Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا دعویٰ: امریکہ کے پاس ایرانی پیسے کا مکمل کنٹرول ہے، خود کو تہران کا ”بینکر“ قرار دیا

Updated: August 12, 2026, 6:04 PM IST | Washington

ٹرمپ نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری فوجی تنازع کے دوران واشنگٹن کے پاس ایران کے پیسے کا ”مکمل کنٹرول“ ہے۔ انہوں نے خود کو تہران کا بینکر قرار دیا۔ انٹرویو کے دوران، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے ملک میں ۳۰۰ فیصد افراطِ زر کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایرانی کرنسی کی کوئی قدر ہی نہیں ہے۔

Donald Trump. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری فوجی تنازع کے دوران واشنگٹن کے پاس ایران کے پیسے کا ”مکمل کنٹرول“ ہے۔ انہوں نے خود کو تہران کا بینکر قرار دیا۔ ٹی وی ہوسٹ وین ایلن روٹ (Wayne Allyn Root) کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم ان کے پیسے کو کنٹرول کرتے ہیں، جو ان کے پاس تھا، جو بہت زیادہ ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمارا اس پر مکمل کنٹرول ہے۔ میں ان کا بینکر ہوں۔“

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری

انٹرویو کے دوران، ٹرمپ نے ایران کی معیشت کو شدید بحران کا شکار قرار دیا۔ انہوں نے ۳۰۰ فیصد افراطِ زر کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایرانی کرنسی کی ”تقریباً کوئی قدر نہیں ہے۔“ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنے سپاہیوں کو تنخواہیں دینے کیلئے جدوجہد کر رہا ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”بس اسے یوں ہی چلنے دیں۔ یہ قائم رہنے کے قابل نہیں ہے۔“

امریکی صدر نے ایران کے بارے میں تین ممکنہ حکمتِ عملیوں کی نشان دہی کی: موجودہ دباؤ کو برقرار رکھنا، اسلامی ملک پر ”بہت، بہت سخت“ حملہ کرنا یا بنیادی طور پر معاشی دباؤ پر انحصار کرنا۔ انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں پر بددیانتی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ”وہ بہت مکار مذاکرات کار ہیں کیونکہ وہ کسی بات پر اتفاق کریں گے، پھر باہر جا کر پریس کو بتائیں گے کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ بہت بددیانت لوگ ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ تیسرا متبادل یعنی مسلسل معاشی دباؤ پر پہلے سے ہی عمل درآمد جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ’’نو مارک پروجیکٹ‘‘ ملک میں لگائے گئے ایک لاکھ سے زائد اے آئی کیمرون کو ہٹانے کیلئے سرگرم

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ تنازع کیسے ختم ہوسکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی کارروائی نے تہران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے پہلے ہی روک دیا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ”میں اس معاملے میں ایک بنیادی وجہ سے ہوں کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK