Updated: March 17, 2026, 7:18 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو درست قرار دیتے ہوئے کئی اہم اور متنازع بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ نہ کرتے تو ایک ممکنہ جوہری جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران پر حملہ اس صورت میں بھی کرتا جب اسے معلوم ہوتا کہ تہران خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
(۱) امریکہ ایران پر حملہ پھر بھی کرتا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ اس صورت میں بھی کرتا جب اسے پہلے سے معلوم ہوتا کہ تہران اس کے جواب میں خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم نے یہ فیصلہ مکمل طور پر سوچ سمجھ کر کیا اور ہمیں معلوم تھا کہ اس کے ردعمل کے امکانات موجود ہیں، لیکن یہ قدم ضروری تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران کی سرگرمیاں خطے کیلئے خطرہ بن رہی تھیں اور امریکہ اپنے اتحادیوں کے تحفظ کیلئے کارروائی کرنے پر مجبور تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی قیادت خطرات کے باوجود اپنی حکمت عملی پر قائم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کسی بھی ممکنہ ردعمل کے باوجود اپنی پالیسی جاری رکھے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے ایران کے سیکوریٹی چیف علی لاریجانی کو نشانہ بنایا
(۲) ٹرمپ: اسرائیل ایران پر جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اسرائیل ایک ذمہ دار ریاست ہے اور وہ اس حد تک نہیں جائے گا جہاں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت پڑے۔‘‘ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس سے پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سطح پر جوہری خطرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کو کم کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی حالات میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
(۳) اگر ایران پر حملہ نہ کرتے تو تیسری عالمی جنگ چھڑ جاتی: ٹرمپ
ٹرمپ نے ایک اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف کارروائی نہ کرتے تو صورتحال ایک بڑے جوہری تصادم میں تبدیل ہو سکتی تھی جو تیسری عالمی جنگ کا سبب بنتی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے ایک بڑی تباہی کو روکا ہے۔ اگر ہم نے کارروائی نہ کی ہوتی تو پورا مشرق وسطیٰ تباہ ہو سکتا تھا۔‘‘ ٹرمپ کے مطابق ایران جوہری ہتھیاروں کے ذریعے پورے خطے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا۔ اس بیان پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں، جہاں بعض حلقے اسے امریکی پالیسی کا دفاع قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین اسے مبالغہ آمیز قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: موت کی افواہوں کے درمیان نیتن یاہو نے مزید ۲؍ ویڈیوز جاری کئے، اے آئی کا شبہ
(۴) ٹرمپ: ایران کے ساتھ جنگ اس ہفتے ختم نہیں ہوگی لیکن جلد ختم ہوگی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اس ہفتے ختم نہیں ہوگی، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تنازع جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ جنگ کچھ وقت لے سکتی ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ جلد ختم ہو اور خطے میں استحکام بحال ہو۔‘‘ ٹرمپ کے مطابق امریکہ اس تنازع کو غیر ضروری طور پر طول دینا نہیں چاہتا، تاہم اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ فوری جنگ بندی کے بجائے ایک کنٹرولڈ اختتام چاہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے خاتمے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔