Updated: January 06, 2026, 8:01 PM IST
| Tehran
ایران میں معاشی بدحالی کے خلاف ہونے والے دکانداروں کے احتجاج نے ملک گیر حیثیت حاصل کرلی ہے، گزشتہ ۹؍ دنوں سے جاری ان مظاہروں کے خلاف حکومتی اقدام کے خلاف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دی ہےکہ اگر مظاہرین کے خلاف سختی کی گئی تو وہ مداخلت کریں گے، اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے بھی خونریزی سے بچنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران میں جاری مظاہرے کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
ایران میںگذشتہ ہفتے سے جاری وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہروں نے ملک گیر حیثیت اختیار کرلی ہے۔ یہ احتجاج جس کی شروعات تہران میں دکانداروں کی معاشی شکایات سے ہوئی اور تیزی سے فارس اور لورستان جیسے صوبوں کے دور دراز شہروں تک پھیل گیا۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے جمعہکو یہ دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکہ احتجاج کو ہوا دے رہے ہیں۔ جبکہ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹرمپ کی مداخلت کی دھمکی خطے میں امریکی اڈوں کو ’’جائز ہدف‘‘ بنا دیتی ہے۔ بعد ازاں ایران نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کی امریکی کارروائی کو ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ماسکو منتقل ہو سکتے ہیں: دی ٹائمز
دریں اثناءتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جون میں اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے سے پہلے بھی، ایران کی معیشت زوال کا شکار تھی، پابندیوں، بڑھتی ہوئی افراط زر اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی سے تباہ حال تھی، جس کی وجہ سے خاندانوں کی بچت کی قدر گرنے سے ان کا گزارہ کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ملک کے مسائل میں پچھلے سال پانی اور توانائی کے بحران نے مزید اضافہ کیا جس کی وجہ سے نل خشک ہو گئے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوئی۔سرکاری میڈیا کے مطابق، صدر پیزشکیان نے جمعرات کو ایران کے وسطی صوبے چہارمحال و بختیاری کے اہلکاروں سے ملاقات کرتے ہوئے کہا، ’’اگر لوگ ناخوش ہیں تو اس کی ذمہ داری ہم پر اور آپ پر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ یا کسی اور کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش نہ کریں۔ ہمیں مناسب طریقے سے خدمت کرنی چاہیے تاکہ لوگ ہم سے مطمئن ہوں۔‘‘اسی دوران ناروے میں رجسٹرڈ ایک کرد نگران ادارے نے جمعرات کو خبر دی کہ چہارمحال و بختیاری میں دو مظاہرین سیکیورٹی فورسیز کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: صورتحال کشیدہ، انٹرنیٹ معطل، بین الاقوامی ردِ عمل
بعد ازاں اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں ایرانی مطالعاتی پروگرام کے ڈائریکٹر عباس میلانی نے این بی سی نیوز کو فون انٹرویو میں بتایا، ’’میرے خیال میں حکام غصے کی نوعیت کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سب کرنسی کے گرنے اور افراط زر کی وجہ سے ہے۔جبکہ میلانی کے مطابق اس کی متعدد وجوہات ہیں۔تاہمخبروں کے مطابق احتجاج کے دوران ۱۰؍ افراد کی ہلاکت کی خبر ہے، جن میں شمال مغربی ایران کے صوبہ کرماشان میں جمعہ کے روز سیکیورٹی فورسیزکے ہاتھوں ہلاک ہونے والا ایک شخص بھی شامل ہے۔تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ٹرمپ کی مداخلت کی دھمکیاں مظاہرین کی حوصلہ افزائی کریں گی یا سیکیورٹی فورسیز کو پر تشدد مظاہرین کے ساتھ نرمی برتنے پر مجبور کریں گی۔
جبکہ چیٹ ہم ہاؤس کی وکیل نے کہا،’’ لوگ امریکی مداخلت کے دھمکی پر محدود حد تک اعتماد کر سکتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ امریکہ شاید محض زبانی جمع خرچ سے زیادہ عملی حمایتی ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ مایوس ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ ان نتائج اور مفادات پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے جو امریکہ کو فائدہ پہنچاتے ہیں اوروہ ایرانی عوام کے ساتھ حقیقی طور پر ہمدردی نہیںرکھتا۔‘‘پھر بھی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آیا احتجاج پھیلے گا اور جاری رہے گا یا پھر۲۰۲۲ء اور۲۰۲۳ء کی طرح اس پر قابو پالیا جائے گا ، اور یہ زیادہ تر اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے بڑے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی مرضی پر منحصر ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا کی حمایت میں عالمی برادری نےآواز بلند کی
اس دوران اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے پیر کو نیویارک میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ایران میں جاری مظاہرے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیاہے۔اور اقوام متحدہ کے سربراہ کے حوالے سے کہا کہ انٹونیو غطریس نے مظاہروں کے دوران مزید جانی نقصان روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ حکام سے اظہار رائے، اجتماع اور پرامن احتجاج کے حق کو برقرار رکھنے کی بھی اپیل کرتے ہیں۔ تمام افراد کو پرامن احتجاج اور اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘‘غطریس نے ایران اور خطے میں تمام فریقین کی جانب سے ایسی کارروائیوں سے گریز کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے جو کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں اور عدم استحکام میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب ایران نےامریکہ کی مداخلت کی دھمکی کے جواب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سیکورٹی کونسل کو خط لکھ کر تہران کوغیر قانونی دھمکی دئے جانے کی مذمت کرنے کی اپیل کی۔