امریکی صدر چاہتے ہیں کہ تہران پر معاشی دبائو ڈالا جائے ، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم اس پر حملے میں شدت لانے پر یقین رکھتے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 11:34 AM IST | Washington
امریکی صدر چاہتے ہیں کہ تہران پر معاشی دبائو ڈالا جائے ، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم اس پر حملے میں شدت لانے پر یقین رکھتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حال ہی میں امریکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے وہائٹ ہائوس میں ملاقات ہوئی۔ دونوں لیڈران نے ایران پر دبائو ڈالنے سے متعلق گفتگو کی۔ اسرائیل کا زور اس بات پر رہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ تہران پر سفارتی دبائو بنایا جائے اور عالمی پابندیوں کے ذریعے جھکنے پر مجبور کیا جائے۔ دونوں لیڈران کے درمیان ۹۰؍ منٹ کی گفتگو ہوئی جس کی تفصیل براہ راست باہر نہیں آئی۔
ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنا ایران پر مزید شدید دباؤ ڈالنے کی پالیسی سے متصادم ہے۔اہلکار کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ بغیر کسی واضح طریقہ کار کے ان دونوں اہداف کو ایک ساتھ کیسے حاصل کیا جائے۔ صحافیوں کو واشنگٹن میں بریفنگ دیتے ہوئے اہلکار نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت، اگرچہ گزشتہ چار مہینوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے پہنچائے گئے سخت ترین حملوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی ہے، تاہم وہ ظاہری شکل سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔ ایران کو اس وقت بے مثال معاشی بحران کے ساتھ ساتھ دوبارہ ابھرنے والے محدود احتجاجی مظاہروں کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایرانی قیادت کو معاشی صورتحال کی وجہ سے بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج بھڑکنے کا شدید خوف ہے۔ ان کے اپنے تخمینے کے مطابق ایران میں مہنگائی کی شرح تقریباً ۹۰؍ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اہلکار نے نشاندہی کی کہ نیتن یاہو نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایرانی حکومت کے خاتمے کا ایک حقیقی امکان کے طور پر ذکر کیا تھا لیکن موجودہ اندازہ زیادہ محتاط نظر آتا ہے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ موجودہ حالات میں غیر مسلح شہری احتجاج کے ذریعے نظام کی تبدیلی خود بخود نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: اوپن اے آئی: ایک لاکھ محققین کو طاقتور ترین اے آئی ماڈل تک مفت رسائی کا اعلان
اہلکار نے انکشاف کیا کہ اپنی حالیہ ملاقات کے دوران نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر سفارتی اور جنگی دونوں طرح سے دبائو ڈالنے پر گفتگو کی۔تہران پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے کے تعلق سے بھی گفتگو ہوئی۔ حالانکہ ڈونالڈ ٹرمپ جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔ اس کی وجہ سے خطے کے دیگر ممالک کو بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جو کہ امریکہ کے دوست ہیں جبکہ نیتن یاہو کا خیال ہے کہ وقت رہتے ایران کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس کے نیوکلیئر ٹھکانوں کو تباہ کر دیا جائے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگلے اقدامات سے متعلق حتمی فیصلہ امریکی صدر کے ہاتھ میں ہے لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کرنے میں پہل کی تو نیتن یاہو امریکی منظوری کا انتظار نہیں کریں گے۔اہلکار نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اب تک اسرائیل کے خلاف نئے حملے سے تذبذب کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا جواب تباہ کن ہوگا اور خود ان کے بقول اسرائیل تہران کے خلاف ایک حد تک مزاحمت قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ مسلسل ایران سے مذاکرات بھی کر رہا ہے اور اس پر حملے بھی کر رہا ہے۔