Updated: August 21, 2026, 9:02 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی اور فاکس نیوز کے سابق میزبان بل اورائیلی (Bill O`Reilly) نے کہا کہ ”ٹرمپ کا ورثہ ایران جنگ سے وابستہ ہے جو اب ان کی ذاتی انا کا معاملہ بن چکی ہے، وہ ایرانیوں کو خود کو ہارا ہوا دکھانے کی اجازت نہیں دے سکتے، کیونکہ وہ زندگی کو صرف جیتنے والوں اور ہارنے والوں کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔“
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی رہے فاکس نیوز کے سابق میزبان بل اورائیلی (Bill O`Reilly) نے منگل کی رات بیان دیا ہے کہ ٹرمپ ایران کو خود کو ”ہارا ہوا شخص“ دکھانے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ ان کا سیاسی ورثہ اب اسلامی جمہوریہ کے ساتھ جنگ کے نتیجے سے جڑ چکا ہے اور اس تنازع کو جلد ہی چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں۔
نیوز نیشن کے پروگرام ”آن بیلنس“ (On Balance) پر گفتگو کرتے ہوئے اورائیلی نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران کے تئیں مزید سخت رویہ اختیار کرنے کی حکمتِ عملی موجود ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تفصیلات سے لاعلم ہیں۔ انہوں نے ایسی تفصیلات کو ”انتہائی خفیہ اور کلاسیفائیڈ“ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا، ”ٹرمپ کا ورثہ اس جنگ سے وابستہ ہے جو اب ان کی ذاتی انا کا معاملہ بن چکی ہے، وہ ایرانیوں کو خود کو ہارا ہوا دکھانے کی اجازت نہیں دے سکتے، کیونکہ وہ زندگی کو صرف جیتنے والوں اور ہارنے والوں کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ بحری راہداری قائم کی
جنگ کے دوران ٹرمپ کے اقدامات کی عمومی حمایت کے باوجود، اورائیلی نے ۲۸ فروری کو اس تنازع کو شروع کرنے کے صدارتی فیصلے کو ”غلط فیصلہ“ قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ بصورت دیگر ”ریپبلکن پارٹی وسط مدتی انتخابات میں بہت آگے ہوتی۔“ انہوں نے ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی طرف بھی اشارہ کیا جو جزوی طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ہوئیں۔ اس نے اشیائے خوردونوش کے اخراجات بڑھا دیئے ہیں۔ انہوں نے اسے ”ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکن پارٹی کیلئے ایک بڑا مسئلہ“ قرار دیا۔
اورائیلی نے اس موقف پر اصرار کیا کہ ٹرمپ کو ہر صورت میں اس تنازع سے فتحیاب ہو کر ہی نکلنا ہوگا۔ اس سے قبل، انہوں نے نیوز نیشن کے کرس کومو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ ٹرمپ کی جگہ ہوتے تو ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ امریکی عوام ”ایران سے بیزار ہیں اور اس کیلئے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی ایران کے خلاف معاشی جنگ، ایران کی نئے ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی
اورائیلی کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ نے اس ہفتے اپنے اتحادیوں اور حریفوں دونوں کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے پر عمان پر شدید بمباری کرنے کی دھمکی دی اور اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز امریکہ کے کنٹرول میں ہے۔ ٹرمپ نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ”ہم ناکہ بندی کے ذریعے اسے کنٹرول کرتے ہیں۔ اسے امریکی خطہ قرار دینے کا آئیڈیا مجھے پسند آیا ہے۔“ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایکس پر ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”آبنائے ہرمز ایرانی رہا ہے، ایرانی ہے اور ایرانی ہی رہے گا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنی ناکہ بندی کا نفاذ بدستور جاری رکھے گا۔