ایکسیوس کے دعوے کے مطابق یہ آپریشن کئی ہفتوں سے جاری ہے اور عمان کے ساحل کیساتھ واقع جنوبی بحری راستے کو استعمال کیا جارہا ہے۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 3:31 PM IST | Agency | Washington
ایکسیوس کے دعوے کے مطابق یہ آپریشن کئی ہفتوں سے جاری ہے اور عمان کے ساحل کیساتھ واقع جنوبی بحری راستے کو استعمال کیا جارہا ہے۔
امریکہ نے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل جاری رکھنے کیلئے آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک خفیہ بحری راہداری قائم کی ہے، جس کے تحت امریکی قیادت میں ہونیوالے آپریشن کے دوران ہر رات۱۵؍ سے ۲۰؍ تیل بردار ٹینکر آبنائے سے گزر رہے ہیں۔ ایکسیوس نے اس کوشش سے واقف ۲؍ امریکی عہدیداروں کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہند و پاک کے قومی ترانے گانے کیلئے اردو, بنگالی سیکھی: برطانوی گلوکارہ کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن کئی ہفتوں سے جاری ہے اور اس میں عمان کے ساحل کے ساتھ واقع جنوبی بحری راستے کو استعمال کیا جارہا ہے۔ امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ اس راہداری کے ذریعے اس وقت خلیج سے روزانہ تقریباً ایک کروڑ بیرل تیل باہر بھیجا جارہا ہے، جو جنگ سے قبل آبنائے کے ذریعے ہونے والی ترسیل کے حجم کا تقریباً نصف ہے۔ عہدیداروں کے مطابق اس آپریشن سے جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرنے اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔امریکی فوج صرف تیل سے لدے ٹینکروں کو آبنائے سے باہر نکلنے میں سیکوریٹی فراہم نہیں کررہی بلکہ خالی ٹینکروں کو بھی بحیرہ عرب سے خلیج فارس میں داخل ہونے میں مدد دے رہی ہے، تاکہ وہ علاقائی تیل پیدا کرنے والے ممالک سے تیل لے کر اسی آبی راستے سے واپس نکل سکیں۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق اس آپریشن کو شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ سے کام کرنے والی ایک ٹاسک فورس، خلیجی خطے کے شراکت داروں کے تعاون سے مربوط کررہی ہے۔ہر رات بحری جہازوں کو الگ الگ اندر جانے والے اور باہر نکلنے والے قافلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور امریکی فوج کی ہدایات کے مطابق انہیں جنوبی بحری راستہ استعمال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل نے بالآخر ہند رجب کے قتل کا اعتراف کرلیا
عہدیداروں نے بتایا کہ اس آپریشن میں امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیارے بھی معاونت کررہے ہیں، جو ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ممکنہ حملوں سے جہازوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ آپریشن امریکی سینٹرل کمانڈ کی دو ہفتوں پر محیط اس مہم کے بعد شروع ہوا جس میں ایرانی ریڈار اور بحری نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسکے نتیجے میں جنوبی بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی کرنے کی تہران کی صلاحیت کم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ ایران اب محدود تعداد میں بحال کئے گئے رڈار نظام اور اسلامی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے چلائی جانے والی چھوٹی کشتیوں پر موجود نگرانی کرنے والے اہلکاروں پر انحصار کررہا ہے۔ نتیجتاً ایرانی فورسز بڑی حد تک ایسے علاقوں کی جانب ڈرونز اور کروز میزائل داغ رہی ہیں جہاں انہیں شبہ ہوتا ہے کہ بحری جہاز موجود ہوسکتے ہیں۔