Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ نے کنیڈاپر یکم جنوری سے نئی ۵۰؍ فیصد آٹو ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا

Updated: August 25, 2026, 4:00 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کنیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر محصولات دگنا کریں گے جبکہ ۲۰۲۷ء میں آٹو پارٹس پر بھی محصولات عائد کیے جائیں گے۔ یہ اقدام گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اوٹاوا پر دباؤ بڑھانے کی تازہ کوشش ہے۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کنیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر محصولات دگنا کریں گے جبکہ ۲۰۲۷ء میں آٹو پارٹس پر بھی محصولات عائد کیے جائیں گے۔ یہ اقدام گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اوٹاوا پر دباؤ بڑھانے کی تازہ کوشش ہے۔ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ کینیڈین گاڑیوں اور اسٹیل پر محصولات یکم جنوری سے بڑھا کر ۵۰؍ فیصد کر دیے جائیں گے۔ یہ ہفتے کے روز عائد کیے گئے ۵۰؍ فیصد محصولات کے علاوہ ہوں گے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد لگائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان مزید ۹؍ تجارتی معاہدوں کیلئے کوشاں

اسٹیل پر پہلے ہی ۵۰؍ فیصد محصول عائد ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کی مراد کیا تھی۔ انہوں نے آٹو پارٹس پر بھی ۵۰؍ فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا، جن پر اس سے قبل کوئی محصول نہیں تھا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل  پر لکھا’’امریکہ میں تیار کریں اور کوئی محصول نہیں ہوگا۔ کنیڈا کے ساتھ اب کسی ریاست کی طرح سلوک نہیں کیا جائے گا!  انہوں نے مزید کہاکہ تجارت اور دیگر معاملات میں بھی کنیڈا دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہے جن سے معاملات طے کرنا مشکل ہے۔ وہ خود کو اس کا حق دار سمجھتے ہیں، حالانکہ ہمیں کنیڈا کی ضرورت نہیں، انہیں ہماری ضرورت ہے! 
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کنیڈا مذاکرات کی میز پر آئے اور نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کرے۔کنیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے پیر کو کیوبیک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ کے ساتھ باہمی طور پر فائدہ مند معاہدہ  ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکی کنیڈا کی خودمختاری کا احترام کریں۔
کارنی نے چھ نئے کینیڈین آئس بریکر بحری جہازوں میں سرمایہ کاری کے اعلان کے موقع پر کہاکہ جب امریکی ہماری صنعت کے بارے میں درست رویے اور حقیقی شراکت داری کے جذبے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں گے تو یقیناً ہم بھی مذاکرات کی میز پر آئیں گے۔اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ، جس صوبے میں کنیڈا کی آٹو صنعت کا بڑا حصہ موجود ہے، نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ٹرمپ نے  اپنے قریبی دوست اور اتحادی کے خلاف جنگ، اقتصادی جنگ، کا اعلان کر دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:BTS: ہندوستانی مداحوں کو ’نمستے‘ اور ہندی پیغام، ہندوستان آمد کی قیاس آرائیاں

فورڈ نے سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریگن محصولات کی مخالفت کرتے تھے اور ٹرمپ اپنی میز کے قریب آنجہانی صدر کی تصویر رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ریگن کو موجودہ صورتحال کا علم ہوتا تو  وہ اس تصویر سے ٹرمپ پر قے کر رہے ہوتے اور قبر میں کروٹیں بدل رہے ہوتے۔  فورڈ نے مزید کہا کہ ٹرمپ کو شاید ریگن کی تصویر دیوار سے اتار کر کہیں اور رکھ دینی چاہیے کیونکہ رونالڈ ریگن صدر ٹرمپ سے بیزار ہوتے۔ 
فورڈ نے خبردار کیا کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو  سب کچھ زیرِ غور ہے ، جس میں اونٹاریو سے امریکہ کو بجلی اور اہم معدنیات کی فراہمی روکنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کنیڈا سے مطالبہ کیا کہ وہ تیل اور پوٹاش کو بھی دباؤ کے لیے استعمال کرنے پر غور کرے۔فورڈ نے اہم معدنیات کے حوالے سے کہاکہ ’’میں انہیں روک دوں گا۔ آپ کو اونٹاریو سے ریت کا ایک ذرہ بھی نہیں ملے گا۔‘‘ انہوں نے کہا’’ہم امریکہ میں ۱۵؍ لاکھ گھروں اور کاروباری اداروں کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ سب کچھ زیرِ غور ہے۔ میں جو کچھ بھی کرنا پڑا، کروں گا۔ ‘‘ فورڈ نے کہا کہ اگر ٹرمپ کنیڈا کی صنعتی پیداوار کو ختم کرنے کی کوشش جاری رکھتے ہیں تو انہیں بیٹریوں کا ایک پیکٹ ساتھ رکھنا بہتر ہوگا۔ 
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل  پر فورڈ کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈگ فورڈ کی جانب سے بہت شور شرابا کیا جا رہا ہے  اور کنیڈا کو یاد رکھنا چاہیے کہ  کنیڈا کو ملنے والی بجلی، تیل اور گیس کا بڑا حصہ امریکہ کے راستے منتقل ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو ان  مذاق بن جانے والوں  کو  صف میں آنے  پر مجبور کرنا چاہیے، ورنہ کنیڈا کے لیے نتائج  کہیں زیادہ سنگین  ہوں گے۔ کنیڈا مسلسل امریکہ کے دو بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل رہا ہے۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت کا مجموعی حجم  ۳ء۸۷۲؍ ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۶ء۴؍ فیصد کم تھا۔ کنیڈا اپنی مجموعی برآمدات میں سے تین چوتھائی سے زیادہ امریکہ کو بھیجتا ہے جبکہ وہ اپنی تقریباً نصف درآمدات امریکہ سے حاصل کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK