بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم نے WION کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ وہ اقتدار کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت اور اپنے عوام کے لیے وطن واپس جانا چاہتی ہیں؛ ہندوستان میں قیام کے دوران شیخ مجیب الرحمن کی نامکمل خودنوشت اور جیل کی ڈائریاں بھی پڑھتی ہیں۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 7:02 PM IST | New Delhi
بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم نے WION کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ وہ اقتدار کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت اور اپنے عوام کے لیے وطن واپس جانا چاہتی ہیں؛ ہندوستان میں قیام کے دوران شیخ مجیب الرحمن کی نامکمل خودنوشت اور جیل کی ڈائریاں بھی پڑھتی ہیں۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ دسمبر ۲۰۲۶ء میں وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ WION کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی واپسی کسی ذاتی سیاسی واپسی یا اقتدار کے حصول کی کوشش نہیں بلکہ جمہوریت، آئینی حکمرانی اور عوام کے آزادانہ طور پر اپنی حکومت منتخب کرنے کے حق کی بحالی کی جدوجہد کا حصہ ہوگی۔ شیخ حسینہ نے کہا کہ ہندوستان میں قیام کے دوران وہ بنگلہ دیش کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتی ہیں اور اپنے والد، بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی نامکمل خودنوشت The Unfinished Memoirs اور جیل کی ڈائری The Prison Diaries پڑھتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ تحریریں انہیں اس مقصد اور جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنی واپسی کو ذاتی سیاسی واپسی نہیں سمجھتی۔‘‘ ان کے مطابق وہ اپنے وطن واپس جاکر ان لاکھوں عوام اور عوامی لیگ کے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتی ہیں جن کے سیاسی حقوق اور آواز ان کے بقول موجودہ حالات میں محدود کردی گئی ہے۔ حسینہ نے کہا کہ وہ ایک مستحکم، جمہوری اور آئینی بنگلہ دیش کی بحالی چاہتی ہیں۔ حسینہ نے واپسی کے ممکنہ خطرات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جان لینے کی کم از کم ۱۹؍ کوششیں ہوچکی ہیں اور انہوں نے خاص طور پر ۲۱؍ اگست ۲۰۲۴ء کے دستی بم حملے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق اس حملے میں ۲۴؍ افراد ہلاک اور ۳۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے تھے جبکہ ان کی ایک کان کی سماعت بھی متاثر ہوئی۔
شیخ حسینہ نے اگست ۲۰۲۴ء کی سیاسی ہلچل کے بارے میں اپنے مؤقف کو بھی دہرایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ طلبہ کی کوٹے کے خلاف تحریک کو سیاسی، انتہا پسند اور عسکریت پسند عناصر نے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا اور یہ ایک منظم کارروائی میں تبدیل ہوگئی جس کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ یہ ان کا مؤقف ہے؛ موجودہ بنگلہ دیشی حکومت، طلبہ تحریک اور مخالف سیاسی حلقوں کی جانب سے اس انٹرویو میں اس دعوے پر کوئی جواب شامل نہیں ہے۔ حسینہ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری انتظامیہ نے سیاسی انتقام، اداروں کو کمزور کرنے، ذرائع ابلاغ کی آزادی محدود کرنے اور انتہا پسندی و فرقہ وارانہ سیاست کے لیے جگہ پیدا کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کرنے اور آزاد، منصفانہ اور جامع انتخابات کی راہ ہموار کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس انٹرویو میں نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: اندور میں ’’چھاتروں کی گونج‘‘ میں حکومت کی رخنہ اندازی، ایک ہفتے کیلئے ملتوی
واپسی کے معاملے میں شیخ حسینہ کا مؤقف پہلے بھی سامنے آچکا ہے۔ جولائی میں انہوں نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کے بعض سینئر رہنما دسمبر کے آس پاس بنگلہ دیش واپس جاکر عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اگست میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ گرفتاری، جیل یا حتیٰ کہ جان جانے کے خطرے کے باوجود وہ وطن واپس آئیں گی۔ حسینہ اس وقت بنگلہ دیش میں سنگین قانونی کارروائیوں کا سامنا کررہی ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے ۲۰۲۴ء کی تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف کارروائی سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ فروری ۲۰۲۶ء میں انہیں ڈھاکہ کے ایک سرکاری رہائشی منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق بدعنوانی کے ۲؍ مقدمات میں مجموعی طور پر ۱۰؍ سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔
بنگلہ دیش کی حکومت ہندوستان سے حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے گزشتہ اپریل میں کہا تھا کہ حکومت ڈھاکہ کی حوالگی کی درخواست کا جائزہ لے رہی ہے اور نئی بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ تعمیری رابطہ جاری رکھنا چاہتی ہے۔ حسینہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی خفیہ سمجھوتے کے ذریعے نہیں بلکہ خود وطن واپس جانا چاہتی ہیں۔ شیخ مجیب الرحمن کی The Unfinished Memoirs اصل میں ان نوٹ بکس پر مبنی ہے جو انہوں نے ۱۹۶۷ء سے ۱۹۶۹ء کے دوران جیل میں لکھے تھے۔ ۲۰۰۴ء میں ان کے خاندان کو ۴؍ نوٹ بکس ملے، جنہیں بعد میں مرتب کرکے ۲۰۱۲ء میں شائع کیا گیا۔ کتاب میں بنگال کی سیاسی جدوجہد، زبان کی تحریک اور ۱۹۴۰ء اور ۱۹۵۰ء کی دہائی کے اہم واقعات کا ذکر ہے اور شیخ حسینہ نے اس کے لیے پیش لفظ بھی لکھا تھا۔