ارجنٹائنا کی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ لیونیل اسکالونی نے کہا ہے کہ حالیہ ناکامیوں کے باوجود لیونیل میسی پنالٹی کک لینا جاری رکھیں گے، جب تک کہ وہ خود ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کریں۔
EPAPER
Updated: July 11, 2026, 5:06 PM IST | New York
ارجنٹائنا کی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ لیونیل اسکالونی نے کہا ہے کہ حالیہ ناکامیوں کے باوجود لیونیل میسی پنالٹی کک لینا جاری رکھیں گے، جب تک کہ وہ خود ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کریں۔
ارجنٹائنا کی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ لیونیل اسکالونی نے کہا ہے کہ حالیہ ناکامیوں کے باوجود لیونیل میسی پنالٹی کک لینا جاری رکھیں گے، جب تک کہ وہ خود ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کریں۔سوئزرلینڈ کے خلاف میچ سے قبل جمعہ کو پریس کانفرنس میں اسکالونی نے کہاکہ سب سے پہلے تو اگر لیو پنالٹی لینا چاہیں گے تو وہی لیں گے ۔ ہمارے پاس پنالٹی لینے کی صلاحیت رکھنے والے دوسرے کھلاڑی بھی موجود ہیں، لیکن اگر وہ لینا چاہیں گے تو وہی لیں گے۔
This. pic.twitter.com/LBQRhiahEO
— Selección Argentina in English (@AFASeleccionEN) July 7, 2026
یہ بھی پڑھئے:وجے کی آخری فلم ’’جنا نائیگن ‘‘کو A سرٹیفکیٹ، کئی مناظر پر سینسر بورڈ کی قینچی
انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کل وہ عموماً میدان کے وسط میں کھیلتے ہیں، لیکن پوری ٹیم، خاص طور پر ان کے اردگرد کھیلنے والے کھلاڑی، ان ہی کے انداز کے مطابق کھیلتے ہیں۔ یہ ایک فطری بات ہے۔ کھیل کے بہاؤ میں خود بخود ایسا ہو گیا۔ ٹیم نے محسوس کیا کہ وہ اسی جانب سے زیادہ خطرہ پیدا کر رہے تھے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ دوسری سمت ایسے پاس دے رہے تھے جہاں ان کے ساتھی کھلاڑی آسانی سے پہنچ سکتے تھے۔ میرے خیال میں یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے۔
میسی نے مصر کے خلاف ارجنٹائنا کے پہلے گول میں اسسٹ فراہم کی اور پھر خود بھی برابری کا گول کیا۔ اس طرح انہوں نے ٹورنامنٹ میں ۴۱۰؍ منٹ کے دوران بنائے گئے۱۵؍ مواقع میں آٹھ گول اور ایک اسسٹ اپنے نام کیا ہے۔ اگرچہ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں انہیں کچھ مشکلات کا سامنا رہا، تاہم گزشتہ دو ورلڈ کپ میں انہوں نے ۳۶؍ مواقع میں ۱۵؍ گول کیے اور چار اسسٹ بھی فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھئے:موناکو ڈائمنڈ لیگ: سرویش کشارے نے تیسرا مقام حاصل کیا
۳۹؍برس کی عمر کے باوجود اسکالونی کا کہنا ہے کہ انہیں میسی کی جسمانی کارکردگی میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ ’’ میسی آج بھی تقریباً اتنا ہی دوڑتے ہیں جتنا وہ ہمیشہ دوڑتے آئے ہیں ۔ ایسا نہیں کہ اب وہ پہلے سے زیادہ یا کم دوڑ رہے ہوں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب وہ جو بھی کرتے ہیں زیادہ پختگی اور عزم کے ساتھ کرتے ہیں ۔ شاید یہ بات ان لوگوں کے لیے حیران کن ہو جو انہیں اچھی طرح نہیں جانتے اور سمجھتے تھے کہ ۳۹؍ سال کی عمر میں وہ اس معیار پر نہیں ہوں گے۔ میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ جب تک ان میں کھیلنے کی خواہش موجود ہے، وہ بہترین کھلاڑی رہیں گے۔ میرا یہی یقین ہے، اور یہ صرف اس لیے نہیں کہ میں ان کا کوچ ہوں۔ جب تک ان کا جذبہ برقرار ہے، وہ دنیا کے بہترین کھلاڑی رہیں گے۔