Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھی بولنےمیں ناکامی پر نوٹس کیخلاف آٹو- ٹیکسی یونین ہائی کورٹ سے رجوع ہوگی

Updated: August 25, 2026, 4:27 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ٹیسٹ کے ڈر سے ڈرائیور ایسی سڑکوںپر گاڑی چلانے سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں جہاں آر ٹی او افسران موجود ہوتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذریعہ رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی بولنا لازمی قرار دینے کے سبب ڈرائیوروں اور ان کی یونینوں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ اس معاملے میں آٹو رکشا اور ٹیکسی یونین بامبےہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری کررہی ہے۔ دریں اثناء آر ٹی او افسران جو شہر اور مضافات کے مختلف علاقوں میں ٹیکسی اور رکشا ڈرائیوروں کامراٹھی زبان کا امتحان لے رہے ہیں ، ان سے بچنے کے لئے شہر کے کئی ڈرائیور یا تو ان راستوں پر گاڑی چلانے سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں یا انہوں نے چند دنوں کے لئے گاڑی چلانے کا ارادہ ہی ترک کر دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جشن عید میلادالنبیؐ کی مناسبت سے ڈونگری چلڈرن ہوم میں لنگرِ رسول کی تقسیم

ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ کی مراٹھی کے تعلق سے کی جانے والی سختی کے سبب اکثر آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں میں شدیدناراضگی ہے۔ انہیں ڈر بھی ہے۔ اسی لئے اکثر ڈرائیور شہر و مضافات میں مراٹھی کا امتحان لینے کیلئے تعینات کئے جانے والے آر ٹی او افسران سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ شہر کے اکثر و بیشتر علاقوں میں آر ٹی او اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ ڈرائیوروں کے لئے مراٹھی زبان بولنے اور اس کا تحریری امتحان لینے کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن اب جو لوگ ا س میں ناکام ہورہے ہیں ، انہیں نوٹس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر آر ٹی او افسران کے ذریعہ مراٹھی بولنے کا امتحان لینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 

جاری کردہ نوٹس اور مراٹھی بولنا لازمی قرار دیئے جانے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف یونین نے قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ممبئی رکشا مینس یونین کے صدر ہمپی کورین نے ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ کے مراٹھی بولنے کو لازمی قرار دیئے جانے کے فیصلے اور اس ضمن میں جاری کردہ نوٹس کو چیلنج کرنے اور بامبے ہائی کورٹ سے جلد ہی رجوع ہونے کی اطلاع دی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کھانے اور پانی کے نمونے۹۸؍ فیصد درست پائے جانے کا دعویٰ

یونین کے صدر کے بقول مراٹھی کو لازمی قرار دیئے جانے کے سبب کم تعلیم یافتہ ڈرائیوروں کیلئے دوہرامسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ شہر کے اکثر ڈرائیور ریلوے اسٹیشنوں، شاپنگ مالز، آٹو ٹیکسی اسٹینڈز اور تجارتی مراکزکا رخ نہیں کررہے ہیں تاکہ انہیں مراٹھی بولنے کا امتحان لینے والے آر ٹی او افسران کاسامنا نہ کرنا پڑے۔ وہ مراٹھی کا امتحان دینے سے بچنے کے لئے مقامی علاقوں میں ہی سروس فراہم کررہے ہیں جس کی وجہ سے یقینی طور پر مسافروں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ مسئلہ سےبچنے کیلئے عارضی طور پر کئی ڈرائیوروں نے گاڑی نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘‘

اس معاملہ میں ایک آر ٹی او افسر کا کہنا ہے کہ مراٹھی بولنا لازمی قرار دیئے جانے کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں ۱۰۵؍ دنوں تک مراٹھی سیکھنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اب یہ سلسلہ بند ہوگیا ہے اس لئے جو ڈرائیور اب بھی مراٹھی سے ناواقف ہیں، انہیں نوٹس دیا جارہا ہے۔ اب تک شہر اور مضافات میں آر ٹی او نے ٹیکسی اور رکشا کے ۲۵؍ سوڈرائیوروں کو نوٹس دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK