اوپن اے آئی سائنسی دریافت کو تیز کرنے کے لیے ایک لاکھ محققین کو اپنے طاقتور ترین اے آئی ماڈلز تک مفت رسائی دینے کا اعلان کیا ہے، اوپن اے آئی نے تعلیمی محققین کے لیے چیٹ جی پی ٹی ۵؍ اعشاریہ ۶؍ سول پرومتعارف کروا دیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 11:00 AM IST | New York
اوپن اے آئی سائنسی دریافت کو تیز کرنے کے لیے ایک لاکھ محققین کو اپنے طاقتور ترین اے آئی ماڈلز تک مفت رسائی دینے کا اعلان کیا ہے، اوپن اے آئی نے تعلیمی محققین کے لیے چیٹ جی پی ٹی ۵؍ اعشاریہ ۶؍ سول پرومتعارف کروا دیا ہے۔
اوپن اے آئی سائنسی دریافت کو تیز کرنے کے لیے ایک لاکھ محققین کو اپنے طاقتور ترین اے آئی ماڈلز تک مفت رسائی دینے کا اعلان کیا ہے، اوپن اے آئی نے تعلیمی محققین کے لیے چیٹ جی پی ٹی متعارف کروا دیا ہے، جس کے تحت۲۰۲۷ء تک ایک لاکھ محققین کو جی پی ٹی۵؍ اعشاریہ ۶؍ سول پرو، سائنسی اے آئی ٹولز اور کوڈنگ معاونت تک مفت رسائی فراہم کی جائے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام جدید ترین اے آئی کو محققین کے ہاتھ میں دے کر سائنسی دریافتوں کو تیز کرنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی فوجیوں سے فون واپس لینے پرغور، ایران ان کی مدد سے حملے کررہا ہے: سینٹ کوم
واضح رہے کہ اوپن اے آئی اپنی جدید ترین اے آئی کو تحقیقی لیبارٹریوں تک پہنچانے کے لیے اب تک کا سب سے بڑا قدم اٹھا رہی ہے۔ کمپنی نے چیٹ جی پی ٹی برائے تعلیمی محققین کا اعلان کیا ہے ، یہ پروگرام اہل یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ایک لاکھ محققین کو اپنے جدید ترین اے آئی ماڈلز تک مفت رسائی فراہم کرے گا۔ اس کا مقصد ہے کہ سائنسدانوں کو اے آئی استعمال کرنے دیا جائے تاکہ وہ ان مسائل کو حل کریں جنہیں وہ خود بہتر جانتے ہیں، بجائے اس کے کہ اوپن اے آئی خود فیصلہ کرے کہ کس موضوع پر تحقیق ہونی چاہیے۔بعد ازاں اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ’’ کمپنی ایسے ماڈلز کے بہت قریب ہے جو سائنسی دریافت کو نمایاں طور پر تیز کریں گے‘‘اور ’’اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم سائنسدانوں کو بااختیار بنائیں، نہ کہ خود ہر چیز کا پتہ لگانے کی کوشش کریں۔‘‘
بعد ازاں اس موسم گرما میں ۱۰؍ ہزار محققین کے ساتھ اس کا آغاز ہوگا، پھر۲۰۲۷ء تک ایک لاکھ شرکاء تک توسیع کی جائے گی۔ اہل محققین کو جی پی ٹی۵؍ اعشاریہ ۶؍ سول پرو اوپن اے آئیکے استدلالی ماڈل تک رسائی ملے گی اور وہ اسی ادارے سے چار ساتھیوں کو مدعو کر سکیں گے۔ چیٹ جی پی ٹی کے علاوہ، اس پیکیج میں جینیٹکس، جینومکس، پروٹین ماڈلنگ اور منشیات کی دریافت کا احاطہ کرنے والی ۷۵ ؍سے زیادہ مخصوص حیاتیاتی علوم کی مہارتیں شامل ہیں۔ جبکہ محققین کو سائنسی مقالات، جینومک ڈیٹا بیسز، سیٹلائٹ امیجری اور کمپیوٹیشنل نوٹ بک سے منسلک ٹولز بھی ملیں گے، اس کے ساتھ کوڈیکس اوپن اے آئی کا کوڈنگ اسسٹنٹ جو ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور تحقیقی سافٹ ویئر لکھنے کے لیے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میانمار: آن لائن فراڈ کے خلاف سخت ترین قانون منظور، سنگین جرائم پر سزائے موت
اس تعلق سے کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے تازہ ترین ماڈلز تحقیقی سطح کے استدلال کو سنبھالنے کے قابل ہوتے جا رہے ہیں۔ اوپن اے آئی کے مطابق، جی پی ٹی سول نے فرنٹیئر میتھ ٹائر ۴؍ میں ۸۳ فیصد اسکور حاصل کیا، جبکہ اس کے گزشتہ ماڈل کا اسکور۷۲؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد تھا۔ جینو بینچ پرو پر، جو حیاتیاتی ڈیٹا کے تجزیے کی پیمائش کرتا ہے، یہ ماڈل ۳۱؍ فیصد سے زیادہ پیچیدہ کام مکمل کرتا ہے۔ مزید برآں اوپن اے آئی تربیتی سیشن بھی فراہم کرے گی تاکہ محققین ان ٹولز کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا سیکھ سکیں۔
واضح رہے کہ یہ اقدام اوپن اے آئی کے ۲۰۲۷ء تک سائنسی تحقیق کے لیے ۲۵۰؍ ملین ڈالر کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ نیکسٹ جین اے آئی اور امریکی محکمہ توانائی کے جینیسس مشن کے ساتھ کمپنی کی شراکت سمیت پروگراموں پر استوار ہے، جو اے آئی کو محض چیٹ بوٹ کے بجائے تحقیقی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی بڑھتی ہوئی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ اس موقع کے اہل اداروں کے لیے درخواستیں کھلی ہیں جن کے پاس قائم شدہ تحقیقی پروگرام ہیں۔