کینڈیس اوینس کا ٹرمپ کی ٹروتھ پوسٹ پر طنزیہ جواب، ’’ وقت آگیا ہے کہ دادا جی کو گھر بٹھایا جائے ‘‘
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 10:48 AM IST | Washington
کینڈیس اوینس کا ٹرمپ کی ٹروتھ پوسٹ پر طنزیہ جواب، ’’ وقت آگیا ہے کہ دادا جی کو گھر بٹھایا جائے ‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے معاملے پران کی انتظامیہ پر تنقید کرنے والے امریکی صحافیوں اور تجزیہ کاروں پر تنقید کے نشتر برسا دیئے۔ پالیسی اور نظریات پر چھڑی لفظی جنگ ذاتیات تک پہنچ گئی ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر جاری کردہ پوسٹ میں کہا کہ’’میں جانتا ہوں ٹکرکارلسن، میگین کیلی، کینڈیس اووینس، ایلکس جونز مجھ سے کیوں لڑ رہے ہیں۔ ‘‘
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ سمجھتے ہیں دہشت گردی میں نمبرون ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونا اچھی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام صحافیوں میں ایک چیز مشترک ہے، ان سبھی کا آئی کیوکم ہے اور سبھی احمق و ذہنی مریض ہیں، ان صحافیوں کو ان کے گھر والے اور باقی سب بھی جانتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان سب کو ٹیلی ویژن سے ہٹا دیا گیا ہے، انہوں نے اپنی ٹی وی شوز بھی کھو دیے ہیں، انہیں ٹی وی پر بھی مدعو نہیں کیا جاتا کیونکہ کسی کو ان کی پرواہ نہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس کچھ نہیں لیکن سستی شہرت کیلیے کچھ نہ کچھ کرتے ہیں، ان صحافیوں کے پاس اب تھرڈ کلاس پوڈ کاسٹس ہی ہیں۔ صحافی ٹکر کارلسن کو اب کسی اچھے ماہر نفسیات سے ملنا چاہیے، مجھے تنقید کی پرواہ نہیں، مجھے صرف اپنے ملک کیلئے صحیح کام کرنے کی فکر ہے، مجھے ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہ دینے اور اپنی جیت کی فکر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: تیل و گیس کی متعدد تنصیبات پر آپریشن روک دیا گیا
ٹرمپ کے بیان پر کس کس نے ردعمل ظاہر کیا
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ذاتیات پر مبنی تبصرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کینڈیس اوینس نے ایکس پوسٹ پر لکھا کہ ’’ وقت آگیا ہے کہ دادا جی کو گھر بٹھایا جائے۔ ‘‘
الیکس جونز نے ایکس پر لکھا کہ’’میں نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ میں اب ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت نہیں کرتا، اور میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیا ٹرمپ، پرانے ٹرمپ کا ایک بوسیدہ خول ہے۔ ‘‘ تادم تحریر ٹکر کارلسن نے ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ خیال رہے کہ آج ٹرمپ جن صحافیوں اور تجزیہ کاروں پر تنقید کے تیر برسارہے ہیں، ماضی میں انہیں صحافیوں کی خوب پزیرائی کرچکے ہیں۔