امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر قبضہ نہیں کیا تو روس یا چین اس پر قبضہ کر لیں گے، ٹرمپ نے گرین لینڈ پر ڈنمارک کی خود مختاری کو مسترد کر دیا اور امریکی مداخلت کو قومی سلامتی کی ضرورت کے طور پر پیش کیا۔
EPAPER
Updated: January 10, 2026, 9:04 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر قبضہ نہیں کیا تو روس یا چین اس پر قبضہ کر لیں گے، ٹرمپ نے گرین لینڈ پر ڈنمارک کی خود مختاری کو مسترد کر دیا اور امریکی مداخلت کو قومی سلامتی کی ضرورت کے طور پر پیش کیا۔
صدر ٹرمپ نے ڈنمارک کے گرین لینڈ پر دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ ۵۰۰؍سال پہلے ان کی ایک کشتی وہاں اتری تھی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ زمین کے مالک ہیں۔‘‘ انہوں نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکیوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن آرکٹک جزیرے کو حاصل کرنے کے لیے آسان یا مشکل راستہ‘‘ اختیار کرے گا۔دریں اثناء جمعہ کو تیل اور گیس کے ایگزیکٹوز کے ساتھ وائٹ ہاؤس میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے گرین لینڈ پر ڈنمارک کی خود مختاری کو مسترد کر دیا اور امریکی مداخلت کو قومی سلامتی کی ضرورت کے طور پر پیش کیا۔ٹرمپ نے کہا، ’’ہم گرین لینڈ پر کچھ نہ کچھ کریں گے، چاہے انہیں پسند ہو یا نہ ہو۔کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کر لیں گے اور ہم روس یا چین کو پڑوسی کے طور پر نہیں رکھیں گے۔ہم روس یا چین کو گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یہی ہونے والا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: واجبات ادا نہ کرنے پر امریکہ جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے حق سے محروم ہو سکتا ہے: یو این
تاہم ٹرمپ نے کہا کہ وہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام کے ساتھ معاہدہ کرنا پسند کریں گے لیکن واضح کیا کہ طاقت کا استعمال اب بھی ایک متبادل ہے۔انہوں نے کہا، ’’میں ایک معاہدہ کرنا چاہوں گا، آپ جانتے ہیں، آسان راستہ۔لیکن اگر ہم نے آسان راستہ نہ اپنایا تو ہم مشکل راستہ اپنائیں گے۔‘‘یہ تبصرے ٹرمپ کی اب تککے سخت بیانوں میں سے ایک ہیں جن میں انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ خود مختار علاقے پر ڈنمارک کے اختیار کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار ہے، جو ڈنمارک کی بادشاہت کا حصہ ہے لیکن اپنے بیشتر اندرونی معاملات خود چلاتا ہے۔جبکہ ٹرمپ نے بار بار دلیل دی ہے کہ گرین لینڈ کی اسٹریٹجک محل وقوع اور معدنی دولت اسے امریکی سلامتی کے مفادات کے لیے انتہائی اہم بناتی ہے، خاص طور پر جب آرکٹک میں مقابلہ تیز ہو رہا ہے۔
ڈنمارک اور دیگر یورپی اتحادیوں نے ٹرمپ کے تبصرے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور انتباہ دیا ہے کہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی کوئی بھی کوشش نیٹو اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کے سلامتی کے نظام کو کمزور کر دے گی۔ساتھ ہی ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے اس سے قبل کہا تھا کہ گرین لینڈ پر امریکی حملہ ہر چیز کا خاتمہ کر دے گا، جس سے ان کی مراد ٹرانس اٹلانٹک اتحاد اور دہائیوں پر محیط مشترکہ سلامتی کے انتظامات ہیں۔تاہم، ٹرمپ نے ڈنمارکی خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے اصرار کیا کہ ان کا کوپن ہیگن کے خلاف کوئی برا ارادہ نہیں ہے۔لیکن انہوں نے جزیرے پر ڈنمارک کے تاریخی دعوے پر سوال اٹھایا۔ٹرمپ نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ۵۰۰؍ سال قبل ان کی ایک کشتی وہاں اتری تھی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ زمین کے مالک ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ گرین لینڈ میں پہلے ہی ایک امریکی فوجی اڈہ موجود ہے، اور واشنگٹن طویل عرصے سے جزیرے پر اپنی اسٹریٹجک موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔بعد ازاں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی آئندہ ہفتے ڈنمارک کے وزیر خارجہ اور گرین لینڈ کے نمائندوں سے ملاقات متوقع ہے۔ جس کے بعد حالات کے رخ کا تعین ہوگا۔فی الحال، ٹرمپ کی صاف وارننگ نے امریکہ، ڈنمارک اور وسیع تر یورپی اتحاد کے درمیان تعلقات میں نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جبکہ اس بات پر سوالات بڑھ رہے ہیں کہ آرکٹک میں اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے واشنگٹن کس حد تک جانے کو تیار ہے۔