندیوں کے ذریعے دبائو ڈال کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 12:33 PM IST | Agency | Washington
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدرایران پر معاشی پابندیوں کے ذریعے دبائو ڈال کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ایسے وقت میں جب امریکی فوج آئندہ سال ۲۰۲۷ءتک مشرقِ وسطیٰ میں اپنی دسیوں ہزار فوجی اہلکاروں کو برقرار رکھنے کی تیاری کر رہی ہے، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے کے امکان پر اپنے انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:یہودی آباد کاروں کے تشدد کے سبب دنیا ہمیں غنڈہ ومجرم سمجھنے پر مجبور: پولیس چیف
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ان حکام کے ساتھ خفیہ طور پر جنگ ختم کرنے کے اعلان کے امکان پر تبادلہ خیال کیا ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر فی الحال اسی آپشن کی جانب مائل ہیں۔حکام نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ کے نقطۂ نظر سے ایران پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ بالآخر تہران کو اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے یا پھر معاشی تباہی کے خطرے کا سامنا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: مجھے ہماری موجودہ صورتحال بہت پسند ہے کیونکہ آبنائے ہرمز پر ہمارا تقریباً مکمل کنٹرول ہے، جبکہ ان کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے۔ وہ صرف اس ناگزیر صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ آخر ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور جنگ میں شامل ہوں گے؟
یہ بھی پڑھئے:’’وزیر اعلیٰ وجے کو وزارت عظمیٰ کا امیدواربنانا ٹی وی کے کا سرکاری موقف نہیں‘‘
دوسری جانب امریکی فوجی تیاریاں ایک مختلف سمت میں بڑھ رہی ہیں۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی مدت ۲۰۲۷ء تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔اخبار نے لکھا کہ جب امریکہ نے ۶؍ ماہ قبل ایران کے خلاف اپنی مہم شروع کی تھی تو ہیگسیتھ نے ملک کو طویل جنگ میں الجھنے سے بچانے کیلئے ایک تیز اور فیصلہ کن حملے کا وعدہ کیا تھا، تاہم اب وہ خاموشی سے فوجیوں کی تعیناتی کی مدت میں توسیع کر رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ تنازع آئندہ سال کے آغاز کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام ایک طویل مدتی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جنگ کے حوالے سے مختلف آپشن فراہم کرنا ہے۔ تاہم خطے کے مختلف حصوں میں ۱۹؍ جنگی بحری جہازوں، فضائی دفاعی یونٹس، لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرنز اور پیراٹروپرز کی تعیناتی فوجیوں اور ان کے خاندانوں پر بھاری دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ دیکھ بھال اور مرمت کے کام بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، جنہیں مکمل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔