Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری

Updated: August 11, 2026, 10:07 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران سے ان نقصانات کا معاوضہ طلب کیا ہے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی وجہ سے امریکی شہریوں اور فوجیوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو واشنگٹن کی جانب سے جنگی ہرجانے کی ادائیگی سے مشروط کر دیا ہے۔

US President Donald Trump. Photo: INN. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران سے ان نقصانات کا معاوضہ طلب کیا ہے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی وجہ سے امریکی شہریوں اور فوجیوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو واشنگٹن کی جانب سے جنگی ہرجانے کی ادائیگی سے مشروط کر دیا ہے۔ٹرمپ نے پیر کو وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران سے۵۰؍ سال کے نقصانات کا معاوضہ طلب کرے گی۔ انہوں نے اسے تہران کے مطالبے کے براہِ راست جواب کے طور پر پیش کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے اہم ملاقات کی

واضح رہے کہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک امریکہ جنگی ہرجانہ ادا کرنے اور پابندیاں ختم کرنے پر رضامند نہیں ہوتا۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، تاہم ٹرمپ کے نئے مطالبات آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ’’ ایران نے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے لیے معاوضہ مانگا ہے اور ان کے بقول انہوں نے جواب دیا، یہ ایک اچھا خیال ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ بھی ایران سے گزشتہ۵۰؍ سالوں کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ طلب کرے گا۔
ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاوضے میں خطے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتیں بھی شامل ہوں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ایران میں۵۲؍ ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ جنوری میں ملک بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تقریباً۳۱۱۷؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ مظاہرے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے قبل ہوئے تھے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) نے فروری میں تقریباً۷؍ ہزار ہلاکتوں کی خبر دی تھی، جن میں ۶۵۰۰؍ مظاہرین شامل تھے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اکتوبر ۲۰۰۰ءمیں یمن میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے۱۷؍ امریکی ملاحوں کے خاندانوں کو بھی معاوضہ دینا چاہیے۔ حالانکہ اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ پر عائد کی گئی تھی، نہ کہ ایران پر۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی لکھا کہ ایران کو لبنان، شام، یمن اور غزہ میں لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات اور ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی خطرے کے پیش نظر ٹرمپ نے ترکی سے خفیہ فوجی طیارے میں سفر کیا

مزید برآں ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے ٹرمپ نے بارہا سخت فوجی کارروائی کی دھمکیوں اور امن معاہدہ قریب ہونے کے دعووں کے درمیان اپنا مؤقف تبدیل کیا ہے۔گزشتہ ہفتے انہوں نے ایران کو بہت سخت حملے کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد میں پیچھے ہٹتے ہوئے اشارہ دیا کہ امن معاہدہ قریب ہے۔ اس کے علاوہ اس ہفتے کے آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ تنازع سے متعلق اپنا طریقہ کار کی شدت میں کمی کر رہے ہیں اور مزید فوجی حملوں کے بجائے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانےکیلئے کوشاں ہیں۔
 بعد ازاں امریکی صدر براک اوباما کے سابق خصوصی معاون چارلس کپچن نے ٹرمپ کے معاوضے کے مطالبے کوسیاسی بیان بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق معاہدہ کرنے میں اپنا مفاد عزیز  رکھتے ہیں۔ان کے مطابق ایران اپنے تیل کی برآمد جاری رکھے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، جبکہ ٹرمپ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل گیس کی بلند قیمتوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہونے کی اطلاعات کے باعث پینٹاگون پر بھی دباؤ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK