Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا دعویٰ ’’ میں مستقل طور پر آبنائے ہرمز کھول رہا ہوں‘‘

Updated: April 16, 2026, 10:00 AM IST | Agency | New York

یہ بھی کہا کہ ان کے اس اقدام سے چین بہت خوش ہے۔ اگلے دور کی بات چیت کا مقام طے کرنے کیلئے عاصم منیر تہران پہنچے۔

Donald Trump.Photo:PTI
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:پی ٹی آئی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین ان سے خوش ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کردیا کہ امریکہ اور چین آبنائے ہرمز کھولنے  کے لئے مل کر کام کررہے ہیں۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر  پوسٹ کئے گئے اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ مستقل طور پر آبنائے ہرمز کو کھول رہے ہیں جو نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔
 
 
ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اب کبھی  دوبارہ  پیدا نہیں ہوگی۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چین نے ایران کو اسلحہ فراہم نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اسی لئے اب وہ آبنائے ہرمز کھول رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مئی میں بیجنگ کے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے اور توقع ظاہر کی کہ انہیں وہاں پرتپاک استقبال ملے گا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ گزشتہ شب سوئے نہیں، وہ  ہر گھنٹے بعد سوشل میڈیا پوسٹس شیئر کرتے رہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین مل کر ’سمجھداری اور اچھے انداز‘ میں کام کر رہے ہیں، جو لڑائی سے بہتر ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ جنگ لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
 
 
 
دریں اثناء پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر تہران پہنچے ہیں تاکہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے دوسرے دور کے لئے مقام کا تعین کرسکیں۔ ویسے امریکی صدر  ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ دوسرے دور کی بات چیت بھی اسلام آباد میں ہی ہو گی۔ اسی لئے عاصم منیر بات چیت کا ایجنڈہ طے کرنے کے لئے تہران پہنچے ہیں جہاں ان کی ملاقات ایران کے اہم لیڈروں سے ہونے کی توقع ہے۔ اس بارے میں انہوں نے میڈیا سے کہا کہ پاکستان  امن قائم رکھنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK