ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ بین الاقوامی قوانین کی تعریفیں محض شخصی رائے پر مبنی ہوتی ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی لیڈران پر دباؤ ڈالنے کیلئے فوجی دھمکیوں کے استعمال پر فخر کیا اور کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو کے ساتھ ہوئے حالیہ فون کال کا حوالہ دیا۔
EPAPER
Updated: January 09, 2026, 7:35 PM IST | Washington
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ بین الاقوامی قوانین کی تعریفیں محض شخصی رائے پر مبنی ہوتی ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی لیڈران پر دباؤ ڈالنے کیلئے فوجی دھمکیوں کے استعمال پر فخر کیا اور کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو کے ساتھ ہوئے حالیہ فون کال کا حوالہ دیا۔
امریکی روزنامے’دی نیویارک ٹائمز‘ کو دیئے گئے ایک طویل انٹرویو میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی طاقت پر اصل قدغن صرف ان کی ”اپنی اخلاقیات“ اور ”اپنا ذہن“ ہیں۔ جمعہ کو شائع ہوئے اس دو گھنٹے کے انٹرویو میں انہوں نے بین الاقوامی قانون کی اہمیت کو بھی مسترد کردیا۔
طاقت کے بے مثال دعوے
جب صدر ٹرمپ سے کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے ان کے اختیارات پر قانونی پابندیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ”مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں ہے۔“ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایسے قوانین کی تعریفیں محض شخصی رائے پر مبنی ہوتی ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی لیڈران پر دباؤ ڈالنے کیلئے فوجی دھمکیوں کے استعمال پر فخر کیا اور کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو کے ساتھ ہونے والی حالیہ فون کال کا حوالہ دیا۔ رپورٹ کے مطابق، پیٹرو نے ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد کہ کولمبیا کو بھی وینزویلا جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ”حقیقی خطرہ“ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ۲۰۲۷ء میں دفاعی بجٹ ۵ء۱؍ ٹریلین ڈالر مقرر کرنے کی تجویز پیش کی
گرین لینڈ کی ’نفسیاتی ضرورت‘
ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ایجنڈے کا مرکزی نقطہ گرین لینڈ کو حاصل کرنا ہے۔ ٹرمپ نے دلیل دی کہ کامیابی کیلئےگرین لینڈ کی ”ملکیت“ حاصل کرنا، نفسیاتی طور پر ضروری ہے۔ ملکیت سے جو کنٹرول ملتا ہے وہ کسی ”لیز یا معاہدے“ سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ”قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔“ انہوں نے اس جزیرے کی اسٹریٹجک اہمیت، معدنی دولت اور میزائیل ڈیفنس کیلئے اس کی ضرورت کا بھی ذکر کیا۔
اس مقصد کے حصول کیلئے امریکی حکام مبینہ طور پر ۶ ارب ڈالر کے ایک منصوبے پر غور کررہے ہیں، جس کے تحت گرین لینڈ کے تمام ۵۷ ہزار باشندوں کو ایک لاکھ ڈالر کی رقم کی براہِ راست ادائیگی کی پیشکش کی جائے گی۔ اس کا مقصد انہیں ڈنمارک سے نکلنے کیلئے راغب کرنا ہے، جس کے بعد ممکنہ طور پر ایک ’آزاد ایسوسی ایشن کا معاہدہ‘ (Compact of Free Association) کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ پر امریکہ کی نظریں، ڈنمارک کا پرانا فوجی قانون اب بھی نافذ العمل
عالمی سطح پر مخالفت
ٹرمپ انتظامیہ کی اس تجویز نے عالمی سطح پر سفارتی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ گرین لینڈ کے وزیرِ اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے سوشل میڈیا پر سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”بس بہت ہوگیا۔ اب الحاق کے بارے میں مزید خیالی باتیں بند ہونی چاہئیں۔“ فرانس اور جرمنی سمیت ۷ یورپی ممالک کے لیڈران نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں زور دیا گیا ہے کہ گرین لینڈ کا مستقبل صرف وہاں کے عوام اور مملکتِ ڈنمارک کے ہاتھ میں ہے۔ شدید مخالفت کے باوجود، وہائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ اگرچہ خریداری کو ترجیح دی جائے گی، لیکن فوجی مداخلت اب بھی ایک ”متبادل“ ہے۔