امریکی سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دے دیا، چند دن بعد کہ موجودہ صدر نیکولس مادورو کو امریکی فورسز نے گرفتار کر لیا تھا۔ یہ دعویٰ کسی بین الاقوامی ادارے یا وینزویلا کی سرکاری حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 2:04 PM IST | Washington
امریکی سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دے دیا، چند دن بعد کہ موجودہ صدر نیکولس مادورو کو امریکی فورسز نے گرفتار کر لیا تھا۔ یہ دعویٰ کسی بین الاقوامی ادارے یا وینزویلا کی سرکاری حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دے دیا ہے اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک تصویر میں دکھایا گیا، جس میں ان کا پورٹریٹ اور ان کی مدتِ صدارت ’’Incumbent January 2026‘‘ کے طور پر درج ہے۔ یہ تصویر وکی پیڈیا کے انداز میں تیار کی گئی تھی، تاہم، حقیقت میں کسی بین الاقوامی ادارے یا وینزویلا کی سرکاری ویب سائٹ نے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ اعلان اس کے چند دن بعد سامنے آیا جب امریکی فورسز نے وینزویلا کے موجودہ صدر نیکولس مادورو اور ان کی بیوی کو گرفتار کر کے نیو یارک منتقل کیا تاکہ وہ وفاقی عدالت میں منشیات اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کریں۔ مادورو نے خود کہا کہ انہیں ’’اغوا‘‘ کیا گیا ہے۔ اس کارروائی پر چین، روس، کولمبیا اور اسپین نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ٹروتھ سوشل پر کی گئی پوسٹ کا اسکرین شاٹ۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ وینزویلا کو عارضی طور پر چلا رہا ہے اور ملک کے تیل کے ذخائر کی نگرانی بھی کرے گا۔ انہوں نے امریکی تیل کمپنیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ہدایت دی اور عبوری حکومت کے ساتھ ۵۰؍ملین بیرل خام تیل امریکہ بھیجنے کا معاہدہ کیا۔ وینزویلا میں مادورو کی نائب، ڈیلسی روڈریگز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا اور امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے مادورو کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ٹرمپ نے رودریگز کو دھمکی دی کہ اگر وہ تعاون نہیں کریں تو انہیں مادورو سے بھی شدید نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی سیاست میں ہنگامہ خیز قرار دی گئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی کارروائی پر شدید تنقید کی گئی ہے۔